وفاقی حکومت سندھ کے لئے تعصب کی عینک ملک کے مفاد میں اتار دے

کراچی  :  وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں صوبہ سندھ کو ہدفِ تنقید کا نشانہ بنایا ان سے اس موقع پر اس طرح کی باتوں کی امید نہیں تھی اور جس طرح مراد سعید نے بیان دیا وہ بھی انتہائی منفی رویہ ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ شاہ محمود قریشی اور مراد سعید کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ سندھ سے کس قدر نفرت اور تعصب رکھتے ہیں۔اس موقع پر جبکہ پورے ملک میں وبائی مرض کی وجہ سے ایک افراتفری کی فضا ہے اس طرح کی بات کرنا انسانیت سے گری ہوئی حرکت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ایک ہونے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی پالیسی ہمیشہ سے رہی ہے کہ ہم سب کے ساتھ مل کر کام کریں ہمارے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ہدایت ہے کہ اس وبائی مرض کے دوران تمام اختلافات بھلا کر عوام کی صحت کے لیے متحدہ جدوجھد کی جائے اور اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیا جائے لیکن اس سلسلے میں وفاقی حکومت کا رویہ شروع دن سے ہی غیر سنجیدہ ہے۔ پہلا کورونا کیس آ نے سے لے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس کو لے کر آج تک ہر بات ریکارڈ پر ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں وزیراعظم اپنی بات کرکے بنا کسی کی بات سنے اجلاس سے چلے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ وزیراعظم پورے ملک کے وزیراعظم ہیں لیکن انہوں نے اس کڑے وقت میں عوامی نمائندوں کی بات بھی سننا گوارا نہیں کی۔ ان کا رویہ جمہوریت کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی بہتری نہیں آئی ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو اس کے بعد سے ہر ہر شعبہ میں ترقی ہوئی ہے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ اس کے بعد سے جتنی مفت دل کی سرجری ہوئی ہیں شاید پورے ایشیاءمیں نہیں ہوئی ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ NICVD میں دل کی مفت سرجری اور اس کے دائرہ کار میں اضافہ کیا گیا اور موبائل یونٹ اور ہارٹ پین یونٹس کا پورے صوبے میں قیام عمل میں لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال میں کینسر کا علاج سائبر روبوٹ جیسی جدید ٹیکنالوجی سے ممکن ہوا۔ سول اسپتال میں ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی کی سربراہی میں کینسر کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے علاج ہونا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ گمبٹ میں گمبٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کا قیام عمل میں لایا گیا جہاں جگر کی پیوندکاری کی جاتی ہے جو کہ پہلے پاکستان میں نہیں ہوتی تھی اب ہو رہی ہے اور سندھ میں مزید میڈیکل کالجز کا قیام بھی اٹھارویں ترمیم کے بعد ہی ہوا ہے۔

سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آ پ ہمارے پاس آئیں تو ہم آ پ کو دکھائیں گے کتنے کام ہوئے ہیں۔ وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ کسی بھی معاملے میں سندھ کو ہدفِ تنقید بنانے سے پہلے اس کا موازنہ ملک کے دیگر صوبوں سے کیا جانا چاہئے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ ابھی تک اٹھارویں ترمیم پر مکمل طور پر عملدرآمد ہوا ہی نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت سے امداد کا جو مطالبہ کیا ہے وہ بھی اسی تناظر میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امداد کا مطالبہ صرف صوبہ سندھ کے لیے ہی نہیں کیا بلکہ تمام صوبوں کے لیے کیا ہے۔سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کے حامی ہیں لیکن بات صرف سندھ کی ہی کی جاتی ہے جبکہ پنجاب میں دو سال پہلے لوکل باڈیز ختم کردی گئیں اور ان کے الیکشنز آ ج تک نہیں ہوئے۔ کے پی میں اور بلوچستان میں بہت عرصے سے انتخابات کو ملتوی کیا جارہا ہے لیکن تنقید کا نشانہ صرف صوبہ سندھ ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس وقت سندھ کو نشانہ بنانے کا مقصد اٹھارویں ترمیم کو سبوتاڑ کرنا ہے ہمارے چیئرمین نے بارہا یہ کہا کہ اس وقت صرف اور صرف اس وباء سے بچاو ٔ کی تدابیر کی جائیں اور باقی باتیں بعد کے لئے اٹھا رکھی جائیں لیکن اس کڑے وقت میں کبھی تو کتے کے کاٹے کی ویکسین کی آڑ میں سیاست کی جاتی ہے کبھی کسی اور بات کو لے کر پیپلز پارٹی کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور اٹھارویں ترمیم کو ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تانہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کا وڑن تو ان کے قائدین کے بیانات سے جھلکتا ہے۔ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو سندھ کے عوام کو عالمی وبا سے بروقت بچانے کی سزا دی جارہی ہے۔ صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور NFC پر حملے کرنے کے لیے سندھ دشمنوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ ہینڈ آؤٹ نمبر 384