اب خدا بخش اور بھگوان داس کیا کریں

ویسے تو میں کہیں نہیں جا رہا۔ میں آپ کے لئے ایک جملہ لکھنے جا رہا ہوں۔ میں جم کر اپنی جگہ بیٹھا رہوں گا اور جملہ لکھوں گا۔ ایک جملہ لکھنے کیلئے مجھے کہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلئے میرا یہ کہنا کہ میں ایک جملہ لکھنے جارہا ہوں، غلط ہے۔ میں آرام سے اپنی جگہ بیٹھا ہوا ہوں اور ایک جملہ لکھوں گا۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ جملہ محاورہ ہے، کہاوت ہے یا ضرب المثل ہے۔ آپ خود فیصلہ کر لیجئے۔ آپ جملہ سنیے ’’اس کام میں ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے‘‘۔

نفسا نفسی کا عالم ہے۔ حالات سازگار نہیں ہیں۔ ایسے میں کوئی یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتا کہ ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اسی طرح بہتی ہوئی ناک والا ہر شخص کورونا کا مریض نہیں ہوتا مگر ڈرے ہوئے لوگ ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ دنیا دو حصوں میں بٹ چکی ہے۔ ایک حصہ میں ہیں حاکم، اور دوسرے حصے میں ہیں محکوم، یعنی ہم اللہ سائیں کے آدمی یعنی آپ میں، خدا بخش، بھگوان داس، ٹام، ڈک اور ہیری۔ مختلف حکومتوں میں ایسا بےمثال اتحاد پہلے نہیں سامنے آیا۔ آپ لاکھوں برس پر محیط انسانیت کی تاریخ کھول کر دیکھ لیجئے۔ دنیا بھر کے حکمران آپس میں لڑتے جھگڑتے رہے ہیں۔ خونریز جنگوں میں خدا بخشوں اور بھگوان داسوں کو آپس میں لڑاتے رہے ہیں۔کورونا وائرس کے پانچویں موسم میں انہوں نے ایسا کرنا چھوڑ دیا ہے۔ حکمرانوں نے آپس میں خفیہ معاہدہ (Unholy Alliance) کر لیا ہے۔ اب وہ خدا بخشوں اور بھگوان داسوں کو جنگوں میں نہیں جھونکتے۔ ماحولیاتی دنیا میں کچھ غیرمعمولی تجربے کرنے کیلئے خدا بخشوں اور بھگوان داسوں کو انہوں نے ایک ہی پیج پر لاکھڑا کر دیا ہے۔ خدا بخشوں اور بھگوان داسوں کے دل میں کورونا وائرس کا ایسا ڈر بٹھا دیا ہے وہ خود کو کورونا وائرس کا اگلا شکار سمجھنے لگے ہیں چونکہ کورونا وائرس کے بارے میں مکمل معلومات اور آگاہی حکومتوں نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہوئی ہے۔ اسلئے لوگ حکومتوں کی ہر ہدایت کو حکم کے طور پر مانتے ہیں اور ان پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔ حکومتیں جانتی ہیں کہ رعایا کی سرشت میں روح فنا کر دینے جیسا خوف داخل کرنے کے بعد عوام سے کچھ بھی کروایا جا سکتا ہے۔ ہم سب اس بات کے چشم دید گواہ ہیں۔

خدا بخش اور بھگوان داس نہیں جانتے کہ دنیا بھر کی حکومتیں کیا کرنے جارہی ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ سائنسی معلومات حاصل کرنے اور تجربات کے لئے حکومتیں اپنی رعایا کو لیبارٹری کے چوہوں، خرگوشوں کی طرح استعمال کررہی ہیں؟ امریکہ، یورپ اور ایشیا کے لوگ اپنے رویوں، مزاج، ڈھنگ میں ایک جیسے ہوتے جارہے ہیں، بلکہ ہو چکے ہیں۔ گھروں میں بند بیٹھے ہوئے ہیں۔ سینما، تھیٹر، ہوٹل، پب، کھیل کود کے میدان خالی پڑے ہوئے ہیں۔ روڈ راستے ویران۔ موٹر گاڑیاں، ٹرین، جہاز، ہوائی جہاز غائب۔ دکان، دفتر، تعلیمی ادارے، بینک بند، کاروبار بند، ملیں، کارخانے، فیکٹریاں بند۔ اگر کچھ چل رہا ہے تو وہ ہیں ٹیلی وژن، انٹرنیٹ اور سہمی سہمی سانسیں۔خوفزدہ دنیا میں حکومتوں کے اتحاد نے ایک کمال کا کام کر دکھایا ہے۔ ہم انسانوں نے بےدریغ آلودگی کی وجہ سے اوزون لیئر تقریباً تباہ کردی تھی۔ زمیں سے پندرہ بیس میل اوپر اوزون لیئر قدرتی ڈھال ہے۔ سورج کی ناقابلِ برداشت شعاعیں اوزون لیئر کی وجہ سے انسان، حیوان، نباتات، جنگل، برف پوش پہاڑ اور زراعت پر اثر انداز نہیں ہوتیں۔ پچھلے دو تین مہینوں سے لاک ڈائون کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی پچاس ساٹھ فیصد کم ہو گئی ہے۔ اوزون لیئر کے شگاف اور سوراخ بند ہو گئے ہیں۔ یہ غیرمعمولی کامیابی عالمی لاک ڈائون کے بغیر ممکن ہو نہیں سکتی تھی۔ دنیا بھر کی حکومتوں کا بےمثال گٹھ جوڑ اور کیا کرنا چاہتا ہے؟ ہم خدا بخش اور بھگوان داس نہیں جانتے کہ دنیا کی تجربہ گاہ میں ہم پر کیسے کیسے نسخے آزمائے جائیں گے؟

ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی۔ مگر، سردست بہتی ہوئی ناک والا ہر شخص پاکستان میں کورونا وائرس کا مشکوک مریض سمجھا جاتا ہے۔ چھینکتے ہوئے دیکھا جانے والا شخص بھی کورونا وائرس کا مشکوک مریض ہوتا ہے۔ صدیوں سے نزلہ زکام برصغیر کے لوگوں کا ساتھی رہا ہے۔ موسمی مہمانوں کی طرح آتا ہے، موسمی مہمانوں کی طرح چلا جاتا ہے۔ مگر دنیا بھر کی حکومتوں کے گٹھ جوڑنے نزلہ زکام کو کورونا وائرس کی ابتدائی علامات میں شامل کر دیا ہے۔ اگر آپ چھینکتے ہوئے اتائی ٹیکنیشنوں کے ہتھے چڑھ گئے تو پھر وہ آپ کو کورونا وائرس کا مریض ثابت کرکے دم لیں گے۔ آپ کو گندے، غلیظ، نیم تاریک کنٹینر جیسے قورنٹائن میں تنہا بند کردیں گے جہاں اتائی ڈاکٹر آپ پر تجربے کرینگے۔ آپ کو ایسا کھانا کھلایا جائے گا اور پانی پلایا جائیگا کہ جس کے بعد دنیا میں آپ کیلئے دانہ پانی باقی نہیں بچے گا۔ آپ کسی کو پیارے ہوں، یا نہ ہوں، اللہ سائیں کو پیارے ہونے والوں میں آپ کا نمبر ہوگا تین سو تینتیس۔ ہر ماہ ہزاروں لوگ مختلف بیماریوں میںمرتے ہیں۔ مگر وہ گنتی میں نہیں آتے۔ کورونا نے پاکستان میں ایک حیرت انگیز کرشمہ دکھایا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی بائیس کروڑ کی آبادی میں دس ہزار لوگوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہوتا ہے۔ کورونا وائرس کی وجہ سے پچھلے دو ماہ میں ہزاروں ڈاکٹروں، نرسوں، ٹیکنیشن، پیرا میڈیکل اسٹاف اور لیبارٹریز کی کھیپ نکل آئی ہے۔ یہ معجزے سے کم نہیں ہے۔
Ammar-Jalil-Jang