شریف بیانیہ

یہ افسوسناک خبر تھی جو میں نے شہباز صاحب کو سنائیں جب لاہور فون کیا تھا ۔
رشی کپور کی ڈیتھ ہوگئی ہے ۔کتنی ٹیلنٹڈ فیملی ہے پشاور چھوڑ کر بمبے چلی گئی تھی ۔چنگا کیتا ۔ورنہ پاکستان وچ رل جاندے ۔رشید راج کپور کا بیٹا تھا اور وہ مجھے اپنی فلم بابی نے لینا بھول گئے تھے ۔یہ بات میں نے شہباز صاحب کو بتائیں کہ آپ کو یاد ہے نا یہ 1973 کی جوانی کی بات ہے ۔
ہم تم ایک کمرے میں بند ہوں ۔۔۔۔۔۔
شہباز صاحب بولے ۔۔۔۔۔۔۔اللہ کا واسطہ ہے بھائی جان ۔۔۔۔یہ الفاظ مت بولیں ۔۔۔۔۔۔میں نے نیب کا سامنا کرنا ہے اور یہ گانا مجھے جیل کی یاد دلائے گا ۔
پھر میں نے شہباز سے کہا مجھے بتائے اب انہیں کیسا لگ رہا ہے پاکستان کو خان کے حوالے کرکے ۔پگھلے دماغ کے ساتھ ۔
شہباز صاحب پھر بولے اللہ کا واسطہ ہے بھائی جان ایسے الفاظ مت بولیں ۔
وہ میرا فون ٹیپ کر رہے ہیں ۔
پھر میں نے کہا اوکے ۔میں ان کے بارے میں نہیں بولتا ۔لیکن میں نے یاشیخ کو فون کیا تھا اور ان کی شکایت لگائی تھی ۔
میں نے یا شیخ کو بتایا الیکشن چوری ہوگئے ہیں ۔یا شیخ بولے الیکشن کیا ہوتے ہیں ۔
میں نے کہا یا شیخ یہ ڈیموکریسی کا نتیجہ ہوتے ہیں ۔

یا شیخ بولے یہ ڈیموکریسی کیا ہوتی ہے کہاں سے ملتی ہے کیا میں خرید سکتا ہوں کتنے میں ؟
میں نے یا شیخ کو بتایا کہ یہ ڈیموکریسی انگلینڈ میں بنی تھی آپ کے بڑوں کے بڑے ۔کسی نے بتایا میںگی کارٹا نے اسے بنایا تھا ۔ا سے بنے ہوئے ایک ہزار سال سے زیادہ ہوگئے ہیں لہذا یہ کافی پرانی نایاب اور مہنگی چیز ہے۔تب یا شیخ بولے اچھا ٹھیک ہے میں سمجھا تھا کہ اسے کسی میگا مال سے خریدنا ہے ۔
میں نے یا شیخ کو ادھر ادھر کی باتیں بتانی چاہئیں لیکن وہ اصرار کرنے لگے کے انگلینڈ میں پہلے الیکشن کب ہوئے تھے ۔میں نے بتایا یا شیخ ۔۔1066 میں۔
پھر یا شیخ بولی اچھا پرنس ولیم اور کیٹ مڈل کلاس جب نارمنڈی سے واپس آجائیں تو مجھے شہزادی کیٹ کا پرائیویٹ فون نمبر چاہیے ہوگا ۔
یہ کیا یا شیخ نے فون رکھ دیا اور میں نے اپنا فون غصے سے دریائے ٹیمز میں پھینک دیا ۔
گڈ بائے
N.S

فرائیڈے ٹائمز سے ماخوذ