وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہ تھے

وہ قرض چکائے ہیں جو واجب بھی نہ تھے
لاک ڈاؤن کے دوران کراچی واٹراینڈسیوریج بورڈ ایک مثالی ادارہ بن کر سامنے آیا
تحریر عبدالقادر شیخ
دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وباء سے لوگ گھروں تک محدود ہو گئے ہیں، دنیا میں لاکھوں افراد کرونا وائرس سے متاثر اورلاتعداد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، دیگر ممالک کی طرح ہمارے ملک میں بھی لاک ڈاؤ ن جاری ہے اب بھی ملک کے بیشتر دفاتر اور کئی انڈسٹری لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں،اس سنگین صورتحال میں بھی کچھ ادارے اور ان کے ملازمین اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے فرائض، انسانیت کی خدمت سمجھ کر ادا کررہے ہیں، ان میں ایک اہم ادارہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈہے جسے ادارہ فراہمی ونکاسی آب بھی کہا جاتاہے،

کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ اس صورتحال میں جس طرح سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا ہے، اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی، شہر قائد، کراچی جس کی آبادی تین کروڑ سے زائد ہے،اس کے باسیوں کیلئے سیکڑوں کلومیٹر دورواقع کلری جھیل ضلع ٹھٹہ اور حب ڈیم سے پانی پہنچانا بہت بڑا مشکل کام ہے،تقریباً پورا ملک بند ہے،نقل وحرکت ونقل وحمل کی پابندیوں کے باوجود جس طرح ادارہ فراہمی ونکاسی آب کراچی اپنے بلند حوصلہ اور باصلاحیت اپنے سربراہ، منیجنگ ڈائریکٹرانجینئراسداللہ خان کی قیادت میں کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولیات بہم پہنچارہا ہے،وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے،روزانہ معمول کے مطابق واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹرسے لے کر وال مین،ہیلتھ ورکرز تک پابندی سے بلاخوف وخطر اپنی ڈیوٹی اداکررہے ہیں،یہ صرف ملکی ہی نہیں دیگرممالک کیلئے بھی ایک مثال ہے
پانی کی فراہمی کے ساتھ شہر قائد میں نکاسی آب کا نظام چلانا بھی کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی ذمہ داری ہے،یہ نظام بھی لاک ڈان کے آغاز سے آج تک ایک لمحہ کیلئے بھی نہیں رکا،دنیا کے بڑے شہروں کی فہرست میں پہلے چند نمبروں پر آنے والے کراچی کا نظام نکاسی آب بحال رکھنا کوئی معمولی کام نہیں اس کیلئے واٹربورڈ کے افسران اور عملہ خاص کر ہیلتھ ورکرز نے اپنی جان خطرہ میں ڈال کر 24،24گھنٹے کام کیا جو اب بھی جاری ہے
واٹربورڈ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ہر کڑے وقت میں شہریوں کی خدمت کیلئے پیش پیش رہتا ہے،کرونا جیسے جان لیوا مرض کے شہر میں پھیلا ؤ کو روکنے کیلئے واٹر بورڈ نے پورے کراچی میں جراثم کش ادویہ کے چھڑکاؤ کیلئے جدید دیوہیکل مشینیں اپنے ورکشاپ میں تیار کیں جن میں ایک وقت میں 18ہزار لیٹرسے زائد جراثم کش ادویہ کے چھڑکاؤ کی گنجائش رکھی گئی،ان مشینوں کے ذریعے میں کلورین،بلیچ،ڈیٹول،فنائل،ہائیپوکلورائیڈشہر کی گلی محلوں،مسجدوں،مدرسوں،امام بارگاہوں، تجارتی مراکز،کاروباری مقامات سمیت دیگر جگہوں پر اسپرے کیا گیا،اس کے علاوہ واٹربورڈ کے سیورکلینگ ایکویپمنٹ اینڈ سروسز ورکشاپ ڈویژن نے شہریوں،خصوصاً راہگیروں اور سڑکوں وناکوں میں ڈیوٹی دینے والے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کوہاتھ دھونے اورخود کو کرونا سے بچانے کیلئے واٹرٹینکروں میں بیسن نصب کرکے ان میں سینی ٹائزر،صابن اور ٹشو پیپر اور کلورین ملے پانی کی سہولیات فراہم کرکے شہر کے اہم چوراہوں اور گزرگاہوں پر کھڑے کردیئے گئے،کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے ان انسانیت دوست اقدامات نے شہریوں کے دل جیت لئے او ر یوں کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈشہریوں کیلئے فوری حفاظتی اقدامات کرنے والا پہلا ادارہ بن گیا
واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹراسداللہ خان نے وزیربلدیات وچیئرمین واٹربورڈسید ناصرحسین شاہ کی ہدایات پرشہرمیں قائم واٹربورڈ کے 6ہائیڈرنٹس سے کمرشل ٹینکروں کے اجراء پر فوری پابندی لاگا کر ایک احسن اقدام کیا اور اپنے فوری احکامات کے ذریعے صرف اور صرف سرکاری نرخ پر واٹرٹینکرز کی فراہمی یقینی بنائی یہ ہی نہیں انہوں نے واٹربورڈ کی ایپ کے ذریعے شہریوں کوٹینکروں کی گھر بیٹھے فراہمی یقینی بناکر لاک ڈاؤن کے دوران ٹینکروں کے لئے ہائیڈرنٹس آنے اور لمبی لمبی لائنیں لگا کر کھڑے ہونے سے بھی بچالیا،اس کے علاوہ واٹربورڈ کے ہائیڈرنٹس اینڈٹینکرزسیل نے بلاکسی وقفہ شہر اور مضافات میں قائم کرونا سینٹرز کو ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی ممکن بنائی، شہر میں ہونے والے آتشزدگی کے واقعات میں فائربریگیڈ کو آتشزدگی کے مقام پر ہی ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرکے آ گ پر جلد از جلد قابو پانا ممکن بنایا ساتھ ساتھ وزیر اعلیٰ سندھ کے ڈی سی کوٹہ کے تحت،غریب، کچی اور ایسی دور دراز آبادیوں میں جہاں فراہمی آب کا نظام نہیں ہے میں ان کے مکینوں کو ٹینکروں کے ذریعے بلامعاوضہ پانی کی فراہمی یقینی بنائی
واٹربورڈ کے کمپلین سینٹرز نے دن رات ایک کرکے شہریوں کو درپیش فراہمی ونکاسی آب سے متعلق شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنایا،لاک ڈاؤن کے دوران بھی واٹربور ڈ ملازمین شہر کے مختلف علاقوں میں لائنوں کی تبدیلی،لائن لیکیجز کے خاتمے،سیوریج اوورفلو کے تدارک،اوردھنسنے والی سیوریج لائنوں کی تبدیلی میں مصروف نظر آئے
واٹربورڈ کا ایچ ّ آر ڈی اینڈاے ڈپارٹمنٹ اس دوران بھی تمام تر مشکلات کا سامناکرتے ہوئے انتظامی امور چلاتا رہا جبکہ فنانس ڈپارٹمنٹ نے ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے اپنی بھرپور صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،واٹربورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر اسداللہ خان کی ہدایات پر واٹربورڈ ملازمین کی صحت کا خیال رکھنے اور ان کو فوری طبی امداد کی فراہمی کیلئے واٹربورڈ کے میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے خصوصی کاؤنٹر قائم کرکے فرض شناسی کی مثال قائم کی
واٹربورڈکے انفارمیشن اینڈ پبلک ریلشنز ڈپارٹمنٹ نے شہریوں خصوصا واٹربورڈملازمین کو حالات سے باخبر رکھنے،ادارے کی نیک نامی،حقائق بیانی کے ساتھ ساتھ واٹربورڈ ملازمین کا دفاع کرنے کافریضہ بخوبی نبھایا
جہاندیدہ ایم ڈی واٹربورڈ اسداللہ خان نے گرمیوں سے پہلے ہی اپنی نگرانی میں حب ڈیم کی صفائی مکمل کرواکرضلع غربی میں پانی کی فراہمی بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا،ان کے اس اقدام سے کراچی کے شہریوں کو فراہمی آب کے ضمن میں ریلیف ملاہے
حال ہی میں سندھ حکومت بالخصوص ایم ڈی واٹر بورڈ انجینئر اسداللہ خان کی ذاتی کوششوں اور اس پروجیکٹ کی پوری ٹیم کی خصوصی دلچسپی اور دن رات کی محنت کی وجہ سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن میں 100 ایم جی ڈی منصوبہ پائے تکمیل کو پہنچا،اس منصوبہ سے بھی شہر کراچی میں پانی کی فراہمی میں بہتری آئی ہے
اتنی خدمات کے باوجو کچھ عناصر اپنے ذاتی وسیاسی مفادات حاصل کرنے کے لئے غلط خبریں پھیلاتے اور کراچی واٹر بورڈ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے افسران اور ملازمین پر بہتان تراشی کرنے والے عناصر کو ادارے کی طرف سے شہر اور شہریوں کے لئے کی گئی محنت اقدامات اوردی گئی قربانی نظر نہیں آتیں
تمام مکتبہ ہائے فکر کے افرادکے علم میں ہے کہ واٹربورڈ اپنے وسائل سے پاکستان کی معاشی حب کراچی کے شہریوں کی خدمت کررہا ہے،یہ اپنے اخراجات خود برداشت کرنے والا واحد سرکاری شہری خدمتی ادارہ ہے،یہ اپنے ملازمین کی تنخواہ سمیت دیگر اخراجات اپنی ٹیکس ریکوری سے پوری کرتا ہے،اس کے علاوہ مختلف پمپنگ اسٹیشنز جن کی تعداد 160سے زائد ہے کی مرمت، پانی اور سیوریج کی لائیں کی مرمت،ٹرانسپورٹیشن سمیت دیگرخرچ اپنے وسائل سے کرتا ہے او ر یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ واٹربورڈ کے پاس شہرکی طلب سے نصف سے بھی کم پانی دستیاب ہے اس کے باوجود واٹربورڈ دستیاب قلیل پانی کی قلیل مقدار کو ملک کے سب سے بڑے شہر کے کونے کونے تک پہنچا اور اس کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائے ہوئے ہے، شہر کے 60سال پرانے سیوریج نظام کو جیسے تیسے رواں رکھے ہوئے ہے
لاک ڈاؤن کے سبب واٹربورڈ کا ٹیکس وصولی کا نظام بے حد متاثر ہوا کہ ایک مثالی شہری خدمتی ادارہ مالی بحران کا شکارہوگیا ہے، اس کہ باوجود مینیجنگ ڈائریکٹر واٹر بورڈ اسداللہ خان پرعزم ہیں انہوں نے بہتر منتظم ہونے کا ثبوت دیا،تمام تر چیلنجز کا مقابلہ کیا اور ملازمین واٹربورڈ کے حوصلے بلند رکھے،کرونا کی وبا اور لاک ڈاؤن کی صعوبتوں کے باوجود دن رات شہریوں کی خدمت کرنے والے واٹر بورڈ کے کسی بھی ملازمین کو تنہا نہیں چھوڑا، ان کی خبرگیری کی،اسداللہ خان کے ان اقدامات نے واٹربورڈ کے محنتی اور فرض شناس ملازمین جذبہ وجنون ِ خدمت کو بلند رکھا
ان تمام حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے میری وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ، وزیربدیات وچیئرمین کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ سید ناصر حسین شاہ سے اپیل ہے کہ وہ ر کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ملازمین کی کڑے حالات میں کی گئی محنت وخدمت کو مدنظر رکھتے ہوئے ملازمین واٹربورڈ کیلئے اسپیشل گرانٹ جاری کرنے کا اعلان کریں، انہیں کم از کم ایک مکمل تنخواہ کے برابر بونس دیا جائے تاکہ سندھ حکومت کی شہرت اور نیک نامی کا باعث بننے والے محنت کشوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔