سندھ وبائی امراض ترمیمی آرڈیننس منظور

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ وبائی امراض ترمیمی آرڈیننس منظور کرلیا جسکی خلاف ورزی پر دس لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا آرڈیننس یکم مئی دو ہزار بیس سے نافز العمل ہوگا آرڈیننس صوبائی کابینہ سے

imran ismail

منظوری کے بعد سندھ حکومت نے منظوری کے لئے گورنر سندھ کو ارسال کیا تھا گورنر سندھ کی منظوری کے بعد وبائی امراض ترمیمی ایکٹ صوبے بھر میں نافذ ہوگیا ہے ترمیمی وبائی امراض ایکٹ کے تحت وائرس پھيلانےوالےکوروناکےمريض ياادارےپرجرمانہ عائد کياجائےگا۔کوروناکامريض قرنطينہ سےباہرنکل کرکسی دوسرے فرد کو وائرس لگانے کا سبب بنے گا تو اس پر جرمانہ ہوگا۔کسی ادارےميں متاثرہ فردکی وجہ سےديگرميں وائرس پھيلاتو بھی جرمانہ عائد ہوگا۔ آرڈیننس میں جرمانہ کی حد کم سے کم دولاکھ اور زیادہ سے زیادہ دس لاکھ روپے تک ہوگی۔ فردیاادارے کی طرف سےمسلسل خلاف ورزی پرجرمانہ دوبارہ عائد ہوگا۔آرڈیننس کا مسودہ ستائیس اپریل کو سندھ کابینہ اجلاس میں منظورکیا گیا تھا۔وبائی امراض ایکٹ کےتحت خلاف ورزی پر پہلے جرمانہ تین ہزار روپے تھا یہ بھی واضح رہے کہ وبائی امراض ایکٹ کےتحت سندھ بھر میں لاک ڈاون پابندیاں عائد ہیں لاک ڈاون پابندیوں پر عمل نہ کرنے ،وبائی مرض پھیلانے کا سبب بننے پر جرمانے کا اطلاق ہوگا وبائی مرض کو پھیلنے سےروکنے میں ناکامی پر بھی اسی آرڈیننس کےتحت کارروائی ہوگی آرڈیننس کے مطابق متعلقہ افسر جرمانہ عائد کرنے کی ٹھوس وجوہات تحریر کرنے کا پابند ہوگا