ارطغرل کی مرکزی کردار حلیمہ حاتون کا جنگ کی حمایت کرنے پر پریانیکا چوپڑا کو ایک سال قبل دیا گیا کرارا جواب

ارطغرل کی مرکزی کردار حلیمہ حاتون نے جنگ کی حمایت کرنے پر پریانیکا چوپڑا کو کرارا جواب دیا تھا جو کہ دوبارہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ ترک ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ اسرابلجیک (حلیمہ سلطان) کی سوشل میڈیا پر ایک انسٹاگرام پوسٹ وائرل ہورہی ہے جس میں انہوں نے بھارتی اداکارہ پریانیکا چوپڑا کو جنگ کی حمایت کرنے پر کراکرا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر ہونے کی حیثیت سے پریانیکا کو جنگ جیسے موضوع پر بات ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ برس بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھارت کی جانب سے پاکستان میں جھوٹے سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو سراہتے ہوئے جنگ کی حمایت کی تھی
جس پر پاکستانیوں کی جانب سے پریانیکا کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا جبکہ پاکستانی اداکارہ ارمینہ خان نے پریانیکا چوپڑا کو اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اس کے بعد گزشتہ برس اگست میں امریکی شہر لاس اینجلس میں جب ایک پاکستانی خاتون عائشہ ملک نے پریانیکا کو ان کی جنگ کی حمایت والے ٹوئٹ پر آڑے ہاتھوں لیا اور انہیں منافق قرار دیا توان کی بات مکمل ہونے سے قبل ہی ان کے ہاتھ سے مائیک چھین لیاگیا تھااور پریانیکا نے ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپناتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چیخنا بند کریں۔
اداکارہ کی اس حرکت پر پاکستانیوں نے شدید تنقید کی تھی جبکہ اس حرکت پر تنقید کرنے والوں میں ’’ارطغرل غازی‘‘ کی حلیمہ سلطان (اسرا بلجیک) بھی شامل تھیں جنہوں نے پریانیکا کو جنگ کی حمایت کرنے اور عائشہ ملک کے ساتھ اپنائے جانے والے رویے پر کھری کھری سنائیں تھیں۔
اسرا بلجیک کا یہ ٹوئٹ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہورہا ہے جس میں اسرا بلجیک نے پریانیکا کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’محب وطن ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ جنگ کو بڑھاوا دیں اقوام متحدہ کی خیرسگالی سفیر ہونے کی حیثیت سے آپ کو جنگ جیسے موضوع پر بات ہی نہیں کرنی چاہیئے تھی۔ انہوں نے مزید لکھا تھا کہ آپ بطور رول ماڈل بہت سے بچوں اور لوگوں پر اثرانداز ہوتی ہیں اور آپ کا رویہ اس خاتون کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز تھا جس نے آپ سے صرف آپ کے اس بیان سے متعلق سوال پوچھا تھا جسے آپ پہلے ہی ٹوئٹر پر لاکھوں لوگوں کے ساتھ شیئر کرچکی تھیں۔