اسد عمر چپ چاپ یہ سب کچھ ہوتے دیکھتے رہے اور ایک دن…..

بعض دفعہ کوئی بندہ ایسی بات کر دیتا ہے کہ آپ کی سوچ ہی بدل جاتی ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ ایف آئی اے کے افسر سے بات ہو رہی تھی۔ میں نے کہا: آئی پی پیز رپورٹ میں ندیم بابر اور رزاق داؤد بارے کہا گیا ہے کہ ان کے بجلی گھروں نے تگڑا مال بنایا، اب وہ رپورٹ دبا لی گئی ہے۔ اس پر کسی نے تبصرہ کیا تھا: یہ رپورٹ میڈیا پر لیک ہو گئی تھی، سب کو پتہ چل گیا کہ کس نے کتنا مال بنایا اور کس وزیر اور مشیر نے کتنے لمبے ہاتھ مارے ہیں۔
اب سرکاری رپورٹ چھپے یا نہ چھپے۔ میں نے کہا: نہیں، جب حکومت یہ فیصلہ کر لیتی ہے کہ اس رپورٹ کو پبلک نہیں کرنا تو مطلب ہے حکومت اونرشپ نہیں دے رہی اور کوئی ادارہ کارروائی نہیں کر سکتا۔ جس نے جو کچھ کھانا تھا، لوٹ مار کرنی تھی، وہ کر لی۔ وہی لوگ وزیر اعظم کے مشیر اور وزیر ہیں جن پر گندم، شوگر، ادویات اور اب بجلی گھروں کے نام پر اربوں کی لوٹ مار کے الزامات لگے ہیں۔ انہوں نے ہی اب بجلی گھروں والی رپورٹ دبوا دی ہے۔ حمودالرحمن کمیشن رپورٹ سے ایبٹ آباد کمیشن تک سب رپورٹس باہر نہ نکلیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں رپورٹس بیرون ملک میڈیا نے چھاپ دیں، لیکن ہمارے حکمرانوں نے وہ رپورٹس عوام کو براہ راست نہ پڑھنے دیں۔
خیر ایف آئی اے کے وہ صاحب بولے : آپ کی بات غلط ہے، ایک بات ذہن میں رکھیں، جو چیز ایک دفعہ ریکارڈ پر آ جائے وہ کہیں نہیں جاتی۔ ایک دفعہ جو جرم ہو گیا وہ نہیں مٹایا جا سکتا۔ یہ جرم کبھی نہ کبھی اپنی کسی شکل میں ضرور سامنے آتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ابھی اس آئی پی پیز کی رپورٹ کو ہی دیکھ لیں۔ یہ ایک دفعہ مکمل ہو گئی ہے۔ اب یہ جرم فائل میں بند ہے اور کبھی بھی باہر اور سامنے آ سکتا ہے۔ کوئی چاہے تو عدالت جا کر پٹیشن درج کرا دے، حکومت کے اس اقدام کو چیلنج کر دے اور مطالبہ کرے کہ اس رپورٹ کو پبلک کیا جائے تاکہ عوام جان سکیں کہ ان کے اربوں روپے کون لوٹتا رہا ہے اور اب کون ہے جو ان لٹیروں کو بچا رہا ہے اور نام ایک دوست ملک کا لیا جا رہا ہے۔

اس افسر کی بات سن کر ذہن میں کئی باتیں ابھریں۔ بینظیر بھٹو اور زرداری کا سوئس منی لانڈرنگ سکینڈل بھی کئی سال چھپا رہا اور ایک دن سامنے آ گیا۔ سرے محل بھی دونوں نے چھپائے رکھا۔ آخر وہ محل بیچا تو حقائق سامنے آ گئے۔ اسی طرح جو لندن فلیٹس شریفوں نے 1992 ء میں آف شور کمپنیوں کے ذریعے خریدے تھے وہ چھبیس برس تک خفیہ رہے، لیکن ایک دن وہ بھی سامنے آ گئے اور ایسے آئے کہ نواز شریف نہ صرف برطرف ہوئے، بلکہ جیل جا بیٹھے۔ اسی طرح جہانگیر ترین اور علیم خان کی بھی آف شور کمپنیاں اور جائیدادیں سامنے آئیں۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ واقعی جرم نہیں چھپتا۔ اسے وقتی طور پر دبایا جا سکتا ہے، لیکن یہ بھی قدرت کا اصول ہے جرم کبھی نہ کبھی سامنے ضرور آتا ہے۔
ابھی یہی دیکھ لیں کہ ڈیڑھ سال پہلے جب اسد عمر شوگر ملوں کے مالکان کے دباؤ میں آ کر انہیں ایکسپورٹ کے ساتھ ساتھ صوبوں کو ملوں کو سبسڈی دینے کی اجازت دے رہے تھے تو انہوں نے کب سوچا ہو گا انہیں اس فیصلے پر وفاقی وزیر ہوتے ہوئے بھی ایف آئی اے کے کمیشن کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔ انکوائری تو اب عمران خان تک پہنچ رہی ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم کے طور پر اسد عمر کے اس فیصلے کی پوری کابینہ سمیت منظوری دی تھی جس کے بعد چینی کی قلت ہوئی، ملوں نے لوٹ مار شروع کر دی اور بقول اپوزیشن جماعتوں کے قیمتیں بڑھنے سے عوام کی جیب سے تقریباً سو ارب روپے نکل گئے۔
گزشتہ روز اسد عمر صاحب ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز میں شوگر کمیشن کے سربراہ کے سامنے پیش ہوئے اور ای سی سی فیصلوں کے حوالے سے بیان قلمبند کروایا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں اسد عمر نے کہا کہ میرے ساتھ سوال جواب میں یہ ذکر ہوا کہ جلد رپورٹ فائنل ہو جائے گی اور رپورٹ میں پتا چلے گا کہ چینی سمگل ہوئی یا نہیں؟ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے خود چینی انکوائری کمیشن کے سامنے پیش ہونے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وزیراعظم سے نہیں، بلکہ اگر کوئی سوال ہے تو وہ مجھ سے پوچھا جائے۔ حیران ہوتا ہوں وہ کیسے دفاع کریں گے کیونکہ وہ تو خود قومی اسمبلی میں انکوائری کا مطالبہ کر چکے ہیں کہ چینی کے کھیل میں گھپلے ہوئے ہیں۔ سب کچھ ریکارڈ پر ہے جن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

اب کہانی سنیں۔ جب شوگر ملز مالکان نے وزیر خزانہ اسد عمر پر دباؤ ڈالا کہ وہ انہیں دس لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے دیں تو شروع میں انکار کیا۔ شوگر ملز نے مزید دباؤ ڈلوایا تو اسد عمر تیار ہو گئے کہ چلیں دس لاکھ ٹن چینی ایکسپورٹ کر لیں۔ اس پر شوگر ملز مالکان نہیں مانے اور کہا ہمیں نقدی بھی چاہیے۔ اسد عمر نے ایک ماہ بعد پھر ای سی سی کا اجلاس بلایا اور اس میں شوگر ملز کو خوش کرنے کے لیے تین کام کیے۔ پہلے دس لاکھ کی بجائے گیارہ لاکھ ٹن کی اجازت دے دی۔
ایک لاکھ ٹن بڑھا دیا۔ دوسرے انہوں نے کہا: شوگر ملز کو نواز شریف دور میں جو سبسڈی ملی تھی وہ اب تک ریلیز نہیں ہوئی، لہٰذا دو ارب روپے وہ بھی ریلیز کر دیے اور ساتھ ہی یہ حکم دیا چلیں آپ لوگ جائیں فیڈرل کی بجائے صوبوں سے سبسڈی لے لیں۔ اب یہ حکم نامہ سندھ اور پنجاب کے لیے تھا۔ ہم سوچ رہے تھے سندھ میں زرداری کی ملیں ہیں، لہٰذا وہ اسد عمر کے اس فیصلے سے خوش ہوں گے اور اربوں روپے قانونی طور پر ہڑپ کر جائیں گے ؛ تاہم ہوا اس کے برعکس۔ سندھ میں زرداری کی ملوں نے ایک روپیہ بھی سبسڈی نہیں لی۔ سب لوٹ مار پنجاب میں ہوئی۔ وہی بات کہ بد سے بدنام برا۔
پنجاب میں وزیر خزانہ ہاشم بخت اور وزیر اعلیٰ بزدار نے اسد عمر کے فیصلے کو بنیاد بنا کر ملوں کو تین ارب روپے کی سبسڈی دینے کی منظوری دے دی۔ جن ملوں کو وہ سبسڈی دی گئی ان میں ہاشم بخت کے اپنے بھائی اور مونس الٰہی، جہانگیر ترین اور ان کے ماموں شمیم احمد خان کی شوگر ملیں بھی شامل تھیں۔ جونہی ایکسپورٹ کی خبریں مارکیٹ میں آئیں چینی کی قیمت پچپن روپے سے بہتر روپے تک چلی گئی۔ ایک طرف مل مالکان یہ کہہ کر ایکسپورٹ کر رہے تھے کہ ان کے پاس سرپلس چینی ہے اور ایکسپورٹ سے قیمتیں نہیں بڑھیں گی۔

دوسری طرف وہ مل مالکان عوام کی جیب سے تین ارب روپے کی سبسڈی لے رہے تھے اور تیسری طرف ایکسپورٹ کا نام استعمال کرکے چینی کی لوکل مارکیٹ میں قلت کرکے پندرہ بیس روپے فی کلو مزید بھی کما رہے تھے۔ جب چینی کی قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو اسد عمر ہی وزیر خزانہ تھے اور ہر ہفتے ای سی سی میں اشیا کی قیمتوں کے بارے میں کمیٹی کو بریف کیا جاتا تھا۔ تو کیا اسد عمر کو پتہ نہیں تھا کہ شوگر ملز مالکان ایکسپورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ایک تیر سے کئی شکار کر رہے تھے؟
اسد عمر چپ چاپ یہ سب کچھ ہوتے دیکھتے رہے اور ایک دن ان کو وزارت خزانہ سے برطرف کر دیا گیا تو ان کا ”ضمیر“ جاگ گیا اور انہوں نے قومی اسمبلی میں تقریر کی جس میں انہوں نے شوگر ملز کو خوب لتاڑا اور مطالبہ کیا شوگر کی انکوائری کرائی جائے۔ اب وہی بندہ پھر وفاقی وزیر بن گیا ہے اور اب کہہ رہا ہے کہ وہ ایف آئی اے انکوائری کمیشن کوقائل کرے گا کہ دس سے گیارہ لاکھ ٹن ایکسپورٹ، رکے ہوئے دو ارب ریلیز کرنا اور صوبوں کو اجازت دینا کہ وہ بھی اربوں بانٹ دیں یہ سب قومی مفاد میں ضروری تھا۔
ہو سکتا ہے موجودہ حکمران اس شوگر سکینڈل سے بچ جائیں، کیونکہ اقتدار میں سب بچ جاتے ہیں، لیکن میرے ذہن میں وہی ایف آئی اے کے افسر کی بات چل رہی ہے کہ جرم کبھی مرتا نہیں اور شوگر، گندم، ادویات اور آئی پی پیز میں بھی جرم ہوا ہے۔ عوام کے اربوں روپوں لوٹنے کا جرم ہوا ہے۔ شریف خاندان کو بھی چھبیس برس بعد حساب دینا پڑ گیا اور ابھی تک دے رہے ہیں۔ بس قدرت کچھ حکمرانوں کی رسی ڈھیلی کر دیتی ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا۔
Rauf Klasra