کرو نا نے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ۔لاک ڈاؤن میں نرمی سے تاجر برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے

کرو نا نے ملکی معیشت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے ۔لاک ڈاؤن میں نرمی سے تاجر برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے نرمی کا فیصلہ خوش آئند ہے

اس طرح ملک بھر میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا اور لوگوں کو اپنے روزگار کے حصول میں آسانی ہوگی ان خیالات کا اظہار پاکستان بزنس کمیونٹی کے ہردلعزیز رہنما اور ممتاز بزنس مین سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی طارق حلیم نے جیوے پاکستان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس نے جو تباہی مچائی ہے اس نے بڑے بڑے مضبوط معیشت رکھنے والے ملکوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے پاکستان کی معیشت پر بھی اس کے شدید اثرات رونما ہوئے ہیں جو آئندہ کئی مہینوں تک چیلنج دیتے رہیں گے

موجودہ صورتحال میں حکومت نے لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کر کے درست اور دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے تاجر برادری میں اس فیصلے کی وجہ سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ کئی دنوں سے گھر پر ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھا تاجر انتہائی پریشان تھا یقینی طور پر انسانی زندگی کا تحفظ اولین ترجیح ہوتی ہے آپ کاروباری سرگرمیاں شروع ہورہی ہیں تو حفاظتی تدابیر کو اختیار کرنا اور حکومت کی بنائی ہوئی ایس او پی پر عملدرآمد کرنا بھی ضروری ہوگا انہوں نے کہا کہ اس وقت چھوٹا تاجر ہو یا بڑا تاجر یا صنعتکار سب صورتحال سے پریشان ہیں معیشت کے لیے سخت چیلنج ہیں حکومت کے لیے مشکل وقت ہے لیکن ہم سب نے مل کر اپنے ملک کو آگے لے کر جانا ہے کاروباری طبقہ و صنعتکار تاجر ہو سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ امپورٹ اور ایکسپورٹ بری طرح سے متاثر ہوئی ہے لیکن اب امید ہے کہ نرمی سے معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی اور صورت حال بہتر ہوگی انہوں نے کہا کہ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ ملکی معیشت کا پہیہ بالکل رک گیا تھا اور شدید دھچکا لگا ہے بہت سے تاجر اور صنعتکار تو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں عید سے پہلے رمضان المبارک کا مہینہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کے لحاظ سے ایک اہم سیزن ہوتا ہے اور اس مرتبہ یہ سیزن بری طرح متاثر ہوچکا ہے اب عید سے پہلے کچھ دن کاروباری سرگرمیوں کو مل جائیں گے تاجروں اور صنعت کار برادری کے کارخانے اور فیکٹریاں اور کاروبار چل پڑیں گے امید ہے کہ کچھ آنسو پوچھ جائیں گے لیکن جتنا بڑا دھچکا معیشت پر لگا ہے

یہ سمجھ لیں کہ معیشت وینٹیلیٹر پر ہے اسے دوبارہ اٹھانے کے لیے بہت محنت کرنا ہوگی حکومت کو ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی بلوں اور ڈیوٹی اس کے حوالے سے صنعتکار تاجر برادری کا بہت خیال کرنا چاہیے ریفنڈز کی رقوم کی ادائیگی یقینی بنانی چاہیے بینکوں کے قرضوں کیئر شیڈولنگ اور آسان شرائط کے ذریعے اکانومی کو دوبارہ ترقی اور بہتری کے راستے پر ڈالا جا سکتا ہے ملک کی تاجر اور صنعتکار برادری اس مشکل وقت میں حکومت کے ساتھ دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے ایکسپورٹرز کو اپنے آرڈرز پورا کرنے کے لیے محنت کرنا ہوگی ۔لیبر کے لیے ایس او پی پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ ان کی زندگیاں بھی محفوظ رہیں آخر میں انہوں نے فرنٹ لائن فائٹرز یعنی ڈاکٹروں اور طبی عملے کو شاندار خدمات انجام دینے پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور مشکل وقت میں کرونا سے لڑنے والے ڈاکٹروں اور میڈیکل عملے کو قومی ہیروز کا درجہ دیتے ہوئے ان کو بہادری سے صورتحال کا مقابلہ کرنے پر سلام پیش کیا ۔

رپورٹ۔۔۔۔ صبیح سالک