پہلی تا آٹھویں جماعت تک کے بچوں کے امتحانات نہیں لئے جائیں گے، انہیں اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی جائے گی

کراچی :  وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ میں پہلی تا آٹھویں جماعت تک کے بچوں کے امتحانات نہیں لئے جائیں گے اور انہیں اگلی کلاسوں میں ترقی دے دی جائے گی، البتہ کچھ اہم مضامین میں جو بچے کمزور ہوں گے اسکولز ان کے امتحانات لے سکتی ہے۔ کلاس نہم تا بارہویں جماعتوں کے امتحانات کے حوالے سے محکمہ تعلیم سندھ کی اسٹیرنگ کمیٹی نے تمام بورڈز کے چیئرمینز بشمول آغاخان بورڈ اور سیکرٹری تعلیم، کالجز اور بورڈ و جامعات کے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو آئندہ 24 گھنٹوں میں اپنی رپورٹ مرتب کرکے انہیں فراہم کرے گی، جسے میں نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی میں رکھوں گا اور جو فیصلہ مذکورہ کمیٹی کرے گی، اس پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ سندھ حکومت بچوں کی صحت پر ایک فیصد بھی رشک نہیں لے سکتی اور خدانخواستہ وائرس سے یہی حالات رہے تو ہم 5 سال بھی تعلیمی ادارے بند کردیں گے لیکن اس کے متبادل تعلیم کو رائج کردیا جائے گا۔ پی ٹی آئی اور کرونا وائرس کی قریبی رشتہ داری ہے، جس کا معلوم کرنا ہوگا اور وفاقی وزیر خزانہ کراچی کے دورے پر کرونا وائرس سے نبردآزما ہونے نہیں بلکہ کسی اور مقصد کے تحت آرہے ہیں۔ انڈس اسپتال کو متنازعہ بنانے والے رونا وائرس کے شکار پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں کا ضمیر اور انسانیت دونوں ہی ختم ہوگئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز محکمہ تعلیم کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سیکر ٹری تعلیم سندھ سید خالد حیدر شاہ، سیکرٹری کالجز سندھ باقر نقوی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ قبل ازیں صوبائی وزیر کی صدارت میں اسٹیرنگ کمیٹی کا اجلاس دو گھنٹے سے بھی زائد وقت تک جاری رہا۔

اجلاس میں صوبہ سندھ میں تعلیمی سال، چھٹیوں کے خاتمہ، پہلی تا آٹھویں اور نویں تا بارہویں جماعت تک کے امتحانات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیاگیا۔ اجلاس میں نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشنز کے عہدیداران نے انہیں درپیش دیگر مسائل سمیت تمام پر کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ بعد ازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر تعلیم و محنت سندھ سعید غنی نے کہا کہ وفاقی وزیر تعلیم کی جانب سے دو روز قبل ہی این سی سی کے اجلاس میں کہا گیا تھا کہ نویں تا بارہویں جماعت کے امتحانات نہیں لئے جائیں گے اورتمام طلبہ و طالبات کو اگلے درجوں میں ترقی دے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے ہم سے کسی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی گئی تھی اسی لئے ہم نے ان پر واضح کردیا تھا کہ محکمہ تعلیم صوبہ سندھ اس حوالے سے اپنی اسٹیرنگ کمیٹی کی مشاورت کے بعد کوئی لائحہ عمل طے کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب گذشتہ رات خود وفاقی وزیر تعلیم نے اس بات کو تسلیم کرلیا ہے کہ ان کے اس فیصلے سے مشکلات سامنے آرہی ہیں اور وہ اس حوالے سے دو روز کے بعد دوبارہ اس پر مشاورت کریں گے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس سلسلے میں منگل کے روزاسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں ہم نے اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں شاید قانون میں ترامیم بھی کرنا پڑے گی، اس لئے اسٹیرنگ کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں تمام بورڈز کے چیئرمین بشمول آغا خان بورڈز، محکمہ تعلیم، کالجز اور بورڈز و جامعات کے سیکرٹرز شامل ہوں گے اور یہ کمیٹی آئندہ 24 گھنٹوں میں تمام صورتحال اور قانونی معاملات کو دیکھتے ہوئے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ سعید غنی نے کہا کہ ہم این سی سی کے اجلاس میں مذکورہ رپورٹ کو پیش کردیں گے اور اس کے بعد جو فیصلہ کیا جائے گا اس حوالے سے لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ سعید غنی نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو یکم جون سے نہیں کھولا جاسکتا اور اب آئندہ اس کو کب کھولنا ہے، تعلیمی سال کے آغاز سمیت دیگر کے لئے دوبارہ اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی تا آٹھویں جماعت تک کے طلبہ و طالبات کو بغیر امتحانات لئے دوسری کلاسوں میں ترقی دے دی جائے گی البتہ اس حوالے سے نجی اسکولوں نے ایست بچوں کو جو اہم مضامین میں کمزور ہیں ان کے ٹیسٹ لے کر ترقی دینے کی سفارش کی ہے، تاہم وہ بچے بھی اگلے درجے میں ترقی کرجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے سندھ حکومت کا واضح موقف ہے کہ اگر خدانخواستہ کرونا وائرس کا پھیلاؤ جاری رہا تو ہم 5 سال بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے پڑیں گے تو رکھیں گے لیکن ہم بچوں کی صحت پر کوئی رشک نہیں لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے سرکاری اسکولوں میں بھی آن لائن تعلیم کی فراہمی کے حوالے سے تیاریاں مکمل کرلی ہیں اور جن دور دراز گاؤں اور دیہاتوں میں جہاں انٹرنیٹ کی سہولیات نہیں ہیں، وہاں بھی تعلیم کی فراہمی کے لئے کام کا آغاز کردیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم کے قانون میں ترمیم وفاقی نہیں صوبائی قانون میں درکار ہوگی جس کو ضرورت ہوئی تو ہم کرلیں گے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم وفاق کے ساتھ مکمل رابطے میں رہیں اور ایک جیسے فیصلے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرکے انڈس اسپتال جو اس وقت بہت بڑا کام کررہا ہے، اس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ انڈس اسپتال کی ساخ پر کوئی شک نہیں کیا جاسکتا البتہ ان کا قصور صرف اتنا ہے کہ وہ اس فلاہی کام میں سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ انڈس اسپتال کو متنازعہ بنانے کی پی ٹی آئی کو کوشش کی ہم مذمت کرتے ہیں اور اب ہماری بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ پی ٹی آئی اور ان کے رہنماؤں کو رونا وائرس ہوگیا ہے اور اس وائرس میں وہ اپنے ضمیر اور انسانیت کو بھی ختم کرچکیں ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور کرونا وائرس میں کوئی قریبی رشتہ داری ہے، جس کا پتہ لگانا ہوگا اور وزیر اعظم جو کہ وزیر صحت بھی ہیں وہ نہ تو قومی اسمبلی کے اجلاس میں آتے ہیں اور نہ ہی انہیں صوبہ سندھ آنے کی توفیق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سندھ کے دورے پر وزیر خارجہ کرونا وائرس کے لئے آرہے ہیں جو کہ دراصل کرونا وائرس کے رشتہ داروں سے ملنے آرہا ہے۔