پی ٹی ایم کی پشت پناہی ’’ را‘‘ اور ’’ این ڈی ایس‘‘ جیسی شرپسند خفیہ ایجنسیاں کر رہی ہیں ؟ ،

یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے لڑنے میں پرعزم ہے اور اس کے ساتھ اسے دیہاڑی دار اور نادار طبقے کی مشکلات کا بھی احساس ہے۔ حکومت کی جانب سے 35 لاکھ چھوٹے کاروباروں کے 3 ماہ کے بل ادا کرنے کا اعلان یقیناً قابل ستائش ہے۔دوسری جانب اس حقیقت سے سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت کی ہمیشہ سے یہ روش رہی ہے کہ وہ زمینی حقائق کو توڑموڑ کر پیش کرنے کی سعی میں مصروف رہتا ہے اور بدقسمتی سے وطن عزیز کے کچھ حلقے بھی دانستہ یا نا دانستگی میں اس کیلئے کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں بھی نام نہاد پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کی جانب سے ایسی ہی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق کچھ لوگوں کی فطرت ایسی بن جاتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور ناکامیوں کا بوجھ دوسروں کے سر مڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بغض معاویہ میں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ پی ٹی ایم کی پشت پناہی ’’ را‘‘ اور ’’ این ڈی ایس‘‘ جیسی شرپسند خفیہ ایجنسیاں کر رہی ہیں ؟ ، مگر افسوس کی بات ہے کہ اس حقیقت سے آگاہی کے باوجود کچھ حلقے ان کی باتوں کو بغیر سوچے سمجھے تسلیم کر لیتے ہیں اور بدقسمتی سے وطن عزیز کے کچھ حلقے بھی دانستہ یا نا دانستگی میں اس کیلئے کٹھ پتلیوں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی نام نہاد پشتون تحفظ موومنٹ ( پی ٹی ایم) کی جانب سے ایسی ہی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ مبصرین کے مطابق کچھ لوگوں کی فطرت ایسی بن جاتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور ناکامیوں کا بوجھ دوسروں کے سر مڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور بغض معاویہ میں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں۔ کون نہیں جانتا کہ پی ٹی ایم کی پشت پناہی ’’ را‘‘ اور ’’ این ڈی ایس‘‘

جیسی شرپسند خفیہ ایجنسیاں کر رہی ہیں ؟ ، مگر افسوس کی بات ہے کہ اس حقیقت سے آگاہی کے باوجود کچھ حلقے ان کی باتوں کو بغیر سوچے سمجھے تسلیم کر لیتے ہیں۔ پی ٹی ایم کی جانب سے پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں کرونا وائرس کے پھیلائو کو بھی کسی ایجنڈے کا ساخشانہ قرار دیا جا رہا ہے، اب اس قسم کی بے سر و پا بات پر بھلا کیا تبصرہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ان حلقوں کی نظر میں بھارت میں رہنے والی اقلیتوں اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کا ذرا سا بھی احوال پیش نظر رہے تو کفران نعمت کے مرتکب یہ حلقے یقینا اپنی روش سے تائب ہو جائیں۔ یہ امر بھی روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حریت لیڈر ریاض نائیکو کی شہادت بھارت سرکار کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنس گئی ہے۔ دنیا بھر کے معروف اخبارات و جرائد نے ریاض نائیکو کی شہادت کو شہہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا جس میں انھیں بجا طور پر ایک غریب اور غیرت مند حریت لیڈر یا علیحدگی پسند بتایا گیا۔ مقبوضہ جموں و کشمیرمیں قابض بھارتی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں حریت لیڈر ریاض نائیکو کی شہادت کے بعد پوری وادی میں جدوجہد آزادی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ اپنے سینے میں آزادی کی شمع روشن رکھنے والے نوجوانوں کے ہجوم نے اونتی پورہ علاقے میں بھارتی فوج کے ایک ٹرک کا راستہ مسدود کر کے توڑ پھوڑ کی، شہید حریت لیڈر ریاض نائیکو کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے، بھارتی فوجیوں کو گاڑی سے نکال کر ان پر ڈنڈے برسائے اور گاڑی کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد مودی سرکار کو یہ تشویش لاحق ہو گئی کہ ایسے واقعے پورے مقبوضہ کشمیر میں شروع نہ ہو جائیں اس لئے اس واقعے کی خبروں کو بھارتی میڈیا سے بلیک آئوٹ کر کے حقائق چھپانے کی بھونڈی کوشش کی گئی۔ بھارتی میڈیا میں اونتی پورہ میں کشمیری ہجوم کی جانب سے بھارتی فوجی گاڑی سے توڑ پھوڑ کی خبروں کو مکمل طور پر بلیک آئوٹ کر دیا گیا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ نیویارک ٹائمز، رائٹرز اور ایکسپلینڈ (بائی انڈین ایکسپریس) سمیت کئی عالمی جرائد نے اپنی خبر میں لکھا ہے کہ ریاض نائیکو حساب کے مضمون میں ایم ایس سی کی ڈگری رکھتا تھا، ان کے والد ایک غریب درزی تھے اور ریاض نائیکو بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر اپنی گزر بسر کرتا تھا۔ یوں عالمی جرائد نے بھارتی میڈیا کے مطابق ریاض نائیکو کے نام نہاد دہشت گرد ہونے کی خبروں کو جھٹلایا ہے اور کہا ہے کہ قابض بھارتی فوج کے مظالم نے ریاض نائیکو کو ہاتھوں میں ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ معتبر عالمی اخبارات نے دہلی سرکار کی جانب سے ریاض نائیکو کی میت ان کے لواحقین کے سپرد نہ کئے جانے پر تنقید کرتے اسے بھی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ۔ عالمی جرائد کی اس حق گوئی پر بھارت کے طول و عرض میں کہرام برپا ہے، تمام ٹی وی چینل چیخ و پکار میں مصروف ہیں۔ واضح رہے کہ زی ٹی وی چینل کے پروگرام میں بی جے پی کے ترجمان سمت پاترا نے حریت لیڈران کے خلاف جی بھر کر زہر افشانی کی۔ بات چل نکلی ہے زی نیوز کی تو یہ بات بھی قارئین کیلئے دلچسپی کا باعث ہو گی کہ 8 مئی کو بھارتی صوبے کیرالہ کی ہائی کورٹ میں آر ایس ایس اور بی جے پی کے فنڈڈ ٹی وی چینل ’زی نیوز‘کے ایڈیٹر انچیف سدھیر چوہدری کیخلاف بین الامذاہب مذہبی منافرت پھیلانے پر انڈین پینل کورٹ کی دفعہ 295-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ بھارت کے مرکزی وزیر قانون ’روی شنکر پرساد‘ نے کہا کہ ’سدھیر چوہدری کیخلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کوئی حیثیت نہیں رکھتی کیونکہ بھارتی مسلمانوں اس طرح کی ایف آئی آر درج کراتے رہتے ہیں مگر یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی‘‘ ۔

اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ جب کسی ملک کا وزیر قانون خود ہی ایسی بات کر رہا ہو کہ مسلمانوں کی طرف سے درج ہونے والے مقدمات کی کوئی حیثیت نہیں تو ایسے میں انصاف کی امید بھلا کیسے رکھی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں بھارتی مرکزی وزیر گری راج سنگھ نے گُل افشانی کی کہ مسلمانوں کیخلاف ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے، ایسے ہزار مقدمات بھی ہمیں اپنے راستے نہیں ہٹا سکتے کیونکہ مسلمانوں نے جو مزے کرنے تھے وہ مغل دور میں کر چکے ہیں، اب ہماری باری ہے اور ہم بہر صورت بھارت میں اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کا قیام عمل میں لا کر رہیں گے۔ بی جے پی کے مرکزی ترجمان سمت پاترا نے بھی بھارتی مسلمانوں کے خلاف اس ہرزہ سرائی میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالنا مناسب سمجھا اور کہا کہ ’’ سدھیر چوہدری کو فخر محسوس کرنا چاہیے کہ ان کی باتوں نے مسلمانوں کو ’آگ‘ لگائی، ہم ان کے ساتھ ہیں اور جب تک بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار ہے کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ، مسلمانوں کو رہنا ہے تو یہاں چپ ہو کر رہیں وگرنہ پاکستان یا کہیں اور چلے جائیں‘‘ ۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کیخلاف پائی جانے والے نفرت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور لگ بھگ تمام بھارتی ٹی وی چینل مسلمانوں کیخلاف زہر اگلنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔توقع کی جانی چاہیے کہ بھارتی مسلمانوں کیخلاف ہونے والی دہشتگردی میں عالمی خصوصی خلیجی ممالک اپنا روشن کردار نبھانے کی جانب توجہ دیں گے۔

Asghar-Ali-Shad-nawaiwaqt