اس کٹھن وقت میں وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام صوبوں کی ضروریات کا خیال رکھے اور ان کو ریلیف فراہم کرے

کراچی  : صوبائی وزیر اطلاعات ، بلدیات، جنگلات وجنگلی حیات و مذہبی امور سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ اس کٹھن وقت میں وفاقی حکومت کا فرض ہے کہ وہ تمام صوبوں کی ضروریات کا خیال رکھے اور ان کو ریلیف فراہم کرے انہوں نے کہا کہ ہمارے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرادی نے بھی وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ صوبوں کو ریلیف فراہم کرے ۔کیونکہ وفاقی حکومت کو آئی ایم ایف اور G-20ممالک نے مالیاتی ریلیف دیا ہے اب اس صورتحا ل میں وفاقی حکومت کے پاس مالیاتی ریلیف موجود ہے اس لئے ان کو لوگوں کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔ اس وقت پوری دنیا میں کاراوبار ختم ہور ہے ہیں اور فوڈ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے اس وقت سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم عوام کو کیا کیا سہولت فراہم کریں اور ان کے کھانے کا بندوبست کیسے کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے زراعت پیکیج کا ا علان تو کردیا لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک ٹڈی دل کے سد باب کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا ۔ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت مثبت کام کرے اور اگر وفاقی حکومت توجہ وے تو ہم کورونا کے خلاف بہتر طور پر لڑ سکتے ہیں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا میں چھوٹے کاروبار اور دکانداروں کو معاشی ریلیف دیا جارہا ہے اور سندھ حکومت نے بھی وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چھوٹے تاجروں کی معاشی امداد کرے ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے رئیل اسٹیٹ آردیننس پاس کردیا لیکن سندھ حکومت کا آرڈیننس پا س نہیں کیا ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سند ھ حکومت غریبوں کو کرائے ، اسکول ، بجلی ، گیس بلز میں تحفظ دینے کے لئے مسلسل کوشش کر رہی ہے ۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت سندھ کا آرڈیننس پاس کرے اور اس کو ملک بھر میں نافذ کرے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سندھ میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کا خطرہ اب بھی موجود ہے اور یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم خود بھی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں اور تاجر رہنما اپنی اپنی مارکیٹوں میں ایس او پیز پر عمل درآمد کروائیں سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر دوبارہ سخت لاک ڈاﺅن کیا جائے گا ۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہریوں کا بھی فرض ہے کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح کی صورتحال رہی تو لگتا ہے کہ دوبارہ سخت لاک ڈاﺅن کی طرف جانا پڑے گا کیونکہ عوام کی صحت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کے بعد دیکھا گیا ہے کہ ایس او پیز کا کوئی بھی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں نے ہمارے ساتھ بیٹھ کر خود ایس او پیز بنائیں جس میں ان کہ نمائندہ تنظیموں کے تمام نمائندے موجود تھے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ان ایس او پیز کی دھجیاں بری طرح بکھیر دی گئیں ۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہمیں کوئی بھی شوق نہیں ہے کہ ہم کسی بھی مارکیٹ کو سیل کریں لیکن جس طرح خلاف ورزی کی جارہی ہے اس کی وجہ سے ہمیں مجبوراً یہ کرنا پڑتا ہے اور اس کو کوئی اور ہی رنگ دے دیا جاتا ہے ۔ جو کہ سراسر سندھ حکومت سے دشمنی  کی حیثیت رکھتا ہے ۔