آم کی فصل اترنے والی ہے-کھیتی باڑی کرنے والوں کے لیے کوئی خصوصی رعایت نہیں

وزیراعظم ہوں میڈیا یا اپوزیشن۔ سب کی شعلہ بیانی اور توجہ کا مرکز چند بڑے شہر ہیں۔ ہماری اکثریت جہاں رہتی ہے وہاں کورونا کیا تباہی مچا رہا ہے۔ عام دیہی پاکستانیوں اور چھوٹے کاشتکاروں اور زمینداروں کے لیے کوئی پیکیج سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی مالیاتی پالیسیوں میں بھی کھیتی باڑی کرنے والوں کے لیے کوئی خصوصی رعایت نہیں ہے حالانکہ سب تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کا 60فیصد انحصار زرعی شعبے پر ہے۔ آم کی فصل اترنے والی ہے۔ سندھ میں متعلقہ مزدور جنوبی پنجاب سے آتے ہیں۔ ٹھیکیدار یہ سب انتظام کرتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ پر پابندی، سماجی فاصلے کورونا کا خوف محنت کشوں کی آمد میں رُکاوٹ ڈال رہا ہے۔ آم کی برآمد سے کروڑوں ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ سندھ کے مزدور کو آم اتارنے کی تربیت کیوں نہیں دی گئی۔

آپ حیران ہوں گے کہ مجھ کراچی والے کو دیہات اور کاشت کاروں کی بپتا کیوں پڑی ہے۔ ہمارے ایک دوست نے کہا کہ ان کے آموں کا باغ پچھلے سال 70لاکھ روپے میں اٹھا تھا۔ اب کے صرف 24لاکھ میں جا سکا ہے۔ میں اس ایک گواہی سے ہی اندازہ کر رہا ہوں کہ زرعی شعبے پر کیا گزر رہی ہو گی۔ ہم نے آغازِ ہفتہ میں پورے پاکستان کے شہروں میں لاک ڈائون میں نرمی پر خلقت امڈ آنے کا مشاہدہ کر لیا۔ فاصلے مٹ گئے۔ معانقے مصافحے ہو رہے تھے۔ جیسے کورونا کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ ادھر ہمارے کروڑوں روپے سے قومی اسمبلی کا ہونے والا اجلاس بھی آپ نے دیکھ لیا۔ وہی باتیں جو اتنے دنوں سے بیانات میں کی جا رہی تھیں۔ کسی نے نہیں بتایا کہ اس کے علاقے میں اس کے ووٹروں کا کیا حال ہے۔ اس فاضل منتخب نمائندے نے اپنے بےروزگاروں کی کیا مدد کی۔ کسی نے تعلیمی شعبے پر کوئی تجویز دی نہ زراعت کے حوالے سے کوئی ٹھوس بات کی۔ اجلاس میں قائدِ ایوان تھے نہ قائدِ اختلاف۔

’جنگ‘ کی ایک قاری اور میرپور آزاد کشمیر میں اپنا کالج چلانے والی جویریہ یاسمین نے امتحانات کی منسوخی کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ اچانک 7مئی کو حکومت کی طرف سے پرائیویٹ سیکٹر سے کسی قسم کی مشاورت کے بغیر عاجلانہ اور احمقانہ فیصلہ کیا گیا۔ جس کے مطابق نویں، دسویں، ایف ایس سی سال اول و دوم کے امتحانات منسوخ کر دیے گئے۔ مزید حماقت یہ کہ دہم اور سال دوم کے بچوں کو ان کے سال اول کے رزلٹ کے مطابق نمبر دیے جائیں گے۔ اور اگلے سال دسویں اور سال دوم کے امتحانات لے کر ان بچوں کو ان کے حاصل کردہ نمبروں کے مطابق نہم اور سال اول کے رزلٹ بنا کر دیا جائے گا۔ اساتذہ اور طلبہ کے ذہنوں میں بہت سے سوالات ہیں مثلاً یہ کیسے فرض کر لیا گیا کہ بچے پہلے اور دوسرے سال میں ایک جیسے نمبر حاصل کرتے ہیں۔ مشاہدہ تو یہ ہے کہ بچے پہلے سال کے نمبروں کے مقابلے میں دوسرے سال عموماً دس فیصد سے لے کر تیس فیصد تک بہتری لاتے ہیں۔ جن بچوں کی سپلی ہے تو کیا ان کو سال دوم میں بھی سپلی دی جائے گی۔ بچے عملی امتحانات میں عموماً زیادہ نمبر لیتے ہیں۔ وہ اس کی تیاری زیادہ کرتے ہیں۔ ان کا صائب مشورہ یہ ہے کہ اب جب سال اوّل اور نہم کے امتحان نہیں ہوں گے تو بورڈز پر دبائو کم ہو جائے گا۔ سال دوم اور دسویں کے بچوں کی تعداد بھی کم ہوگی۔ بڑے میرج ہالز کرایے پر لے کر سماجی فاصلے رکھتے ہوئے امتحان لیے جا سکتے ہیں۔ رجسٹریشن فیس اور ایڈمیشن فیس سے خرچ پورے کیے جا سکتے ہیں‘‘۔ یہ تو ایک ماہر تعلیم کا مشورہ ہے۔ حکومت کو ملک بھر کے ماہرین تعلیم اور کالج اسکول مالکان کی رائے لے کر اپنے فیصلوں میں تبدیلی لانی چاہئے۔ تعلیمی شعبہ پر ہی ملک کے مستقبل کا دار و مدار ہے۔

ہماری کھیتیاں، ہماری فصلیں ہماری پیاری دھرتی بھی خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ ان مشکل حالات میں کھانے پینے کی تازہ اشیا کی مسلسل فراہمی نے ہی لاک ڈائون کو بحران نہیں بننے دیا۔ پھل اور سبزیاں جلد خراب ہو جاتی ہیں۔ ان کی فراہمی اور اسٹوریج کے لیے انتظامات کے لیے خصوصی رعایتیں ہونا چاہئیں۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے۔ ہمارا تمدّن، ثقافت اور ادب دیہی علاقوں کا ہی مرہونِ منت ہے۔ جیسے آئسولیشن کیمپ اور اسپتال ہنگامی بنیادوں پر قائم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح جنگی بنیادوں پر ضلع میں زرعی صنعتی زون بنائے جائیں۔ جہاں بڑے کولڈ اسٹوریج بھی ہوں۔ آم کی فصل اتارنے کے لیے جنوبی پنجاب سے سندھ کے اضلاع تک خصوصی ٹرانسپورٹ کی اجازت دی جائے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کاشتکاروں کے لیے بھی سود کی شرح میں کمی کرے۔ زراعت اب بنیادی طور پر صوبائی ذمہ داری ہے۔ کسی صوبے کے زراعت کے محکموں نے کوئی واضح رپورٹ جاری نہیں کی ہے۔ ماہرینِ زراعت نے ایک آن لائن کانفرنس کا اہتمام کیا۔ یقیناً اچھی کوشش لیکن اس کی سفارشات عوام تک نہیں پہنچی ہیں۔ زرعی یونیورسٹیوں کو آگے آنا چاہئے۔ اپنی تجاویز پیش کریں۔ حکومت کی طرف سے بیروزگاروں کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 90لاکھ بتائی گئی۔ اس میں دیہی علاقوں کے کتنے ہیں۔ اس کا شُمار کرکے ان کے لیے خصوصی امدادی پیکیج دیے جائیں۔

حیرت ہوتی ہے کہ جس طرح شہروں کے تاجروں کی انجمنوں نے دبائو ڈال کر اپنے لیے کچھ نرمی حاصل کی۔ اربوں روپے ملک میں اور برآمد سے کمانے والے آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایکسپورٹرز۔ امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن نے اپنی آواز کیوں بلند نہیں کی۔ ہم سب کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ کورونا نے جہاں دوسرے شعبوں میں ہماری خامیوں کی طرف توجہ دلائی ہے وہاں وہ زرعی شعبے کو بھی اکیسویں صدی کی ضروریات کے مطابق بہتر کرنے کا سنہری موقع دے رہا ہے۔ کورونا کے متاثرہ سارے ملکوں کو گندم چاول، چینی، سبزی درکار ہوں گے۔ آم کی برآمد کا موسم ہے۔ پاکستان کاشتکاری کو جدید خطوط پر زیادہ پیداوار فی ایکڑ کے ساتھ نئی ٹیکنالوجی۔ انجینئرنگ سے مربوط کرنے کے ایک نئے دَور میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایک اچھی خبر یہ ہے کہ شجر کاری کی مہم میں دہاڑی والے بیروزگاروں کو 500سے 800روپے روزانہ اجرت پر پودے لگانے۔ نرسریوں میں کام کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ اسلام آباد کے قریب بہت سے بیروزگار اس ہرے بھرے روزگار سے وابستہ بھی ہو گئے ہیں۔
Mehmood-Sham-jang