ایک سو سال کی خاموش تنہائی

وہ خود بھی چھوٹا آدمی نہیں ہے۔ تخلیق کار ہے ۔مگر اس کا باپ اپنی مثال آپ تھا۔ ہماری نسل نے لاطینی امریکہ کے جن دو ایک تخلیق کاروں کی مداحی کی ہے۔ یہ ان میں نمایاں ترین ہے۔ گبریل گارشیا مارکیزصحافی بھی تھا اور درجہ اول کا کہانی کار بھی۔ ریڈر گوگارشیا نے اپنے باپ کو یاد دلایا کہ اس نے ایک ناول لکھا تھا جس کا نام تھا ہیضے کے دنوں میں محبت‘آج جب ہم ایک اور بلا کے ایام میں زندگی گزار رہے ہیں‘ اسے اپنے باپ کا یہ ناول یاد آ رہا ہے۔ یہ شخص طویل العمر تھا۔ غالباً93سال کی عمر میں آج سے جو سال پہلے اس کا انتقال ہوا تھا۔

وہ نوبل انعام یافتہ ہے۔ یہ گزشتہ کئی برس سے ہماری نوجوان نسل میں اس طرح ہردلعزیز رہا جس طرح پیلو نرودا اور اورکا وغیرہ کا چرچا تھا۔ اس ناول کا عنوان ہی بنتا ہے کہ اس ناول کو لکھتے ہوئے اس کا اندر کیا ابال آ رہا ہو گا۔ اسے جس ناول سے عالمی شہرت ملی وہ اس کا ایک دوسرا ناول تھا: یہ ایک سو سال کی خاموش تنہائی۔کا میں اس وقت بھی ترجمہ کر چکا ہوں۔ ان دو ناولوں کے نام ملا کر پڑھیں تو ہمیں آج کا عہد سمجھ آ رہا ہے۔ میں منتظر ہوں یہ کس تخلیق کار کے دلوں کے تار چھیڑتا ہے۔ مجھے یہ خوف نہیں کہ دنیا کی حقیقت تباہ ہو جائے گی‘ مجھے ڈر یہ ہے کہ آج کے لمحوں میں لپٹی یہ صوبوں کی خاموش تنہائی بنی نوع انسان پر کیا اثر ڈالے گی۔ اور اس استعارتی تصور کا کیا بنے گا جسے محبت کہتے ہیں۔ اگر ہماری تہذیب نے اس کا جواب پا لیا تو یقین کیجیے انسانیت ترقی کرے گی۔ وگرنہ ایسی ایسی تباہیاں ہماری منتظر ہے جو انسانوں کی شکل مسخ کر کے رکھ دے گی۔ دنیا بھر میں کیا کیا مدبر موجود ہیں۔ ایک سے ایک بڑا سیاسی ذہن ہے کس طرح لکھ رہے ہیں۔ سمجھ نہیں آتا کہ ہم نے جس دنیا کو گلوبل ویلیج بنایا تھا اور اس کی بنیاد پر ایک اقتصادی تانا بانا بھنا تھا‘ اس کا کیا حال ہو گا۔ اس وقت تو ایک شہر سے دوسرے شہر میں جانا مشکل ہو گیا ہے۔ ہوا بازی کی صنعت بیٹھ رہی ہے۔ سوال یہ نہیں ہو رہا کہ انسانوں کے میل ملاپ کا کیا بنے گا۔ اب جسے ہم گلوبل ویلج کہتے ہیں وہ رہ بھی پائے گا یہ نہیں۔ دنیا بھر میں اجتماعات ‘ سیمینار ‘ کھیل‘ ایک دوسرے کو قریب کرتے تھے۔ اب یہ سماجی فاصلے کب تک چلیں گے۔ سماج بدل جائے گا‘ دنیا بدل جائے گی یا سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اس پر قابو پا لے گی۔ یورپی یونین ایک ہوتے ہوئے کئی حصوں میں بٹ رہی ہے۔ ہم نے دنیا کو ایک کہا تھا تو صرف سیرو سیاحت کے لئے نہیں یہ تو اس کا ایک طرح سے بونس تھا۔ ہم نے تو یہ چاہا تھا کہ محنت‘ سرمائے کی کوئی سرحد نہ ہو۔اس تصور کو کس طرح استعمال کیا‘ اسے رہنے دیجیے۔ ہمارا مقصد یہ تھا کہ امریکہ کی ٹیکنالوجی کے لئے پرزہ چین میں بنے کہ سستا پڑے گا۔ اس سے ساری انسانیت کو اقتصادی فائدہ ہونے لگا تھا۔ہم بپھر گئے‘ ہم ٹرمپ ہو گئے۔ چھوڑیے اس بات کو لگتا یوں ہے کہ اس آنے والے دنوں میں (میں اسے یوں کہوں گا آنے والی صدیوںمیں سناٹا ہے۔ دور دور تک سناٹا۔ ہمارے پیش نظر کچھ نہیں ہے۔ مروت اور یکجائی کا وہ پیام جسے میں نے محبت کہا ہے۔ وہ کہیں گم ہو رہا ہے۔ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ ہمیں فاصلہ رکھنا ہے۔ اسے ہم نے سماجی فاصلہ کہا ہے۔ میں اصطلاحوں سے بھاگتا ہوں۔ اس اصطلاح کو بھی نہیں سمجھ پا رہا ہمیں میل ملاپ میں فاصلہ رکھنا ہے۔ آسان لفظوں میں کم آمیز بن کر رہنا ہے۔ مگر یہ کم آمیزی معیشت کے لئے رسم قاتل ہے۔ بیماری جائے بھاڑ میں‘ ہم نے تو معیشت کو سنبھالنا ہے۔ ہمیں اپنے سفر کو معیشت کی گاڑی سے کھینچنا ہے۔ سوچا ہے دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد 1918ء میں فلو پھیلا تھا۔ اس زمانے میں یہ ایسا ہی خطرناک تھا مگر پھیلتا گیا حتیٰ کہ 1929ء میں دنیا میں ایسی کساد بازاری ہوئی کہ اسے عظیم کساد بازاری کے نام سے آج تک یاد کیا جاتا ہے۔ امریکی قوم مٹی کا ڈھیر بن گئی حتی کہ ان کے ایک صدر روز ویلٹ نے دنیا کو ایک ایسی ڈگر پر چلایا کہ 1939ء تک دنیا اس کساد بازاری سے نکل آئی۔ ادھر نکلی‘ ادھر دوسری جنگ عظیم چھڑ گئی۔ اس کے بطن سے وہ نیا نظام پیدا ہوا جس میں ہم آج تک جی رہے ہیں۔ سرمایہ داری پھر جیت گئی۔ جنگ کے ثمرات سمیٹنے کے لئے اسے ایک سرد جنگ بھی لڑنا پڑی۔ اب جب اسے خیال ہو گیا تھا کہ وہ یہ جنگ بھی جیت چکی ہے تو معلوم ہوا ایک اور وبا سر پر کھڑی ہے۔ معیشت دان بڑی شقاوت قلبی سے یہ پڑھایا کرتے کہ جب دنیا کی آبادی بہت بڑھ جاتی ہے تو وبائیں آ گئیں‘طوفان ‘ قحط آ کر اس آبادی کو نارمل کر دیتے ہیں۔ لگتا تھا

یہ محض تھیوری ہے‘ بھلا بلائیں‘ وبائیں اور آفتیں ایسے کسی تھیوری کے تحت آیا کرتی ہیں۔ غضب خدا کا یہ کیسی تھیوری ہے اور کیا جنگیں اس لئے چھیڑتی ہیں ۔ کیا یہ سنت خداوندی ہے۔ کچھ سمجھ نہ آتا تھا اور بے دین معیشت دانوں کی عقل پر رونا آتا تھا۔ ایک صدی سے ہم یہی دیکھ رہے ہیں۔ یہ بھی دکھائی دیتا ہے کہ اس معاشی نظام کو تہس نہس کرنے کے لئے جو نظام بھی آئے وہ ملیا میٹ ہو گئے۔ کمیونزم‘ فاشزم سب غارت ہوئے۔ ہم وہیں کے وہی کھڑے ہیں اور اس نظام کو دعائیں دے رہے ہیں جس کے خلاف ہم لڑنا چاہتے ہیں۔ آج بھی ہمارے اندر کتنی نفرت ہے ان اشتراکیوں کوچہ گردوں کے خلاف اور فسطائی غنڈوں کے خلاف۔افسوس ہم نہیں سیکھے۔ یہ بھی مارکیز ہی کا فقرہ ہے کہ زندگی کو کوئی کچھ نہیں سکھاتا۔ عام انسانوں کی خلاقیت بے بس ہے۔ پہلے تو باقی رہی نہیں۔ اسے ٹیکنالوجی اور دنیاداری کے علوم کھا گئے۔ جو کہتے ہیں کہ کوئی اخلاقیات نہیں ہوتی۔معیشت دان کہتے ہیں معیشت کی کوئی اخلاقیات نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں ‘ سائنس کی کوئی اخلاقیات نہیں۔ ایک زمانہ تھا جب یہ نعرہ لگا تھا کہ خدا مر چکا ہے تو اس مجذوب فرنگی کو للکارنے والے موجود تھے۔ آج جب کہا جاتا ہے کہ ادب مر چکا یا تخلیق فن کار مر چکا تو سر جھکا کر اس کی حمایت کر دی جاتی ہے یا اس پر چیخنا چلانا شروع کر دیا جاتا ہے۔ اگر انسان کا یہ فنکارانہ تخلیق کار زندہ بھی ہے تو شاید کسی مارکیزکی تحریروں میں اس کا اظہار ہو جائے‘مگر شاید یہ کافی نہ ہو۔اور وحی تو اب آنے والی نہیں۔برناڈ شاہ نے کہا تھا اگر محمد مصطفی ؐ کو آج کے عہد کا حکمران بنا دیا جائے تو وہ چٹکی بجاتے ہی آج کے مسائل کا حل ڈھونڈ نکالیں گے مگر وحی تو اب بند ہو چکی اور ہماری جنگ اب جنگ زرگری ہے
Sajjad-Mir-daily92