لاک ڈاؤن خاتمے کے بعد کاروباری سرگرمیوں کے دوران ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری ہے، سید ناصر حسین شاہ

لاک ڈاؤن میں نرمی تاجر برادری کی جانب سے ایس او پیز پر عملد در آمد یقینی بنانے کی گارنٹی پر دی گئی، وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ
کراچی : وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے دوران طے شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ تاجر برادری کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی جو کہ ایس او پیز کی عدم پیروی کی صورت میں دوبارہ سخت کی جاسکتی ہے۔ ناصر حسین شاہ کے مطابق حکومت سندھ نے افہام و تفہیم کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا کہ صبح آٹھ تا شام پانچ حفاظتی اقدامات کی مکمل پیروی کے ساتھ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی جائے، تاکہ انسانی جانوں کی حفاظت کے ساتھ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے، مگر نرمی کے خاتمے کے ساتھ ہی مارکیٹوں سمیت بے شمار مقامات پر رش اور ایس او پیز کی عدم پابندی نظر آتی رہی جو کہ تاجروں اور حکومتی معاہدے کے برخلاف ہے۔

حکومت سندھ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل یا بے پرواہی کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتی اور انسانی زندگیوں کی قیمت پر کاروبار کا فروغ دانشمندی نہیں کہا جاسکتا۔صوبائی وزیر نے بتایا کہ حکومت سندھ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد بھی پہلے سے زیادہ متحرک اور مصروف عمل ہے اور عوامی طرز عمل اور تاجروں کے معمولات پر ہماری گہری نگاہ ہے، جس کی بنیاد پر مستقبل میں کئی اہم فیصلے کئے جاسکتے ہیں، لہذا تمام شعبہ ہائے زندگی اور پیشوں سے تعلق رکھنے والے افردا حکومت سندھ کی اپنے تعاون سے معاونت کریں۔ ناصر حسین شاہ نے عوام اور تاجر برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اپنے صبر و تحمل اور احتیاط کی روش پر برقرار رہتے ہوئے لاک ڈاون میں نرمی کی رعایت کا بے جا فائدہ ہرگز نہ اٹھائیں بصورت دیگر حکومت سندھ ایک بار پھر سے مکمل اور سخت ترین لاک ڈاون کا نفاذ کرنے پر مجبور ہوجائے گی کیونکہ عوام کی جانوں کا تحفظ حکومت سندھ کی اہم ترین کوشش اور ترجیح ہے۔