فوری طور پر پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے: میاں زاہد حسین

گندم کا خوفناک بحران ملک کی دہلیز تک آن پہنچا ہے ۔
قیمت بڑھی تو صوبائی اور مرکزی حکومتوں کو سیاسی قیمت ادا کرنا ہو گی ۔
فوری طور پر پانچ لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے: میاں زاہد حسین

mian zahid hussain sme 8-5-2020

(11مئی2020)
ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ گندم کا خوفناک بحران ملک کی دہلیز تک آن پہنچا ہے ۔ ملک بھر میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ شروع ہو گیا ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو کرونا وائرس اور اسکے نتیجہ میں لاک ڈاءون سے پریشان عوام کی زندگی مزید اجیرن ہو جائے گی جبکہ حکمرانوں کو اسکی بھاری سیاسی قیمت ادا کرنا پڑے گی ۔ میاں زاہد حسین نے بزنس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ تمام محکموں نے ابھی تک ہدف کے مقابلہ میں نصف گندم بھی نہیں خریدی اور ہر قدم پر کرپشن ، نا اہلی اوربد انتظامی کی شکایات عام ہیں جو منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کی مدد کے مترادف ہے ۔ ایک طرف سرکاری سطح پر گندم کی خریداری میں سستی کی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف ذخیرہ اندوز مافیا کاشتکاروں کو لوٹ کر اپنے گودام بھر رہے ہےں ۔ انھوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوز مافیا کے خلاف سخت کاروائی کی جائے یا پھر نجی شعبہ کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دی جائے ۔ اگر نجی شعبہ کو گندم درآمد کرنے کی اجازت دے دی گئی تو مافیا خوفزدہ ہو کر گندم گوداموں سے نکا ل کر مارکیٹ میں لے آئے گی جس سے قیمت کم اور بحران کا امکان ختم ہو جائے گا ۔ گزشتہ سال بھی نجی شعبہ بار بار گندم بحران کی وارننگ دیتا رہا مگرارباب اختیار میں سے کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور غریب عوام کی جیبوں سے اربوں روپے منافع خوروں کے اکاءونٹس میں منتقل ہو گئے جن کے خلاف دعووے تو بہت کئے گئے مگرکوئی خاص کاروائی نہیں ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ سندھ اور دیگر صوبوں میں بار دانہ دینے میں تاخیر کی گئی ہے، سرکاری شعبہ گندم خریدنے میں سستی کر رہا ہے، نجی شعبہ کو گندم خریدنے سے روکا جا رہا ہے جس کی وجہ سے کراچی میں گزشتہ پندرہ دنوں میں گندم کا ریٹ 35سے 42 روپے تک چلا گیا ہے اور اگر گندم کی امپورٹ پالیسی بنانے اور اس پر عمل درآمد میں دیر کی گئی تو قیمت مزید بڑھے گی ۔ پاکستان میں فوری طور پر کم از کم5 لاکھ ٹن گندم درآمد نہ کی گئی تو بحران کو کوئی نہیں روک سکے گا ۔ گندم درآمد کرنے سے مارکیٹ میں استحکام آ جائے گا ۔