ہاکی گول کیپر اولمپیئن منصور احمد کو ہم سے بچھڑے دوسال بیت گئے

کراچی : پاکستان کے مایہ ناز ہاکی گول کیپر اولمپیئن منصور احمد کی آج دوسری برسی منائی جارہی ہے، انیس سو چورانوے کے ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی کا منصور احمد کو ہیرو مانا جاتا ہے۔

منصور احمد12مئی 2018کو خالق حقیقی سے جاملے تھے، اس سے قبل منصور احمد کا جون 2016 میں آپریشن ہوا تھا، ان کے دل میں پیس میکر لگا یا گیا تھا، وہ عارضی طور پر صحت یاب ہوگئے تھے۔ البتہ 2018 میں ان کی صحت تیزی سے بگڑ گئی، اپریل کے اوائل میں یہ رپورٹ آئی کہ ان کے دل میں خون پمپ کرنے کی صلاحیت محض 20 فیصد رہ گئی ہے۔

انہوں نے 1986 سے 2000 تک قومی ہاکی ٹیم میں بحیثیت گول کیپر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا. اپنے کیریر میں منصوراحمد نے 338 عالمی میچز کھیلے۔ وہ ماضی میں ایشیا کے نمبر ون گول کیپر بھی رہے، اولمپکس کھیلتے ہوئے انہوں نے متعدد سلور اور گولڈ میڈلز اپنے نام کئے۔

واضح رہے کہ گول کیپر منصور احمد نے آسٹریلیا میں 1994 کے ہاکی ورلڈ کپ کے فائنل میں ہالینڈ کے خلاف پینلٹی اسٹروک پر گول روک کر قومی ٹیم کو چوتھی بار عالمی چمپیئن بنایا تھا۔

دنیائے ہاکی کے نامور کھلاڑی بھی گول کیپر منصور احمد کا سامنا کرتے ہوئے گھبرا جاتے تھے، اس عظیم اولمپیئن کو ہم سے بچھڑے دوسرے سال بیت گئے ہیں۔

منصوراحمد کی شاندار گول کیپنگ کے فن نے پاکستان کو انیس سو چورانوے کے ہاکی ورلڈ کپ اور چیمپیئنز ٹرافی کا چیمپیئن بنایا تھا، آخری دم تک وہ ہاکی کی بہتری کیلئے کوشاں دکھائی دیئے
اولمپیئن منصور احمد نے تین سو اڑتیس انٹرنیشنل میچز کھیلے۔ تین اولمپکس اور کئی ہائی پروفائل ایونٹس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل کیا، صدارتی ایوارڈ یافتہ کھلاڑی کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا ہے۔