راجا داہر سے ارطغرل تک

کرونا کی وبا کے علاوہ آج کل سوشل میڈیا پر دو ہی ایشو ہیں۔ راجا داہر اور محمد بن قاسم میں سے اصل ہیرو کون اور ترک ڈراما ارطغرل۔ اس بہ ظاہر انتہائی معمولی اور مکمل طور پر غیر ضروری بحث کے باعث لبرل اور مذہبی حلقوں کے نقطہ نظر میں ایک واضح اور پریشان کن تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔ رہی سہی کسر ارطغرل کی ہیروئن اسرا بلیگچ کی سوشل میڈیا پر جاری تصاویر نے پوری کر دی اور مضحکہ خیز اور لا حاصل بحث کو نیا رخ دے ڈالا۔
ہیرو محمد بن قاسم ہے یا راجا داہر، قومی ٹی وی پر ایک ڈراما دکھایا جانا چاہیے تھا یا نہیں؟ یہ بحث لبرل اور بنیاد پرستی کی انتہاوں میں بٹے اذہان کے لیے تو شاید کسی لطف کا باعث ہو مگر میرے نزدیک یہ معاشرے میں رفتہ رفتہ سرایت کر کے ناسور کا روپ اختیار کر نے والی ایک عدم برداشت کی عکاس ہے۔ انتہا پسندی چاہے لبرل، مذہبی، لسانی، علاقائی یا فرقہ ورانہ کسی بھی شکل میں ہو، معاشرے کے فائبر کے لیے تباہ کن اثرات رکھتی ہے۔
گزشتہ ہزاروں برس سے مشرقی روایات اور مضبوط خاندانی نظام ہمارے معاشرے کی طاقت رہے ہیں اور انھی روایات نے اب تک ہمیں ایک مضبوط لڑی میں پروئے رکھا ہے۔ اگر چہ مغربی طریقہ تعلیم ترقی کے لیے ضروری تھا لیکن اس کو اپنی معاشرتی روایات اور ضرورتوں سے ہم آہنگ کیے بغیر تھوپنے سے ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا، جو ہماری روایات سے جڑی ہر بات کی مخالفت کو اپنا فرض حقیقی جانتے ہوئے کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرتا۔ جب کہ دوسری طرف مغرب مخالف حلقوں کی طرف سے ہر نئی سوچ کی مخالفت برائے مخالفت کی روش نے ہمیں ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے، جس سے واپسی اگر ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہے۔

ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش میں ہم ان حدود تک جا پہنچے ہیں، جہاں تاریخی حقائق کو ارادتاً مسخ کر کے اپنے، اپنے موقف کے حق میں دلائل گھڑنے کو برا نہیں سمجھا جاتا اور سوشل میڈیا اور میم کلچر نے اس ساری صورت احوال کو مزید گنجلک بنا دیا ہے۔
محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیوں کیا؟ راجا داہر کون تھا اور عرب فاتحین کے ہاتھوں اس کی شکست کی وجوہ کیا تھیں؟ ترک فاتحین کے ساتھ ہمارا کیا تعلق تھا؟ سلطان ارطغرل نے سلطنت عثمانیہ کی بنیاد کیوں اور کیسے رکھی؟ کیا صدیاں گزر جانے کے بعد ان امور پر غیر سنجیدہ بحث، ہمیں کسی مثبت نتیجے پر پہنچا سکتی ہے؟ کبھی نہیں۔
تکلیف دہ سہی لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہم اپنے مسلک، لسانیت، فرقہ ورانہ اور علاقائی تعصبات سے بڑھ کر کچھ بھی دیکھنے، سمجھنے اور سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کی یلغار کے بعد صورت احوال اس نہج پر پہنچ چکی ہے، جہاں ہمارا تعصب اور عدم برداشت ہمیں کسی بھی سماجی مسئلے پر اپنے ذہن میں پہلے سے پختہ خیالات سے آگے بڑھ کر دیکھنے اور سوچنے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔
تاریخ سے آگاہی لازمی ہے لیکن اگر غیر سنجیدہ مکالمے اور مخالفت برائے مخالفت کی بنیاد پر اخذ کردہ نتائج حال کو بہتر بنانے کی بہ جائے مزید انتشار کا باعث بن جائیں، تو یہ فیصلہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہمیں اپنی سوچ کی انتہاؤں میں گم رہ کر ماضی سے جڑے رہنا ہے یا مستقبل پر نگاہ رکھتے ہوئے نئی راہ پر قدم رکھنا ہے۔
Aman savera