پہلا دن

شہناز احد
کل سرکاری طور پر لاک ڈاؤن میں نرمی کا پہلا دن تھا۔ بنک کے کچھ کام کی وجہ سے میرا نکلنا بھی ضروری تھا۔ ایک ہی بنک کی دو تین شاخوں کو جھانکتی میں کھڈا مارکیٹ تک پہنج گئی۔ بنک کھلا تھا کہنی سے دروازہ دھکیلتی اندر داخل ہوئی کہ گزشتہ تین دہائیوں سے ہسپتالی فضا میں رہنے کے باعث کچھ احتیاطی عادات زندگی کا حصہ بن چکی ہیں۔
بنک کے حاضر عملے میں سے صرف ایک فرد کی گردن میں اس کا ماسک سگنل ڈاؤن کی طرح جھول رہا تھا۔ میرا سوال سن کر انھوں نے سسٹم ڈاؤن ہے کہتے ہوۓ منہ بھی لٹکا لیا۔
بنک کے عملے اور اندرونی ماحول کو دیکھ کر مجھے صبح سویرے خبر نامہ اس کے مندرجات بے اختیار یاد آۓ اور دل نے بے ساختہ کہا ہمیں کوئی نہی سدھار سکتا۔
باہر نکلی تو صبح چھ بجے دوکانیں کھلنے والے حکومتی حکمنامہ کا مزاق دوکانوں کے بند شٹر اڑاُ رہے تھے۔ راستے میں میرے مطلوبہ موبائل کمپنی کا آفس بند تھا اور باہر کھڑا گارڈ کچھ بتانے سے قاصر تھا۔ البتہ ہر بازاری گزر گاہ میں خربوزے۔ تربوز اور کیلوں سے بھری ریڑیاں اپنے کاروبار میں ضرور مصروف تھیں۔
ایک لمبا چکر لگا کے ڈی ایچ اے فیز ٹو تک آگئی کہ اس کے کمرشل ایریا میں تقریباً ہر بنک کی شاخ ہے۔
ایک لائن میں محمود ایاز کی طرح ایستادہ بنکوں کے باہر اندر جانے کے خواہشمندوں کی شانہ بشانہ لائن لگی تھی۔ صرف ایک بنک کے باہر دھوپ سے بچاؤ کے لئے شامیانہ لگا ہوا تھا۔ جبکہ دیگر کے سامنے سماجی فیصلے کی دھجیاں اڑاتےُ ہوۓ اندر جانے کے خواہشمند ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے کے قریب دھوپ سے بچنے کی ناکام کوشش کر رہے تھے۔

یہ سب دیکھتی اپنی مطلوبہ برانچ تک پہنچ گئی اور پہلے سے باہر موجود چھ افراد میں سے دو ماسک پہنے کے ساتھ تیسری میں بھی شامل ہوگئی۔
حکومتی اعلان کے مطابق اس سینا ٹیز ر اور دیگر حفاظتی اشیا کو ڈھونڈتی رہی جس کو لازمی قرار دیتے ہوۓ حکومت لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی کرنے کے لئے تیار ہوئی ہے۔
اندر سے دو کے باہر آنے کے بعد دو اور اندر چلے گۓ۔
چند منٹ بعد میں بھی لوگوں کے ہاتھوں سے داغ دار شیشے کے دروازے کو اپنی کہنی سے دھکیلتی اندر داخل ہوگئی۔ اندر موجود عملے میں سے صرف دو افراد نے ماسک پہنے ہوۓ تھے۔
کاغذی کاروائی کی تکمیل کے بعد کیشیر نے کثرت استمعال سے نحیف و نزار نوٹ میری جانب بڑھاۓ اور میرے یہ کہنے پر کہ انھیں لفافے میں ڈال دیں یا کاغذ میں لپیٹ دیں اس نے انتہائی حیرت زدہ آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوۓ کہا سامنے کی میز سے پتہ کرلیں۔ میرا یہ سوال بنک کے عملے کے لئے سوالی کا سوال بن گیا تھا۔ دس منٹ کے بعد بلآ خر ایک عدد بوسیدہ لفافہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔
باہر نکلی تو ایک اور منظر حیرت زدہ کر گیا کہ سڑک کی دوسری جانب واقع ایک نجی ہسپتال کا عملہ آئی سی یو اور نرسنگ کے لباس میں ملبوس سرجیکل ماسک سے کھیلتے ہوۓ اندر جانے والوں کی لائن میں کھڑے سرگوشیاں کر رہے تھے گویا کرونا کا مذاق اُڑا رہے ہوں۔
تھوڑا آگے بڑھی تو ایک محترم ڈاکٹر اپنے ملبوس پر سفید کوٹ اور اس کے اوپر مزید حفاظت کے لئے پہنا جانے والا نیلا ایپرن نما کوٹ پہنے ایزی لوڈ کی دکان سے نکل رہی تھیں اور ان سب کو واپس اپنی ڈیوٹی پر جاکے اُن سب کو سنبھالنا تھا جن کی زندگیوں کی ڈور کا ایک سرا ان کے ہاتھوں میں ہے۔

سڑک پر اہل کراچی ایک دوسرے کے پیچھے مختلف سواریوں میں دوڑے جارہے تھے لگتا تھا سب کی بیک وقت لاٹری نکل آئی ہے یا شام پانچ بجے رک جانے والی ٹرین میں سوار ہونا ہے۔ یوں لگ رہا تھا زمین سے ابل رہے ہیں۔
بچوں کو کا ندھوں پر لٹکاۓ۔ گود میں اٹھاۓ ،چادروں برقعوں میں ملبوس ، محروموں یا ہم جولیوں کے سنگ کھلے چہروں کے ساتھ یوں جارہی تھیں کہ انھیں کسی بات کا خوف نہی۔
کھلتی دکانوں ان کے باہر منتظر کھڑے مرد وزن کو دیکھ کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ “ ہم “ بہ حثیت قوم کب اتنے بالغ ہوں گے اپنی اجتماعی اور قومی ذمہ داریوں کو اپنے حقوق و فرائض کو اپنی ذمہ داری سمجھ سکیں۔
گزشتہ ڈیڑھ ماہ کی اس جزوی تالا بندی میں مرکز اور صوبے ہمیں یہی سمجھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ کرونا جیسے موذی وائرس سے بچنے کے لئے سماجی فاصلہ ، ہاتھوں کی صفائی ، منہ کان کی حفاظت کتنی ضروری ہے۔
ساری دنیا اور اپنے ملک میں مرنے والوں کے اعداد وشمار دیکھنے اور سننے کے باوجود اگر ہم سمجھنے اور سنبھلنے کو تیار نہی تو حکومت وقت ہمیں زندہ اور چلتا پھرتا دیکھنے کے لئے ہر فرد کے پیچھے کسی اہلکار کو مامور نہی کرسکتی۔
ہماری زندگی ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں ہی پوری کرنی ہے۔
جب ہم نہی ہونگے تو چھوٹے بڑے کاروبار ، رمضان ، عید بقر عید،فاقے ، تماشے سب دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔
ان سب کی زندگی “ ہم “ ہی ہیں !