شرجیل خان کیساتھ نرمی برتی ، سزا دیتے وقت ہلکا ہاتھ رکھا :لیفٹیننٹ جنرل (ر) توقیر ضیاء

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین لیفٹنینٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے شرجیل خان کے ساتھ نرمی برتی اور سزا دیتے وقت ہلکا ہاتھ رکھا۔ وسیم اکرم کو پاکستانی کرکٹرز کو آن لائن لیکچرز نہیں دینے چاہئیں۔ اس پر الزامات تاحیات پابندی سے بھی زیادہ ہیں۔ واضح رہے کہ لیفٹنینٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء پی سی بی کی اس کمیٹی کے سربراہ تھے جس نے شرجیل خان کو ڈھائی سال کی سزا سنائی تھی۔

یو ٹیوب پر ایک انٹر ویو میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ محمد عامر اور وسیم اکرم واپس آگئے۔ ہم نے شرجیل کو پانچ سال سزا دی جس میں ڈھائی سال کی معطل سزا تھی۔ لیفٹنینٹ جنرل ریٹائرڈ توقیر ضیاء نے مئی 2000ء میں جسٹس ملک قیوم کی سفارشات پر عمل درآمد کیا تھا پھر ورلڈ کپ 2003ء میں وسیم اکرم کو دوبارہ کپتان بنانے کی کوشش کی لیکن انہیں آئی سی سی کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کی رائے میں داغدار ماضی کے حامل کھلاڑی کو کسی قومی ایوارڈ کے لئے نامزد نہیں کیا جانا چاہیے۔ وسیم اکرم پر انتہائی سنجیدہ نوعیت کے الزامات ہیں،انہوں نے میچ فکسنگ تحقیقات میں تعاون نہیں کیا۔