یہ کوبرا خود مجھے کتنی بار ڈس چکا ہے

آسکر وائیلڈ نے کہا تھا’’میں جانتا ہوں تمہیں یہ پڑھتے ہوئے بہت تکلیف ہو گی لیکن تم نہیں جانتے کہ مجھے یہ سب کچھ لکھتے ہوئے کتنی اذیت سے گزرنا پڑا ہے‘‘۔واقعی کچھ لکھنے والوں کی قسمت میں یہی کچھ لکھا ہوتا ہے۔ وسیم گوہر مرحوم اور ممتاز لکھاری پروین ملک کا اک پبلشنگ ہائوس تھا۔ سارنگ پبلی کیشنز جو کب کا مرحوم ہو چکا۔ میرے کالموں کے مجموعوں میں سے ایک اس ادارہ نے بھی شائع کیا۔ مجموعہ چھپ کر آیا تو میں نے دیکھا، وسیم گوہر نے چند سطری تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا۔’’حسن نثار قلم سے نہیں، کوبرے کے پھن سے لکھتا ہے‘‘۔میں نے وسیم مرحوم سے کہا ’’کاش تم یہ بھی لکھ سکتے کہ

یہ کوبرا خود مجھے کتنی بار ڈس چکا ہے‘‘۔آج مجھ سے کوئی پوچھے کہ کم سے کم لفظوں میں اپنی اجتماعی آپ بیتی بیان کرو تو میں لکھوں گا۔سہم اور وہم کے مارے ہوئے لوگ، رحم سے عاری نظام اور فہم سے فارغ حکمران۔اللہ جانے سنبھالا بھی ہے یا نہیں لیکن کہنے کی حد تک عرض ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا اس مملکتِ خدا داد میں نتھا سنگھ اور پریم سنگھ کے درمیان کبھی کبڈی، کبھی کنگ فو اور کبھی آنکھ مچولی کا کھیل ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ یہ نتھا سنگھ اور پریم سنگھ ان تین کھیلوں سے اکتا جائیں تو منہ کا ذائقہ بدلنے یا پھر تبدیلیٔ آب و ہوا کے لئے ’’بز کشی‘‘ کا میدان بھی سجا لیتے ہیں۔ جس میں ’’بز‘‘ کا کردار عوام ادا کرتے ہیں۔ آج کل تو آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبہ پر حکومت بھی بزداروں کی ہے۔’’یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا‘‘یہ نتھا سنگھ اور پریم سنگھ کون ہیں؟بظاہر دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دور سے دیکھنے یا قریب کی نظر کمزور ہونے کی صورت میں ان میں سے ایک ہیرو اور دوسرا ولن دکھائی دیتا ہے۔ نتھا سنگھ کا رویہ اور مینر ازم ’’نتھ ڈالنے‘‘ والا ہوتا ہے جسے دوسرے لفظوں میں ’’آہنی ہاتھوں سے نمٹنا‘‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ جبکہ پریم سنگھ اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے کی بات کرتا ہے، عوام کے لئے چاند توڑ لانے اور ان کی اجڑی مانگ میں ستارے سجا دینے کے وعدے کرتا ہے۔ نتھا سنگھ بڑھکیں مار کے کام نکالنا چاہتا ہے جبکہ پریم سنگھ محبت بھرے گیت گا گا کر اپنے ٹارگٹ تک پہنچنا چاہتا ہے۔ گہرائی میں جا کر دیکھیں تو ’’اصل میں دونوں ایک ہیں‘‘ کیونکہ دونوں کا مقصد ایک ہے۔ فرق ہے تو بس طریقۂ واردات کا۔ ایک ساتھیوں سمیت گھوڑے پر زبردستی اٹھا کر لے جانے کی حد تک جا سکتا ہے جبکہ دوسرا باراتیوں کے ساتھ گولیاں برساتے ، ڈھول بجاتے ہوئے وہی کام کرنا چاہتا ہے اور اس کے گرد ’’ویر میرا گھوڑی چڑھیا‘‘ گانے والوں کا ہجوم ہوتا ہے۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے ’’عشرئہ ترقی‘‘ (DECADE OF PROSRESS) سے لے کر بھٹو کی پیپلز پارٹی کے ’’روٹی، کپڑا، مکان‘‘ تک، نواز شریف کے ’’مضبوط کلے‘‘ ….’’شرافت کی سیاست‘‘….’’قرض اتارو ملک سنوارو‘‘ اور ’’ووٹ کی عزت تک‘‘ سے لے کر ’’تبدیلی کی تسبیح‘‘ اور ’’دو نہیں ایک پاکستان‘‘ تک کوئی جوہری تبدیلی تو کیا، کوئی سطحی اور آرائشی تبدیلی بھی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ اور تو اور تبدیلی کے آثار تک نظر نہیں آتے۔کوئی نتھا سنگھ ہو یا پریم سنگھ ہر بار ’’خاندانِ غلاماں‘‘ کے ساتھ ایک ہی جیسا ہاتھ ہو جاتا ہے۔ پھولا ہوا پیٹ دیکھ کر اہلِ خانہ خوشی سے پھول جانے کے بعد نعرے لگاتے ہیں ’’آوے ای آوے‘‘۔ ایک دوسرے کو جپھیاں ڈالتے اور مبارکبادیں دیتے ہیں کہ ’’پائوں بھاری ہے‘‘….’’گود ہری ہونے والی ہے‘‘ ….’’آنگن میں چاند اترنے والا ہے‘‘ لیکن جب ٹیسٹ الٹرا سائونڈ وغیرہ کی رپورٹ آتی ہے تو پتا چلتا ہے کہ نہ مُنا ہے نہ مُنی ہے بلکہ بہو بیگم کے پیٹ میں تو اچھی خاصی صحت مند رسولی ہے جو کینسر بھی ہو سکتی ہے۔ لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ نفیریاں نوحوں میں بدل جاتی ہیں، مبارکبادیں ماتمی لباس پہن لیتی ہیں، تالیاں بجاتے ہاتھ سینہ کوبی اور سر پیٹنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔’’ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘گھر کی رونق سے اک اور منحوس سا مصرعہ یاد آیا۔’’اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘‘یعنی گھر کو آگ لگانے کے لئے صرف ایک چراغ ہی کافی ہوتا ہے اور جس گھر میں چشمِ بددور چراغوں کی قطاریں ہوں بلکہ ہمہ وقتِ جشن چراغاں کا سا عالم ہو وہاں کیا عالم ہو گا؟ایک طرف چراغ بدست نتھا سنگھ دوسری طرف چراغ بدست پریم سنگھ حکومت اپنی جگہ، اپوزیشن اپنی جگہ، عوام اپنی جگہ، ملک اپنی جگہ، المیہ یہ نہیں کہ یہ سب کے سب کھڑے کہاں ہیں، اصل المیہ تو یہ ہے کہ ان کی سمت کیا ہے؟ رخ کس طرف ہے؟ نہ STEPSکا علم نہ STOPS کا کوئی اندازہ۔ ایک ہی جیسے کام کرتے ہوئے ہر بار کسی مختلف نتیجہ کی امید؟ دائرے کو صراطِ مستقیم سمجھتے رہنے کی بھیانک غلطی۔ صرف ٹریک ہی نہیں ڈائریکشن کا درست ہونا بھی ضروری ہے ورنہ زندہ تو ریڈ انڈینز بھی ہیں۔نتھا سنگھ اور پریم سنگھ کے درمیان یہ شٹل سروس کب تک جاری رہے گی؟ اپنی اپنی قسم کے ان دونوں وارداتیوں کے درمیان پنڈولم کب تک اسی طرح جھولتا رہے گا؟ گھڑی درست بھی ہو تو کیا فائدہ اگر وقت بتانے والی سوئیاں ہی ٹوٹ چکی ہوں۔”THE CURE FOR CRIME IS NOT IN THE ELECTRIC CHAIR BUT IN THE HIGH CHAIR”نتھا سنگھ اینڈ پریم سنگھون اینڈ وی سیم تھنگ
Hassan-Nisar-Jang