کیا کوویڈ 19 نے کھیل تبدیل کر دیا؟

یک رکنی سیاسی جماعت کے چیف، شیخ رشید اسٹبلشمنٹ اور پاکستان تحریک انصاف کی بیک وقت نمائندگی کرتے ہیں۔ لیکن جب مذکورہ دھڑے ایک صفحے پر نہیں ہوتے، جیسا کہ آج کل، توشیخ صاحب کی ذو معانی گفتگو طرفین کا دل مو لیتی ہے۔ ایسی خدمات میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ آج کل شیخ صاحب کی مصروفیات دوچند ہیں۔ چنانچہ اُن کے حالیہ بیان کی پس پردہ سچائی حیران کن ہے۔ فرمایا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان کو میڈیااور اپوزیشن کے ساتھ تعلقات بہتربنانے کا مشورہ دیں گے کیونکہ کوویڈ 19 کے خلاف جنگ میں ”قومی اتحاد“ کی ضرورت ہے۔ اسٹبلشمنٹ یہی چاہتی ہے۔ دوسری سانس میں شیخ رشیدنیب کو ”شہبازشریف کو گھسیٹ کر احتساب عدالت کے سامنے پیش کرنے“ کا مشورہ دیتے ہیں کیونکہ”شہباز شریف اپنی مرضی سے عدالت کے سامنے نہیں جائیں گے“۔ عمران خان کی یہی مرضی ہے۔

تاہم عمران خان کی اپوزیشن اور میڈیا کے خلاف بے لچک منتقم مزاجی نے شیخ کے مقدس مشن کی ناؤ ڈبو دی۔ عمران خان کے جانبازسندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے خون کے پیاسے ہیں۔ میڈیا نے مراد علی شاہ کی سندھ میں کورونا کنٹرول سعی کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کی مبہم کورونا پالیسی پر تنقید کی ہے۔ وزیر اعظم قومی اسمبلی کا اجلاس نہیں چاہتے مبادا اپوزیشن اُن کی پالیسی کو آڑھے ہاتھوں لے۔ اب اپوزیشن نے وزیراعظم پر الزام لگایا ہے کہ اُنھوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لینے اور اُن کا منہ بند کرنے کے لیے نیب کو شہ دی ہے۔

الیکٹرانک میڈیا کے سر پر پیمرا کی لاٹھی برسنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ شنید ہے کہ چیئرمین پیمرا کو کسی بھی ٹی وی چینل کا لائسنس معطل کرنے کا سوؤموتو اختیار ملنے جارہا ہے۔ ایسا اختیار پیمرا رولز کے برعکس ہوگا۔ رولزکہتے ہیں کہ کسی بھی چینل کے خلاف شکایت وصول ہونے کے بعد ہی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔ اس صورت میں بھی مدعا علیہ کو اپنا دفاع کرنے اور اپنے موقف کی وضاحت کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ نیز دیگر ممبران سے مشاورت کے بعد ہی چیئرمین پیمراکوئی کارروائی کرسکتے ہیں۔

اندر کی بات جاننے والے ایک صاحب کے مطابق مجوزہ ترمیم کے تحت”پیمرا کے چیئرمین مشاورت کے بغیر کسی بھی چینل کی نشریات معطل کرسکیں گے۔ بس اُن کے حکم نامے کی ایک کاپی سپارکو(SUPARCO)، جو پاک سیٹ آپریٹ کرتا ہے، کو بھیجی جائے گی کہ چینل کی نشریات روک دی جائیں۔ اس کے بعد پی ٹی سی ایل اور کیبل آپریٹرزکو احکامات جاری کیے جائیں گے۔ یہ سب کارروائی چند گھنٹوں میں مکمل ہوجائے گی۔“ اگر ایساکوئی حکم جمعہ کو آتا ہے تو اس کی ز د میں آنے والا چینل حکم امتناع حاصل کرنے کے لیے سوموار سے پہلے ہائی کورٹ سے رجوع نہیں کرسکے گا۔ فرض کریں اُسے عدالت سے ریلیف مل جائے تو بھی پاک سیٹ اور کیبل آپریٹرز اُسے چند ہفتوں تک پہلے والے نمبر پر بحال نہیں کریں گے۔ اس طرح وہ چینل مالی خسارے کی کھائی میں جا گرے گا۔ اُس کے پاس باس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔

عمران خان کا اصرار ہے کہ پاکستانی میڈیا دنیا کا ”آزاد ترین“ میڈیا ہی نہیں، انتہائی فتنہ پرور اور ہر قسم کے احتساب سے باہر بھی ہے۔ اس کے باوجود کوئی ملکی یا غیر ملکی میڈیا واچ ڈاگ، یا آزاد اخبار یا چینل ایسا نہیں جس نے عمران خان کی نگرانی میں میڈیا کی خوفناک ابتلا کا دستاویزی ثبوت اکٹھا نہ کیا ہو۔ ”جمہوری“ پاکستان میں غیر معمولی زبان بندی اور میڈیا پر انتہائی سخت گرفت کے تازہ ترین حوالے دودرجن کے قریب ہیں۔ ان میں یورپی یونین سمیت بہت سی ساکھ رکھنے والی آوازیں بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ،جنگ اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کی حراست اس کا حالیہ ثبوت ہے۔ اُن کے خلاف نیب نے 1986 ء کا ایک کیس ڈھونڈ نکالا۔ اگر اُنہیں اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت مل جائے تو بھی وہ ملک چھوڑ کرمتحدہ عرب امارات نہیں جاسکتے جہاں اُن کے اہل خانہ رہتے ہیں۔ اگر جنگ اور جیوگروپ جیسے طاقتور میڈیا ہاؤس کے ساتھ اس قسم کا سلوک کیا جاسکتا ہے تو ذرا تصور کریں کہ چھوٹے گروپس کے ساتھ کیا کچھ نہیں ہوسکتا۔ امر واقعی یہ ہے کہ ملک میں صرف چند ایک آزاد صحافی باقی رہ گئے تھے۔ اُن کی یاتوزبان بند ی کردی گی ہے یا چینلوں نے دباؤ کے تحت اُنہیں نکال دیا ہے۔ اب وہ محض اپنا یوٹیوب چینل چلا کر گزارہ کررہے ہیں۔

تین ماہ پہلے میڈیا ایسی قیاس آرائیوں سے بھرا ہوا تھا کہ عمران خان کے ہاتھوں وقت نکلا جارہا ہے کیونکہ اسٹبلشمنٹ کو اپنی مبینہ ”سلیکشن“ کی غلطی کا احساس ہوگیا ہے۔ چنانچہ اب کسی قسم کی قومی حکومت بنا کر عمران خان سے جان چھڑانے جارہی ہے۔ تاہم اس میں رکاوٹ صرف یہ آگئی کہ نواز شریف نے کسی قسم کی ڈیل کرنے سے انکار کردیا۔ اُن کا صرف ایک ہی مطالبہ تھا کہ آزاد اورشفاف انتخابات کرائے جائیں اور اسٹبلشمنٹ عہد کرے کہ آئندہ سیاست سے دور رہے گی۔

تاہم کوویڈ 19 کی آمد نے صورت حال یکسر تبدیل کردی۔ جس دوران مشرق اور مغرب، دونوں سرحدوں پر فوج کی توجہ مرکوز تھی کویڈ19 نے ریاست اور معاشرے کو ایک نئے خطرے سے دوچار کردیا۔ معیشت سر کے بل آرہی۔ اس صورت ِحال میں کسی قسم کی تبدیلی ناممکن ہوگئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کوویڈ 19 حمایت کے پیمانے کو کسی سمت بھی جھکا سکتا ہے۔ اگر عمران خان کی لاک ڈاؤن مخالف پالیسی کامیاب رہی تو وہ میدان میں رہیں گے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا اور ملک میں بیماری کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ بھوک، بے روزگاری، ہڑتالیں، ہنگامے اور افراتفری پھیل گئی، یا معیشت کا سانس لینا دوبھر ہوگیا تو پھر آخری فیصلہ اسٹبلشمنٹ کی میز پر ہوگا۔

Fridaytimes-najam-sethi