لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو گورنر سندھ لگائے جانے کا امکان؟

پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اہم ذمہ داری ملنے کا قوی امکان ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے انہیں گورنر سندھ تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو صوبہ سندھ میں گورنر تعینات کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبہ سندھ میں وفاقی حکومت کی رٹ کو مؤثر طور پر لاگو کرنے کے لیے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کو گورنر سندھ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا 2008 سے 2012 تک پاک فوج میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن مارا گیا، 2011 مین میمو گیٹ اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ اپریل 2014 میں منظر عام پر آنے والی اطلاعات کے مطابق لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) شجاع پاشا نے میمو گیٹ کی من گھڑت کہانی پر آصف علی زرداری سے معافی مانگی تھی۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ تقریبا! سولہ برس تک سیاسی صحرا نوردی کے بعد 2011 کے نصف آخر میں پاکستان تحریک انصاف کو اچانک غیر معمولی عوامی مقبولیت ملی اور درجنوں قد آور سیاسی رہنماؤں نے اس جماعت مین شرکت اختیار کی۔ پاکستان مین کچھ حلقے عمران خان اور ان کی جماعت کی اس کایا کلپ کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) شجاع پاشا کا کارنامہ قرار دیتے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلے تو جنرل پاشا کی بطور گورنر سندھ نامزدگی کی خبریں زیرگردش تھیں لیکن اب یہ خبر سامنے آ رہی ہے کہ کسی بھی وقت جنرل پاشا کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کا اعلان ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ کچھ ہفتوں سے وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان کشیدگی جاری ہے جس سے کرونا وائرس کے وبا اور سندھ میں فصلوں کو نقصان پہنچانے والی ٹڈیوں کے خلاف حکمت عملی بنانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں وفاقی حکومت کا صبر جواب دے رہا ہے، اس لیے سندھ میں پیپلز پارٹی کو قابو کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کے ہائی پروفائل ریٹائرڈ جنرل کو بطور گورنر تعینات کیا جا رہا ہے۔