عمران خان نے پارٹی میں شمولیت کے لیے کئی گھنٹوں تک چوہدری نثار کی منتیں کیں

عمران خان نے کہا پارٹی میں آئیں،حکومت میں جو مرضی پوزیشن لینا چاہیں وہ لیں لیکن چوہدری نثار نے پیشکش اس بنیاد پر ٹھکرائی کہ وہ اس سٹیج پر نہیں بیٹھیں گےجہاں سے نواز شریف کو گالیاں دی جاتی ہوں۔ سلیم صافی
حقیقت تو یہ ہے کہ چوہدری نثار عمران خان اور قادری صاحب کے دھرنے کو آبپارہ سے آگے جانے کی اجازت دینے کے حق میں نہیں تھے۔چوہدری نثار نے عمران خان کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو وہ ان سے آہنی ہاتھوں کے ساتھ نمٹیں گےمران خان جانتے کے تھے کہ چوہدری نثار ماننے والے نہیں،اب وہ پٹائی کروائیں گے اس لئے ان کو بائی پاس کرکے راتوں رات انہوں نے اس وقت کے سیکرٹری داخلہ کے ذریعے پولیس کو یہ آرڈر جاری کروا دیا کہ وہ کارروائی روک کر دھرنا دینے والوں کو ڈی چوک تک آنے دیں۔

چوہدری نثار صاحب ڈی چوک تک دھرنے کو آنے دینے پر اتنے برہم تھے کہ استعفی دینے والے تھے لیکن انہیں میجر عامر جیسے دوستوں نے منع کیا۔چوہدری نثار انا پرست اور ضدی ہیں جس وجہ سے انہیں سیاسی طور پر بہت نقصان ہوا لیکن نواز شریف کے خلاف کسی سازش کا کبھی حصہ نہیں رہے۔سلیم صافی نے مزید کہا کہ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کے الیکشن سے قبل جہاں مقتدر حلقوں کا دباؤ تھا وہیں عمران خان نے کئی گھنٹے تک ان کی منتیں کیں کہ وہ ان کی پارٹی میں آجائیں اور ان کے بعد پارٹی اور حکومت دونوں میں جو بھی پوزیشن لینا چاہیں لے لیں۔
اگر چوہدری نثار اس وقت پیشکش قبول کرتے تو آج عمران خان کے بعد دوسری طاقتور شخصیت ہوتے۔لیکن چوہدری نثار نے یہ سب پیشکش اس بنیاد پر ٹھکرا دیں گے وہ اس اسٹیج پر نہیں بیٹھ سکتے جہاں سے نواز شریف اور ان کے خاندان کو گالیاں پڑھ رہی ہوں یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں ان کو وہی سزا دی گئی جو دیگر مخالف پارٹیوں کے امیدواروں کو دی گئی-