کرکٹ میں جشن کا انداز کرونا وائرس کی نذر ہونے کا خدشہ

دنیا بھر میں حملہ کرنیوالے مہلک کورونا وائرس کے سبب ماہرین نے کرکٹ کھلاڑیوں کو روایتی جشن کا انداز تبدیل کرنیکی تجویز پیش کی ہے۔ ‏کرونا وائرس کی وجہ سے اس وقت طرز زندگی میں تبدیلیاں آ رہی ہیں، اگرچہ کھیلوں کی سرگرمیاں التواء کا شکار ہیں لیکن کھیلوں کی سرگرمیوں کو آہستہ آہستہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ شروع کرنیکی پلاننگ ہو رہی ہے۔
اس سلسلے میں کرکٹ کے میدان میں اختیار کی جانیوالی احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ماہرین کی آراء سامنے آ رہی ہیں۔ اس وقت جہاں گیند کو تھوک یا پسینے سے چمکانے کی پابندی کی بات ہو رہی ہے وہاں کھیل کے روایتی جشن منانے پر بھی پابندی کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر روایتی جشن کی ممانعت ہونی چاہیے یعنی بولرز کے وکٹ حاصل کر کے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ جشن منانے، ہائی فائیو کرنے اور سروں پر ہاتھ پھیرنے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح فیلڈرز کا ہاتھ پر ہاتھ مارنا اور بیٹسمینوں کا سنچری یا ڈبل سنچری مکمل کرنے کے بعد گلے ملنا بھی شامل ہے۔ ‏پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان اظہر علی کہتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں بہت کچھ بدل جائیگا،کھیلوں کی دنیا میں بھی بہت بدلاؤ آئیگا، روایات میں کیا کیا تبدیلیاں ہوں گی اور ہونی چاہئیں یا نہیں اس سے ہٹ کر پہلا فوکس کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی ہونا چاہیے۔
اظہر علی نے کہا کہ میں ہمیشہ روایتی چیزوں کے حق میں رہا ہوں لیکن کھیل کی بحالی کے لیے کچھ بدلنا پڑتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، روایات کچھ عرصے کے لیے بدلی بھی جا سکتی ہیں، اس سے یقینی طور پر کھیل کے حسن پر فرق تو پڑیگا لیکن آگے بھی تو بڑھنا ہے۔ ‏فاسٹ بولر وہاب ریاض نے کہا کہ فیلڈ میں جشن منانا بڑی محنت کے بعد وکٹ حاصل کرنیکی خوشی منانا ہے، جشن منانے پر پابندی ہو گی تو خوشی کا اظہار نہیں کر پائیں گے۔
وہاب ریاض کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے باعث پی ایس ایل 5 کے کچھ میچز تماشائیوں کے بغیر ہوئے، اسوقت مجھے احساس ہوا کہ میچز کا اصل حسن تماشائیوں کے ساتھ ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ سے جشن کے روایتی اندز کو بدلنا مجھے اچھا نہیں لگے گا کیونکہ وکٹ لیکر ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ ملکر جشن منانے کا اپنا ہی مزہ ہے، مگر مجبوری میں اگر ایسا کرنا پڑتا ہےتو وقتی طور پر ایسا کیا جا سکتا ہے