غربت اور مجبوریاں : سیٹھ احمد داؤد سے عام آدمی تک

سہیل دانش
اسکول کے دور میں جو قلمکار میرے اعصاب اور احساسات پر چھایا رہا وہ ابن صفی تھے ۔ اُن کے تصوراتی اور تخیلاتی کردار سچ مچ میری سوچ کا محور تھے ۔ چھلاوے کی طرح ان کی حرکات و سکنات میرے خیالات کے گرد ہالہ بنائے رکھتے تھے ۔ میں ابن صفی کو نہیں جانتا تھا لیکن واہ رے کمال ان کے قلم کا کہ ان کا کردار میرا آئیڈیل بن جاتا ۔ پھر قریبی محلے کی لائبریری سے دو آنے روز پر لے کر میں اشتیاق احمد کی جاسوسی ناولز پڑھنے لگا ۔ کالج کا دور شروع ہوا تو شورش کاشمیری کی تحریروں کا عشق سوار ہوگیا ۔
الطاف حسن قریشی اردو ڈائجسٹ میں کیا خوب لکھتے تھے ۔ خوبصورت ادب اور تیور بدلتے واقعات کی منظر کشی کوئی ان سے سیکھے ۔ ممتاز مفتی کے قلم کی حرارت شاید ہی کوئی ہو جو محسوس نہ کرتا ہو ۔ طنز و مزاح میں ابراہیم جلیس کی تحریریں جو بے زبان الفاظ کو چھولیں تو وہ چلنے لگتے تھے ۔ انعام درانی کے الفاظ تو طغیانی کے مانند تھے ۔ جو سب کچھ بہا کر لے جاتے ۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے کئی سال حیدرآباد کی برٹش کونسل امریکن سینٹر اور پاکستان سینٹر کے علاوہ مختلف لائبریریوں کی خاک چھانتے گزار دیئے جو کتاب جو کاغذ ملا، پڑھ ڈالا ۔ خواہ اس کا تعلق تاریخ سے تھا، ادب سے بین الاقوامی تعلقات عامہ سے یا دنیا میں سائنسی علوم کے ارتقاء کے سفر سے، فلکیات سے یا پامسٹری سے، نفسیات میرا پسندیدہ مضمون تھا ۔ سقراط، افلاطون اور ارسطو تک جو کچھ ملا نظروں سے گزار دیا ۔ انسائیکلوپیڈیا اور ورلڈ بکس میں معلومات کا ذخیرہ بھی نظروں سے گزارتا اور ذہن میں سموتا رہا ۔ میری زندگی میں تبدیلی کا مرحلہ اس وقت آیا جب محترم ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان کی صحبت نصیب ہوئی جن سے میں نے سیکھا کہ مصلے پر خدا کے سامنے بیٹھنے کے آداب کیا ہیں ۔ یونیورسٹی کے دور میں کسی صحافی سے میری پہلی ملاقات جناب ادریس بختیار سے ہوئی ۔ ادریس بختیار سے میرے دوست جناب انوار احمد زئی نے متعارف کروایا وہاں سے وہ ادریس بھائی بن گئے ۔ ادریس بھائی اس وقت ایک جانے مانے صحافی بن چکے تھے ۔ یہ سب ہی جانتے ہیں کہ حیدرآباد کے رشتے میں بڑی چاشنی ہے ۔ پھر یہ رشتہ احترام اور محبت میں تبدیل ہوگیا اور پھر یہ ان کی زندگی کے آخری لمحے تک قائم رہا ۔ ان کا خیال آتا ہے تو سوچتا ہوں کہ کیا لکھوں زندگی کے بارے میں وہ لوگ ہی بچھڑ گئے جو زندگی ہوا کرتے تھے ۔

ادریس بھائی پر پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا ۔ آج میں ان لوگوں کا تذکرہ کروں گا ۔ جنہیں میں نے بہت قریب سے دکھوں ، اذیتوں اور مسائل میں جکڑا دیکھا ۔ صحافتی زندگی کا آغاز کیا تو مجھے اس وقت پہلی بار حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے اس قول کا ادراک ہوا ۔ درحقیقت دوسروں کے لئے سوچنے والا ہی انسان ہوتا ہے ۔ صرف اپنا ہی سوچنے والا جانور ہوتا ہے ۔
چاردہائیاں پہلے مجھے کسی کی بے بسی معذوری اور مفلوک الحالی کا احساس ہوا ۔ وہ ماں پہلے دن مجھے اپنے آفس کے نیچے ریسپشن پر ملی ۔ شاید وہ ہم اخبار والوں کو اپنا مسیحا سمجھ کر یہاں آپہنچی تھی ۔ اس کا شوہر کینسر کے مرض میں مبتلا تھا ۔ تین بچیاں اور ایک بیٹا تھا ۔ معمولی سی ملازمت کر کے اپنا گزر بسر کرتی لیکن اب ہمت ہار چکی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں یاس اور لہجے میں مایوسی، زندگی زرد سورج کی طرح مرجھانے کو تھی، کہنے لگی میری مدد کریں ورنہ اب مرنے کے علاوہ دوسرا راستہ نہیں ، اس کی آنکھوں میں نہ کوئی سپنا تھا نہ کوئی آس نہ کسی بڑے شخص سے ملاقات کی اُمید ۔ نہ کسی مخیر شخص کے غیبی ہاتھ کا انتظار، نہ کسی دستک، کسی پرائز بانڈ، کسی لاٹری کسی خط کی اُمید ۔
میرے ساتھ کھڑے جناب عبدالوحید حسینی نے کہا ہم آپ کی اسٹوری چھاپ سکتے ہیں ہم نے اس خاتون سے سارے کواءف لیے اور دو دن انتظار کرنے کی تسلی دے کر رخصت کردیا ۔ حسینی صاحب نے مجھ سے کہا کہ یہ خبر میں دیتا ہوں ۔ تم ایڈیٹوریل پیج پرکالم لکھ دو ۔ شاید کسی کی نظر پڑجائے شاید یہی پل اور ساعتیں تھیں کہ میں نے دکھی دل کے ساتھ ساری کڑواہٹ اور ساری تلخی کو قلم کے ذریعے کاغذ پر کالم کی شکل دیدی ۔ پھر محترم محمود احمد مدنی سے اسے چھپوانے کی درخواست کی ۔ نظر شناس ایڈیٹر نے کالم پڑھا شاباش دی اور دوسرے دن وہ ’’جنگ‘‘ کی زینت بن گیا ۔

شاید یہ قبولیت کی گھڑی تھی دوپہر دو بجے مجھے آپریٹر کے ذریعے ٹیلیفون موصول ہوا، فون کرنے والے نے مجھے بتایا کہ وہ ایک بڑے گروپ کے مالک کا پرسنل سیکریٹری بات کررہا ہے ۔ صاحب جاننا چاہتے ہیں کہ اس خاتون کی کیسے اور کیا مدد کی جاسکتی ہے ۔ وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں ۔ یہ شخصیت ہمارے چیف ایڈیٹر محترم میر خلیل الرحمن صاحب کے دیرینہ دوست تھے میں ان سے دوبار جنگ کے لئے انٹرویو کرچکا تھا ۔ پھر چیمبر اور فیڈریشن کی کئی میٹنگز اور محفلوں میں ملاقاتوں کے یعد تعلقات شناسائی سے آگے بے تکلفی تک تھے ۔ دوسرے دن میں وحید حسینی اور وہ مفلوک الحال خاتون پاکستان کے سب سے بڑے سیٹھ کے سامنے بیٹھے تھے ۔ سیٹھ احمد داؤد نے کہا یہ بتاءو کیا کرنا ہے ۔ محض چند منٹ میں اس عورت کی مایوسی، پریشانی اور افسردگی اُمید اور اطمینان میں بدل گئی ۔
لیکن اس دن میں نے یہ سبق سیکھ لیا کہ جہاں اس معاشرے میں بھوک محتاجی اور اندیشے رینگ رہے ہیں ۔ جہاں 90 فیصد بے بس مجبور اور محروم اُمیدوں کی ایسی بالیٹیاں بھرنے کی کوشش کررہے ہیں جن کے پیندے نہیں ہیں ۔
میں نے یہ بھی سیکھ لیا کہ جہاں ایک طرف اس ملک میں کرپشن لوٹ کھسوٹ اور ہیرا پھیری کا بازار گرم ہے، بے حسی کا راج ہے، جہاں غریب لوگ ان ماں باپ اور بیوی بچے یہ جان چکے ہیں کہ انہیں ایک حق حاصل ہے اور وہ ہے مر جانے کا حق، لیکن جب بھی میں نے معاشرے میں ایسے لوگ دیکھے جب بھی اس ملک میں بے چینی بے کلی اضطراب اور مفلوک الحالی دیکھی، میں نے جب بھی ایسے واقعات لکھے یقین جانیں یوں تو اپنی صحافتی زندگی میں مختلف موضوعات پر ہزاروں مضامین لکھے ہوں گے، لیکن معاشرتی کرب اور دکھ کی یہ داستانیں لکھ کر خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کرتا ۔ انجانی سی مسرت محسوس ہوتی اور جب بھوک، ننگ، بیماری اور ان کھردری حقیقتوں کو پڑھ کر کسی کا دل پسیج جاتا، صلہ رحمی پیدا ہوئی، آنکھیں نم ہوتیں ، یہ سلسلہ آپریٹر کے ذریعے فون وصول کرنے سے گراءونڈ فون پھر موبائل اور اسمارٹ فون ہردور پر محیط ہے ۔ یہ تحریریں پڑھ کر جب فون کی گھنٹیاں بج کر مجھے خوشخبریاں سناتی ہیں ۔ ان میں بچے بھی ہوتے ہیں خواتین بھی، دکاندار بھی، سرکاری ملازمین بھی، چند سماجی تنظیوں کے نمائندے بھی، کچھ بینکار بھی ۔ سب کا اصرار ہوتا ہے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں ۔ پھر ان میں ملک ریاض، سیٹھ ابراہیم، حبیب بینک کے سابق صدر عبدالجبار خاں ، عقیل کریم ڈیڈی، طارق سعید، ایس ایم منیر، سراج قاسم تیلی اور ان جیسے درجنوں خدا ترس لوگ ہوتے ہیں جو سیٹھ احمد داءود کی طرح صرف یہ پوچھتے ہیں ۔ یہ بتاءو کیا کرناہے کیسے کرناہے ۔

کسی اور دن ملک ریاض سے جناب سراج قاسم تیلی جیسے خدا ترس لوگوں کے احوال لکھوں گا ۔ خدا ان کی دریا دلی کو ان کے دسترخوان کی طرح کشادہ رکھے اور سیٹھ احمد داءود جیسے سخی دلوں کو خدا رب العزت جنت الفردوس میں جگہ دے ۔ بعض سخی دل لوگ ایسے بھی ہیں جن کا نام لکھوں گا تو وہ ناراض ہوجائیں گے ۔ خدمت کے مختلف شعبے ہیں ، کوئی ملازمتوں کا بندوبست کردیتے ہیں ، کوئی فوری ریلیف کے لئے مالی مدد کردیتے ہیں ۔ کوئی ماہانہ راشن کی فراہمی کو یقینی بنادیتے ہیں کوئی علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی میں ہاتھ بٹادیتے ہیں اور ادویات کی فراہمی کو یقینی بنادیتے ہیں ۔ اس موقع پر مجھے اپنا عزیز دوست ظفر اقبال یادآرہا ہے ۔ ان کی نوائے وقت اور جنگ میں ملازمت کے دوران کوئی دن ایسا یاد نہیں جب اس نے کراچی کے سرکاری ہسپتالوں میں کسی نہ کسی مریض کی اپنے تعلقات سے مدد نہ کی ہو ۔
پھر ایسے کالمز پر بے شمار کالز آتی ہیں جن میں سب کچھ نہ کچھ مدد پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں ۔ یہ سب میرے اور آپ جیسے عام سے لوگ ہیں ۔ پھر اس معاشرے میں ان لوگوں کی بھی کمی نہیں جو یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالیتے ہیں۔ مائنڈ مت کیجئے آج کل ہاتھ تنگ ہے یہ زیادہ تر صاحب ثروت لوگ ہوتے ہیں ۔
آج کل کرونا کے بعد ابتر صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا طبقہ وہ سفید پوش لوگ ہیں جن کی ملازمتیں اور آمدنی کے ذراءع ختم ہوگئے ہیں ، وہ نہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا سکتے ہیں نہ اپنی مجبوریاں بتا سکتے ہیں ۔ آپ کبھی معاشروں کی تہذیب اور ارتقاء پر نظر ڈالیں ۔ معاشروں کو عام آدمی زندہ رکھتا ہے ۔ بالائی طبقے سے ہوکر آنے والی تبدیلی جھوٹی ہوتی ہے جبکہ نچلے طبقے سے اوپر اٹھنے والی تبدیلی سچی ہوتی ہے اور یہ بھی کہ جب تک عام شخص اچھائی اور برائی پر ردعمل ظاہر کرتا ہے معاشرے کو موت نہیں آتی قو میں مرتی نہیں ۔
آپ نے نجاشی کے دربار میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کی تقریرضرور سنی ہوگی ۔ جب حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ کی خطابت نے حبشیوں کے دل پگھلا دیئے تو نجاشی نے سوال کیا ۔ معزز مہمان آپ کے نئے نبی ﷺ کو سب سے پہلے کن لوگوں نے قبول کیا ۔ ’’ حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا’’اے بادشاہ حضرت محمد ﷺ پر ایمان لانے والے عام لوگ ہیں غلام ابن غلام ہیں ۔ نجاشی نے سنا تو بلا خوف و تردد کہا ۔
اے معززمہمان تمہارا نبی ﷺ سچا ہے ۔