وفاقی حکومت بھارت سے خام مال اور ادویات درآمد بند کرنے کا فیصلہ موخر کرے.

وفاقی حکومت بھارت سے خام مال اور ادویات درآمد بند کرنے کا فیصلہ موخر کرے.
درآمد پر پابندی سے ملک میں 40 فیصد ادویات کی قلت ھوجائے گئ
ہنگامی پریس کانفرنس سے فاروق بخاری، کیپٹن اقبال، قیصر وحید اور زاہد سعید کا خطاب

PPMA press conference at KPC

کراچی: پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسو سی ایشن نے وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ بھارت سے ادویات کے خام مال کی درآمد روکنا کرونا وائرس سے نمٹنے میں پاکستان کو انتہائی مشکل کا باعث بنے گا اور پابندی سے ملک میں 40 فیصد ادویات کی قلت ھوجائے گئ

۔ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز پی پی ایم اے کے عہدیداران سینئر وائس چیئرمین فاروق بخاری، کیپٹن اقبال احمد زونل چیئرمین، سابق چیئرمین ڈاکڑ قیصر وحید اور زاہد سعید نے کراچی پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خام مال اور ادویات کی بھارت سے درآمد کے اس نظام کو چلنے دے کیونکہ اس سے پاکستان فارما انڈسڑی کی عالمی سطح پر سپلائی چین شدید متاثر ہوگی اور پاکستان کے میڈکل پریکٹشنرز کی کرونا وائرس کے علاج کی صلاحیت کمزور ہوگی

۔اس موقع پر فاروق بخاری نے کہا کہ انڈیا اور دیگر ملکوں سے خام مال اور ادویات کی درآمد باقاعدہ ایک نظام اور معیار کے تحت ہے جسے ڈرگ ریگولیڑی اتھارٹی اور دیگر حکومتی محکمے دیکھتے ہیں اور کرونا وائرس سے جنگ میں فارما صنعت کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہے اور اس وباء سے جنگ میں فرنٹ لائین پر ہے اور ہم اس حالات میں ادویات کی مسلسل فراہمی کو تقینی بنانے میں سرگرم ہیں اور صحت کے ان ہنگامی حالات میں لازمی ادویات کی قلت نہیں ہونے دینا چاہتے۔فاروق بخاری نے کہا

کہ لاک ڈاؤن اور کرونا وائرس کے حوالے سے فارما صنعت مسلسل کام کر رہی ہے اور پیداواری عمل کو جاری رکھا ہو ا ہے اور یھی وجہ ھے کہ۔لاک ڈاون میں نہ ادویات مہنگی ھوئی اور نہ اس کی قلت ھوئی ۔اس موقع پر زاھد سعید نے کہا کہ کرونا کے بڑھتے ہوئے مریضوں اور لاک ڈاؤن میں حکومت بھارت اور دیگر ملکوں سے خام مال اور ادویات کی درآمد کو


روکنے کا فیصلہ نہ کرے اس سے ملک میں انتھای لازمی 40 فیصد ادویات کی قلت ھوجائے گی اور صحت کے معاملات سنگین ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا وفاقی اور صوبائی حکومتیں ملک میں زیادہ سے زیادہ قرنطینہ سینٹرز قائم کر رہی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی بھر وقت فراہمی بھی بہت ضروری ہے اور ادویات کی مسلسل فراہمی کیلئے فارما صنعت کو خام مال کی ضرورت بلاتعطل کی جائے تاکہ اس میں کوئی پریشانی نہ ہو۔انہوں نے کہ بھارت سے خام مال درآمد کرنے کا فیصلہ گذشتہ سال وزارت صحت اور کامرس کی اجازت سے کیا گیا تھا اور اس کی سب سے اہم وجہ ملک میں ادویات کی قلت نہ ہونے دینا تھا اور اگر یہ فیصلہ نہ کیا جاتا تو ادویات کی قیمتیں بھی بڑھ جاتیں جو کہ اس مشکل صورتحال میں تباہ کن ثابت ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ واپس نہیں لیا جاتا تو اس سے ادویات کی شدید قلت اور کالا بازاری کا بھی خطرہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت سے صرف جان بچانے والی ادویات ہی درآمد کی جاتی ہیں جن میں سانپ اور کتے کے کاٹنے کی ادویات قابل ذکر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت سے جو خام مال درآمد کیا جاتا ہے وہ وفاقی محکمہ صنعت اور نیشنل ہیلتھ سروسز کے منظورہ شدہ ایس آر او نمبر 429کے تحت کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر قیصر وحید، کیپٹن اقبال احمد نے بھی خطاب کیا