فردوس عاشق اعوان نے لابنگ کے ذریعے وزارت حاصل کی تھی، فواد چوہدری کا دعویٰ

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ فردوس عاشق اعوان نے لابنگ کے ذریعے وزارت حاصل کی تھی اور ان میں وزارت اطلاعات سنبھالنے کی اہلیت نہیں تھی۔

اردو نیوز کو انٹرویو کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ ‘فردوس عاشق اعوان نے لابنگ کے ذریعے وزارت تو لے لی لیکن عہدہ لینا ہی نہیں ہوتا بلکہ خود کو ثابت بھی کرنا ہوتا ہے، وہ کبھی بھی اس اہل نہیں تھیں کہ اس وزارت کو چلا سکتیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اطلاعات کا عہدہ ایک بہت بڑا عہدہ ہے اور فردوس عاشق اعوان کے اس عہدے پر رہنے سے تحریک انصاف کی حکومت اور وزیر اعظم آفس کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ ایک سال طویل عرصہ تھا ان کو بہت پہلے ہٹا دینا چاہیے تھا۔’

یاد رہے کہ 27 اپریل کو فردوس عاشق اعوان سے معاون خصوصی اطلاعات کا عہدہ واپس لے لیا گیا تھا اور ان کی جگہ سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ کو یہ عہدہ دے دیا گیا تھا۔

تحریر جاری ہے‎

ساتھ ہی پی ٹی آئی رہنما سینیٹر شبلی فراز کو وزیر اطلاعات و نشریات کا قلمدان سونپ دیا گیا تھا۔


‘عاصم باجوہ سے شبلی فراز کو مدد ملے گی’
وفاقی وزیر وزارت اطلاعات میں عاصم سلیم باجوہ کی شمولیت سے متعلق کہا کہ ’عاصم سلیم باجوہ نے اطلاعات کے ادارے بنائے ہیں اور میڈیا کے حوالے سے سارے کام ان کو آتے ہیں اس لیے وزارت اطلاعات میں ان کی شمولیت سے شبلی فراز کو بڑی مدد ملے گی۔‘

ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں نرمی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘دوا ساز کمپنیوں نے کہا ہے کہ اگلے سال ستمبر سے پہلے ویکسین کی تیاری ممکن نہیں تو آپ ڈیڑھ سال ملک بند تو نہیں کر سکتے، اس لیے آپ کو صوبوں اور ماہرین کے ساتھ مل کر فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کن شعبوں میں نرمی کرنی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر اس پر فیصلے کیے جاتے ہیں۔’

‘این 95 ماسکس کے علاوہ ہر چیز برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں’
کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے وزارت سائس و ٹیکنالوجی کے اقدامات سے متعلق فواد چوہدری نے کہا کہ ‘پاکستان، کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے حفاظتی کٹس برآمد کرنے جا رہا ہے، ایک سال کے اندر طبی شعبے میں اتنے خود کفیل ہوجائیں گے کہ ہم وینٹی لیٹرز سمیت دیگر میڈیکل ڈیوائسز برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب پاکستان میں 26 فروری کو کورونا کا پہلا کیس آیا تو ہم کوئی بھی چیز اپنی نہیں بنا رہے تھے اور ہینڈ سینیٹائزرز کی قلت پیدا ہوچکی تھی، لیکن اب حفاظتی کٹس اور ہینڈ سینیٹائزرز میں اتنے خود کفیل ہو چکے ہیں کہ کابینہ نے برآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے اور این 95 ماسکس کے علاوہ تقریباً ہر چیز برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’وینٹی لیٹرز کے 58 ڈیزائنز موصول ہوئے جس میں سے 13 شارٹ لسٹ کیے گئے اور اب 7 ڈیزائنز لائسنسنگ کے مرحلے میں ہیں جن کے ٹرائلز کیے جارہے ہیں۔’