سر میں گھسی ہوئی لوہے کی سلاخ ڈاکٹرز نے کیسے نکالی؟

اسرائیلی ڈاکٹرز نے ایک نہایت خطرناک اور پیچیدہ سرجری کر کے ایک شخص کی جان بچا لی جس کے سر میں ایک لوہے کی سلاخ اس طرح داخل ہوگئی تھی کہ دوسری طرف سے باہر نکل آئی تھی۔

اسرائیل کا رہائشی کامل عبدالرحمٰن تعمیراتی کام سے وابستہ تھا اور اس روز بھی وہ ایک تعمیراتی سائٹ کا جائزہ لینے گیا تھا جب اس کی زندگی کا خوفناک ترین حادثہ پیش آیا۔

پاؤں پھسلنے کی وجہ سے وہ دوسری منزل سے نیچے لوہے کی سلاخ پر اس طرح گرا کہ وہ اس کے سر میں گھس گئی اور دائیں کان کے قریب سے، بائیں آنکھ کے اوپر سے ہوتی ہوئی دوسری طرف نکل گئی
شہری کا دعویٰ ہے اس وقت اسے کوئی تکلیف نہیں ہوئی، وہ مکمل حواسوں میں تھا اور مدد کے لیے چلا رہا تھا جس کے بعد قریب ہی موجود اس کے گھر والوں اور دیگر افراد نے اسے اسپتال پہنچایا۔

اسپتال میں ڈاکٹرز نے اس کا ایکسرے کیا تو علم ہوا کہ خوش قسمتی سے سلاخ نے ان دو رگوں کو نقصان نہیں پہنچایا جو دماغ کو خون کی ترسیل کر رہی تھیں۔

تاہم ڈاکٹرز سخت پریشان تھے کہ اس سلاخ کو کیسے نکالا جائے اور لاعلم بھی کہ اسے نکالنے سے کیا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

اگلے کئی گھنٹوں تک ڈاکٹرز مختلف ایکسریز اور ٹیسٹ لیتے رہے تاکہ اندازہ لگایا جاسکے کہ اس سلاخ کو کیسے نکالا جاسکتا ہے، اس دوران ناک اور حلق کے ماہرین ڈاکٹرز کو بھی آن بورڈ لیا گیا۔

بعد ازاں ڈاکٹرز نے ناک کے ذریعے ایک طویل اور پیچیدہ ترین سرجری انجام دی اور اس کے لیے کیمرے کی مدد لی گئی، یہ سرجری 10 گھنٹے جاری رہی۔

اس دوران انہوں نے دماغ میں ایک مقام سے بہنے والے سیال مادے کے بہنے کا راستہ بھی بند کیا جو اس رگ کی لیکج کی وجہ سے بہہ رہا تھا، جبکہ مریض کے پیٹ کی چربی سے دماغ کے چند حصوں پر پیوند بھی لگایا۔

بالآخر سرجری اختتام کو پہنچی لیکن ڈاکٹرز اندھیرے میں تھے کہ مریض کے ہوش میں آنے کے بعد اسے کن تکالیف کا سامنا ہوسکتا ہے۔

کئی گھنٹوں بعد مریض ہوش میں آیا تو وہ فٹ تھا اور اسے کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا تھا، چند روز اسپتال میں رہنے کے بعد مریض صحتیاب ہو کر گھر کو لوٹ گیا، اس کے تمام اعضا بالکل ٹھیک کام کر رہے تھے جبکہ وہ معمول کی طرح بول اور سن پا رہا تھا