تیاری کرلو، ہم پنجاب کےبعد سندھ میں اپنا لوہا منوانے آرہے ہیں، شاہ محمود قریشی

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کورونا کے باعث غیریقینی صورتحال کا سامنا ہے، کورونا کے باعث مستحکم معیشتوں کے بھی ہاتھ پاؤں پھول گئے ہیں ، پاکستان کو اس آفت کا مقابلہ کرنا ہے اور ہم کررہےہیں ، مجھے امید ہے ہم کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوں گے۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ کنفیوژن کوئی نہیں ، صورتحال واضح ہے ، پالیسی مرتب کی جاچکی ہے، جو پالیسیاں بنائی گئی ہیں ان میں صوبوں کی مشاورت شامل ہے ، جن پالیسیوں پر عملدرآمد ہورہاہے ان میں پیپلزپارٹی کا ہاتھ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ بھی این سی سی کے ممبر ہے ، تاثردیاجارہاہے اس وبا کا حل لاک ڈاؤن ہے جو کہ ایسابالکل نہیں ، کورونا کا اصل حل ویکسین کا آنا ہے ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان بھی صورتحال پر آن بورڈ ہیں ، لاک ڈاؤن صرف وباکےحل کاایک جز ہے ،جو احتیاطی تدابیر میں شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم روزانہ کورونا کی صورتحال پرمیٹنگزکرتے ہیں، شیری رحمان کے کنفیوژن سے متعلق بیان کا احترام کرتا ہوں، میں اختلاف کروں گا کیونکہ اسکے خلاف ملکر حکمت عملی تیار کی گئی، ویکسین میں18 ماہ بھی لگ سکتے ہیں اور زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت میں پارلیمان کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، یہ قومی ایمرجنسی ہے اس کیلئے پوری فیڈریشن کو ملکر کام کرنا ہے، پیپلزپارٹی کے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کہتے ہیں اجلاس نہ بلائیں، سلیم مانڈوی والاکاتعلق پی پی سےنہیں توبیان واپس لے لیتاہوں، پیپلزپارٹی پہلے اپنی صفوں میں اتحاد کرلیں پھربات کریں۔

پیپلز پارٹی کے حوالے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سے پہلے ان میں حوصلہ ہوتاتھااب پیپلزپارٹی میں عجلت دکھائی دے رہی ہیں، جمہوریت کا درس دینے والوں کا آج حوصلہ دیکھ لیں ، پیپلزپارٹی مت گھبرائیں ، ہم ساتھ دیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس وبا سے نمٹنے کیلئے تمام فریقین کو ملکر کام کرنا ہوگا ، پہلے پیپلز پارٹی اپنی صفوں کے اندر اتفاق راے پیدا کر لے، پیپلز پارٹی کی قیادت خود اجلاس بلانےکیلئے بحث و مباثہ کا شکار رہی۔

اٹھاویں ترمیم سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 18 ویں ترمیم کا حترام کرتے ہیں،یہ آپ کو خودمختاری دیتی ہے، کل بھی سنا بڑا ظلم ہوگیا کہ آرڈیننس واپس کیاگیا، سندھ حکومت اپنی گریبان میں جھانک کردیکھیں ،کیا حکومت ان چیزوں پرقانون سازی کرسکتی ہیں جواختیارنہیں ، ہم نے یوٹیلیٹی بلزمیں ریلیف دیا،آپ کون ہوتےہیں ریلیف دینےوالے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ اپنی مرضی اورسیاسی نشوونما کی کوشش کریں گے توایسا نہیں ہوگا، کہاجاتاہےسندھ کیساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ایسابالکل نہیں، وفاق نےآبادی کے تناسب سے سندھ کو زیادہ تعاون فراہم کیا، سندھ کے ساتھ زیاتی نہیں ہوئی اور نہ ہوگی ، ہم اصولو ں کےقائل کل بھی تھے آج بھی ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ حکومت 18ویں ترمیم کا خاتمہ نہیں چاہتی، ہمیں اٹھارویں ترمیم کے عمدہ پہلو قابل قبول ہے، ہم صرف 10سال کی کمزوریوں پر نظر ثانی چاہتے ہیں۔

کورونا آرڈینس کا حوالے دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا ہم نے سندھ حکومت کاآرڈیننس واپس کیا، اگر آپ اپنی مرضی اورسیاست کرناچاہیں توایسا نہیں ہوسکتا، تیاری کرلو ،ہم پنجاب کے بعد سندھ میں اپنا لوہا منوانے آرہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی سندھ کی ٹھیکدار نہ بنے ، سندھ کے دارالحکومت میں پی ٹی آئی ،ایم کیو ایم کی اکثریت ہے ، پیپلز پارٹی سے وفاقیت کی خوشبو آتی تھی آج کل صوبائی بدبوآ رہی ہے، ہمیں معلوم ان کو راشن کی تقسیم میں مشکلات آئیں، آج یہ بات سپریم کورٹ پہنچ گئی ،اندرون سندھ کہاں لاک ڈاؤن ہے ، لاک ڈاؤن بڑھاتے تو ایک کروڑ 80لاکھ لوگ بے روزگار ہوتے۔

بھارت کی صورتحال سے متعلق انھوں نے کہا کہ نریندرمودی نے کورونا کی آڑمیں تعاون نہیں دیا، میں او آئی سی اورپوری دنیا کےوزرائےخارجہ کوخط لکھا، خط میں پوچھوں گا کہ مسئلہ کشمیرپراو آئی سی کیوں نہیں بول رہی ہے۔

Courtesy Ary urdu