نریندرا مودی رنگون(برما) میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے مزار پر

نریندرا مودی رنگون(برما) میں آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے مزار پر۔

پاکستان میں بہادر شاہ ظفر کا امیج اتنا برا پیش کیا جاتا ہے کہ جیسے وہ کوئی نالائق اور عیاش حکمران ہو۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ بہادر شاہ ظفر ایک غیرت مند اور معاملہ فہم حکمران تھا جس نے 80 سال کی عمر میں تب فیصلہ کن جنگ کی قیادت کی جب وہ اپنا انجام جانتا تھا۔

بہادر شاہ ظفر کا موازنہ ٹیپو سلطان سے کرنے والے نے ذرا کچھ پڑھ لیا ہوتا تو وہ سمجھ پاتے کہ ٹیپو سلطان اور بہادر شاہ ظفر دونوں کے حالات و واقعات اور سیاق و سباق میں بہت فرق ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ ہیروز ہیں۔

آج بیسویں ایکیسویں صدی کے دور میں جب یحییٰ و نیازی مکمل جنگ لڑے بغیر ہتھیار پھینک دیتے ہیں؛ وہاں بہادر شاہ ظفر نے اس دشمن کے خلاف جنگ لڑی تھی جو پہلے سے جیتا ہوا تھا۔

بہادر شاہ ظفر وہ حکمران تھا جس نے کٹھ پتلی بادشاہ بنے رہنے پر قیدی یا مقتول بننا پسند کیا تھا۔
آج وہ صرف بھارت کا ہیرو ہے ہماراکیوں نہیں؟