اُنہیں احساس ہوگیا کہ عمران خان تو کہیں نہیں جا رہے

گزشتہ نومبر کو سیاسی پنڈت حکومت کی تبدیلی کے دن گن رہے تھے۔ چھے ماہ بعد اُنہیں احساس ہوگیا کہ عمران خان تو کہیں نہیں جا رہے۔ اُن کے تصور کو کس چیز نے یک لخت تبدیل کیا؟ قوت فیصلہ کی کمی، بحران سے نمٹنے میں ناکامی، منتقم مزاجی، پالیسی ابہام نے حکومت کی رخصتی کے تصور کو بتدریج تقویت دی تھی۔ خیال کیا جارہا تھا کہ ان خامیوں کو دیکھتے ہوئے اُن سے چھٹکارا پانے کا بندوبست ہورہا ہے۔ لیکن پھر کیا ہوا؟

ہر کوئی جانتاہے کہ پاکستان میں اُس وقت تک حکومت تبدیل نہیں ہوسکتی جب تک اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ نہ ہو۔ نومبر میں سب جانتے تھے کہ مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ طے پاچکا۔ لہذا آنے والے مہینوں میں حکومت تبدیل کرنے کی کوششوں کو روک دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن کا اسلام آباد مارچ ایک چونکا دینے والا قدم دکھائی دیتا تھا۔ کہا گیاکہ یہ بات ناقابل ِفہم ہے کہ محترم مولانا اسٹبلشمنٹ کے اشارے کے بغیر ایسی مہم جوئی کی جرات کریں۔لیکن پھر ایک ناقابل یقین بات ہوئی۔ سپریم کورٹ نے مداخلت کرتے ہوئے توسیع پر چھے ماہ کا ایک سوالیہ نشان لگا دیا۔اس کا مطلب تھا کہ اگر کوئی منصوبہ تھا تو اسے التوا میں رکھا جانا تھا تاکہ توسیع کامعاملہ حتمی طورپر طے ہوجائے

اب وہ تاریخ قریب آتی جارہی ہے۔ کیا پتہ سپریم اس ماہ وہ کیس کھول کرحکومت سے تصدیق چاہے کہ توسیع کے قانونی جواز کے لیے درست طریقے سے ترمیم کرلی گئی یا نہیں۔جب تک یہ معاملہ طے نہیں پاجاتا اسٹبلشمنٹ دوٹوک انداز میں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیراعظم اور اُن کی ٹیم کی کارکردگی کتنی ہی مایوس کن، ناقابل قبول،غیر قانونی اور اشتعال انگیز کیوں نہ ہو۔

یہ کوئی پیچیدہ سائنسی تھیوری نہیں۔ یقینا عمران خان اور اُن کے مشیر بھی اس سے آگاہ ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لے کر اپنا ایجنڈ ا آگے بڑھا رہے ہیں۔ کوویڈ 19بحران نے بھی حکومت کو غیر متوقع سکون بخشا۔ قوم اس وائرس سے حالت جنگ میں ہے چنانچہ جنگ کے دوران تو حکومت کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مغربی سرحد پر ہونے والا جانی نقصان کسی بھی وقت کوئی قومی بحران کھڑا کرسکتا ہے۔ لیکن اس کا دارومدار نریندرامودی کی داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی ضرورت پر ہے۔ اس صورت حال نے اسٹبلشمنٹ کو مزید محتا ط کردیا ہے۔ ایسی نازک صورت حال میں حکومت تبدیل کرنے سے گریز ہی بہتر ہوگا۔

عمران خان سیاسی بساط پر جوابی چالیں چل رہے ہیں۔ جب اسٹبلشمنٹ اور شریفوں کے درمیان کسی قسم کی ڈیل کی خبر گرم تھی تو مریم نوا ز کوبیرون ملک جانے سے روک کر، پارٹی کے اہم رہنماؤں کو گرفتار کرکے اور شہباز شریف اور اُن کے بیٹوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات قائم کرکے ڈیل کے راستے میں رکاوٹ ڈال دی۔ جب اسٹبلشمنٹ نے لاک ڈاؤن کی بات ماننے پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی تعریف کی تووزیر اعظم نے اپنے ٹائیگرز اُن پر چھوڑ دیے۔ اُن کی کامیاب پالیسیوں کو ناکام کرنے کی پوری کوشش کی۔ جب اسٹبلشمنٹ نے وزیر اعظم کو قومی مفاد میں میڈیا کے ساتھ مل چلنے کااشارہ کیا تواُنھوں نے اس کا جواب میر شکیل الرحمن کی گرفتاری سے دیا۔ نیز پیمرا کو دباؤ میں لایا گیا۔ ا ب وزیر اعظم نے اپنی توپوں کا رخ گجرات کے چوہدریوں کی طرف کرلیا ہے حالانکہ پی ٹی آئی کی پنجاب حکومت انہی کے سہارے قائم ہے۔ یہ سب کیا ہورہا ہے؟

ہر کوئی جانتا ہے کہ عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ پنجاب کس کے کہنے پر بنایا گیا تھا۔ اسٹبلشمنٹ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں بہتر گورننس چاہتی ہے۔ یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ وزیر اعظم عثمان بزدار کو تبدیل کرنے کے مشورے کو خاطر میں نہیں لائے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب اسٹبلشمنٹ نے علیم خان کو اس عہدے کے لیے آگے بڑھایاتھا توعمران خان نے اُنہیں جیل میں ڈال دیا۔اس پر اسٹبلشمنٹ کچھ اہم افسران کی تبدیلی پر راضی ہوگئی تاکہ صوبے کو بہتر انداز میں چلایا سکے۔ لیکن جب علیم خان وزارت اعلیٰ پر نظر رکھے صوبائی اسمبلی میں واپس آئے تو عمران خان نے اسٹبلشمنٹ کے حمایت یافتہ سرکاری افسران، چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو فارغ کرکے عثمان بزدار کی حامی ٹیم صوبے میں لگا دی۔

اس کھیل کے ہر مرحلے پر گجرات کے چوہدری پنجاب میں مزید اختیار حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ ہرچندوہ اس دوارن اسمبلی سے باہر اپوزیشن سے راز ونیاز کرتے رہے۔ اسمبلی کے اندر بھی اُن کارویہ اپوزیشن سے نرم تھا۔ لیکن اب وزیر اعلیٰ بزدار کو تبدیل کرنے کا دباؤ بڑھ چکا ہے۔ چنانچہ عمران خان نے 2000 ء کا ایک کیس نکال کر چوہدریوں کے سر پر تلوار لٹکا دی ہے تاکہ وہ اس پرکشش عہدے کے لیے کسی منصوبہ بندی کا حصہ نہ بننے پائیں۔یہ ایک تیر سے دوشکارکرنے کے مترادف ہے۔ ایک طرف چوہدریوں کو اس راہ پر قدم رکھنے سے گریز کی نصیحت ہے تو دوسری طرف اپنے وفادار حامیوں کو صحت مند پیغام بھی دیا ہے کہ کپتان صرف اپوزیشن ہی نہیں، اپنے انتہائی وفادار ساتھیوں کی بدعنوانی بھی برداشت نہیں کرتا۔ یہ یقینا اعلیٰ درجے کی چال ہے۔

ایک بات یقینی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون کے ڈیل کرنے سے انکار کے بعد اسٹبلشمنٹ کے حکومت تبدیل کرنے کے آپشنز بہت محدود ہوگئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف اور مریم نواز پردروازے ہمیشہ کے لیے بند ہوچکے۔ اب صرف شہباز شریف ہی ”قومی مفاد“ میں اسٹبلشمنٹ کے ساتھ کام کرنے کے خواہشمند ہیں۔ لیکن دھیان رہے کہ ایک مرتبہ جب مئی میں تیر کمان سے نکل جائے گا تو تمام سیاسی جماعتوں کو یکا یک ملک میں حکومت کی تبدیلی کی ضرورت محسوس ہونے لگے گی۔
friday-times-editorial-