مزارِ قائد کے گرد چائنہ کٹنگ؟

کراچی میں چائنہ کٹنگ کا آغاز 2006میں نارتھ ناظم آباد سے ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ جال پورے عروس البلاد تک پھیلتا چلا گیا۔ سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، گلستانِ جوہر، گلشن اقبال، ملیر اور بلدیہ ٹاؤن، جہاں جہاں مافیا کی نظر گئی پلاٹنگ ہوتی رہی۔ چائنہ کٹنگ مافیا نے سرکاری زمینوں پر خوب ہاتھ صاف کیے، ایک اندازے کے مطابق گزشتہ 15برس میں آٹھ ہزار سے زائد پلاٹ چائنہ کٹنگ کی نظر ہو چکے ہیں اور ادارہ ترقیات کراچی اپنی ہی زمین واگزار کرانے میں ناکام ہے۔ گزشتہ برسوں میں برسر اقتدار جماعتوں کی سرپرستی اور پولیس کی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کی ملی بھگت سے رفاہی پلاٹس پر بے دردی سے قبضہ کیا گیا۔ حد تو اُس وقت ہوئی جب چائنہ کٹنگ مافیا نے مزارِ قائد کو بھی نہ چھوڑا اور مزار کے ارد گرد مزارسےملحق رقبے پر بھی ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے،

جس پر چیئرمین نیب نے گزشتہ برس دسمبر میں مزارِ قائد کے اطراف غیرقانونی تعمیرات کا نوٹس لیا تھا۔ اس حوالے سے نیب کا کہنا تھا کہ مزارِ قائد کے سامنے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے قوانین کی مبینہ خلاف ورزی کی گئی ہے، جس کی تحقیقات کا حکم ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی کو دیا گیا تھا۔ اب پانچ ماہ بعد چیئرمین نیب نے نیب کراچی سے مزارِ قائد کے سامنے اور ارد گرد چائنا کٹنگ اور کاسمو پولیٹن سوسائٹی کی طرف سے مبینہ طور پر غیرقانونی تعمیرات کے بارے میں اب تک کی گئی تحقیقات کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے ایکشن کے بعد سابق ڈی جی کے ڈی اے اور چائنا کٹنگ میں ملوث دیگر افسران اور مافیا کے کارندے قانون کے شکنجے میں بھی آئے تاہم اب بھی کورنگی اور سرجانی کے علاقوں میں چائنا کٹنگ جاری ہے۔ اُمید کی جاتی ہے کہ چائنہ کٹنگ مافیا کیخلاف لیا جانے والا یہ ایکشن صرف مزارِ قائد تک ہی محدود نہیں رہے گا بلکہ شہر بھر میں جہاں جہاں رفاہی پلاٹس پر قبضہ کیا گیا ہے اُسے واگزار کروایا جائے گا۔
jang Editorial