ایک فن کار ماں جو بچوں کی خاطر پاگل بھکارن بن گئی

شیکسپیئر کا ایک خیال بہت مشہور ہے کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان اس کا فن کار، ہم میں سے ہر ایک یہاں اپنا کردار ادا کرنے آتا ہے اور ادا کرکے چلا جاتا ہے۔

آپ کو ایک بات بتاؤں! آپ نے کوئٹہ دیکھا ہے؟ کچلاک کی جانب بھی گئے ہوں گے۔ ائرپورٹ روڈ کی پاگل بڑھیا اب بھی یہاں کے لوگوں کو یاد پڑتی ہے۔ جس کے دائیں ہاتھ میں ایک موٹی سے لاٹھی اور بائیں کندھے سے ایک بورا جھولتا تھا۔ سڑک کنارے کاغذ اور کولڈ ڈرنکس کے پلاسٹک کی بوتلیں اور ٹین کے خالی پیک چنتے اسے ہر گزرنے والا دیکھتا تھا۔ لاٹھی ٹیکنے اور سہارا لینے کے کام آتی تھی۔ کبھی کبھی غصے میں ہوتیں تو دونوں ہاتھوں میں تھامے فضا میں گھماتی چلتیں۔

تب پٹرول پمپ، مارکیٹ، دکانیں، ہوٹل، ڈھابے، ریڑھی اور مسجد جہاں سے گزرتیں جس سے مطالبہ کرتی وہ دس روپے بخوشی نکال کر ہاتھ میں تھما دیتا۔ وہ بھیک مانگتیں مگر منت کرکے نہیں پوری بدمعاشی سے۔ گالیاں خوب دیتیں اور ڈانٹ کہہ کر کہتیں نکال دس روپے۔ بالوں کی سفید چاندنی میل کچیل میں دب گئی تھی۔ چہرے پر جھریاں لمبے گول دامن کی سلوٹوں سے زیادہ تھیں۔ لباس کا اصل رنگ کیا ہوتا تھا یہ تو کوئی اندازہ نہیں لگا سکا۔ لمبی پرانی سی کچیلی چادر اوڑھے بہت دور دور تک پیدل چلتیں۔

گانے گاتیں، گالیاں دیتیں، ہائی وے کی تیز ٹریفک میں بیچ سڑک کھڑی ہو جاتیں۔ لوگ گاڑیاں بچا کر نکلتے اور وہ گاڑیوں والوں کو خوب گالیاں دیتیں۔ اس کی گالیاں اور گانے سننے کو اوباش اور فارغ لوگ جمع ہو جاتے۔ پیسے دے کر ایک دوسرے کو گالیاں نکلواتے۔ وہ پیسے لے کر گانے بھی گاتی۔ ٹپے بھی گاتی اور نقلیں بھی اتارتی۔

میں ہمیشہ پاگل اور نشئی ایسے اب نارمل لوگوں سے بھاگتا ہوں۔ اسے میری بزدلی کہیے۔ کیا پتہ کب کوئی خطرناک سی گالی دے کر چلے جائیں۔ کوئی پتھر لاٹھی مار دیں۔ کوئی مکا اور دھکا ہی لگا دیں۔ اس لیے کبھی اس کے قریب نہیں گیا۔ کچھ پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ البتہ میرے ایک مولوی دوست بڑے ہوشیار ہیں۔ کہتے ہیں دنیا کا ہر پاگل سے پاگل شخص بھی پیسے کی شکل جانتا ہے۔ اس سے انسیت رکھتا ہے۔ وہ آپ کو گالی دینے لگے۔ مارنے لگے یا ڈانٹنے لگے آپ جیب سے دس روپے نکال کر اسے پیار سے پکڑا دیں وہ سیکنڈ بھر میں رام ہو جائے گا۔ پیسہ بڑے سے بڑے مشتعل آدمی کو ٹھنڈا کر سکتا ہے۔

ایک دن ڈھابے پر چائے پیتے اپنے دوست کے ساتھ تھا خاتون آ گئیں۔ تھکی ہاری، جسم پسینے سے شرابور، کاغذوں کا بورا بھرا ہوا تھا۔ سانسیں اکھڑ اکھڑ کر لے رہی تھیں۔ خدا جانے کہاں سے آ رہی تھیں۔ کتنی گالیاں دے کر اور کتنی سن کر آ رہی تھی۔ آکر چبوترے پر ہمارے قریب بیٹھ گئیں۔ من چلوں کا ٹولہ ہٹا، شور تھم گیا۔ اس کی سانسیں درست ہوگئیں۔ میرے دوست نے دس روپے کا نوٹ تھمایا، خاموشی سے لے لیا۔ چائے کا پوچھا خاموشی سے سر ہلا کر ہاں کردی۔ دوست نے چائے منگوائی۔ چائے آئی اور وہ سکون سے پینے لگی۔ تب تک بالکل نارمل ہوچکی تھی۔ میرے دوست نے ادھر ادھر کی باتیں کیں اور پھر پوچھتے پوچھتے اس کے گھر اور خاندان کے متعلق پوچھ لیا۔ پوچھنا کیا تھا جیسے زبان کا فصد کھل گیا۔

” بیٹا! سب کی طرح تم بھی یہی سمجھتے ہو گے کہ میں پاگل ہوں۔ اچھا ہے تم لوگ ایسا ہی سمجھتے رہو کیوں کہ مجھے اس کے بدلے یہ سماج دس روپے دیتا ہے۔ دس روپے کے لیے مجھے کیا کرنا پڑتا ہے؟ اتنا سا بس، کہ نہا دھوکر صاف کپڑے نہیں پہن سکتی، بوڑھی ہڈیوں سے ایک بھاری موٹی سی لاٹی کا وزن اٹھا کر کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا ہے۔ ایک بورا اٹھانا پڑتا ہے، ہاں اس کے کاغذ اور بوتلیں بھی کچھ پیسوں میں کباڑیے کی دکان پر بیچ کر شام کو گھر جاتی ہوں۔ جوتے نہیں پہن سکتی کیوں کہ کیرکٹر میں ڈھلنے کے بعد اس کو پوری طرح نبھانا تو پڑتا ہے۔ شروع میں ننگے پاؤں چلنا مشکل ہوتا تھا۔ پاؤں زخمی اور خونم خون ہو جاتے۔ مگر پھر اندر کی نسوانیت کی طرح تلوے بھی فولاد ہو گئے۔

فحش گالیاں نہیں آتی تھیں۔ گانے گانا مشکل لگتا تھا۔ مگر جب لوگوں کے ذو معنی جملے اور اشارے دیکھتی تو غصہ خود بخود آ جاتا تھا۔ گالیاں خود بخود زبان پر آتی تھیں۔ گانے کافی پریکٹس کے بعد گا سکی۔

پہلے میں نے بھیک مانگنا شروع کیا۔ لوگ میری بوڑھی ہڈیوں اور جھریوں کو ریزگاری میں ٹال دیتے تھے۔ پھر میں نے خیرات چھیننا شروع کیا۔ ہاتھ میں پکڑی لاٹھی کی طرف دیکھ کر کہنے لگی مجھ جیسی کمزور خاتون کے لیے اس کا وزن کچھ زیادہ ہے۔ مگر جب دونوں ہاتھوں سے اٹھا کر لہراتی ہوں تو فینسی گاڑی، شفاف شیشوں والی بیکری، فروٹ بھری ریڑھی اور ڈپارٹمنٹل سٹور کے دروازے پر کھڑا اس کا مالک مجھے دور کرنے کے لیے بہت خوشی سے دس روپے نکال کر پکڑا دیتے ہیں۔ مسکراتے کہنے لگی: میں کسی کا نقصان نہیں کرتی مگر ہلکا پھلکا توڑ پھوڑ کر دیتی ہوں جس کی سزا بھی مل جاتی ہے کبھی کبھی۔ کیا کروں سماج نے کیرکٹر ایسا دیا ہے۔

ہم نے پوچھا تمہیں بھیک مانگنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ چہرے پر پھیلی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ چہرے کے جھریوں کے بیچ جہاں دھول جمی تھی یک دم بھیانک خاموشی ابھری۔ خشک ہونٹ کپکپانے لگے۔

”بیٹا! تیرے جیسے ہی دو جوان بیٹے ایک ساتھ ایک حادثے میں جان ہار گئے۔ میں جس دن انہیں مٹی کے سپرد کرکے آئی۔ فاتحہ و قل خوانی کی رسمیں جس دن ٹھنڈی ہوگئیں۔ میں نے گھر کی طرف ایک نظر دیکھا تو قیامت سے بڑھ کر قیامت پیچھے کھڑی تھی۔ جوان بیواؤں اور ان کے ننھے سے بچوں کے مرجھائے مسکین چہرے۔ اس دن تو پاگل ہوکر گھر سے بھاگنے کو دل کیا۔ بیٹوں کی خاموش قبروں پر گئی۔ دیر تک روتی رہی۔ اگلی صبح گلی میں جھانک سماج کی نبض دیکھی اور کئی دن اس کا مزاج ٹٹولتی رہی۔ بالآخر سمجھ یہی آیا یہاں عورت کے لیے کوٹے یا بھیک کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ بھیک کا راستہ زیادہ آسان لگا۔ ایک نظر جوان بہوؤں پر اور ان کے بچوں پر ڈالی۔ میں نے خود ہی یہ نیا کردار اپنانے کا فیصلہ کیا۔ گندا لباس، بدبودار جسم اور کھچڑی بال میرے لیے سیلف ڈیفنس کا کام کرتے ہیں۔

میں اپنی بہوؤں سے بھیک نہیں منگوا سکتی تھی۔ کیوں کہ اپنے جواں مرگ بیٹوں سے مجھے حیا آتی تھی۔ اب میں پورے فخر سے بیٹوں کا سامنا کروں گی کہ میں نے ان دونوں کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ ان کی بیویوں کو گھر سے نکل کر کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور نہیں کیا۔

ہاں تو میں عرض کر رہا تھا :
”شیکسپیئر کا ایک خیال بہت مشہور ہے کہ یہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہر انسان اس کا فن کار، ہم میں سے ہر ایک یہاں اپنا کردار ادا کرنے آتا ہے اور ادا کرکے چلا جاتا ہے
Bakht-Mohammad-Barshori