کورونا وائرس آنکھوں کے راستے بھی جسم میں داخل ہو سکتا ہے، تحقیق

جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر کورونا وائرس سے متاثرہ ڈراپ لٹ آنکھوں پر گرے تو وائرس جسم میں داخل ہو سکتا ہے۔

نئی تحقیق کے نتائج سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ کورونا مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے کو ماسکس اور حفاظتی ملبوسات کے ساتھ ساتھ خاص گلاسز کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق کورونا وائرس خلیوں میں موجود اے سی ای 2 ریسپٹر کو نشانہ بناتا ہے، آنکھوں میں بھی اے سی ای 2 موجود ہوتے ہیں۔یہ وائرس ناک، منہ یا آنکھوں میں جسم کے ذریعے داخل ہوتا ہے، پھرراستے میں موجود خلیوں سے منسلک ہوتا ہے جو ACE2 نامی پروٹین بناتے ہیں۔

بخار، کھانسی اور سانس کے علاوہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی چھ نئی علامات سامنے آئی ہیں۔ سر اور جسم میں درد، گلا خراب ہونا بھی کورونا کی ممکنہ علامات ہوسکتی ہیں۔

اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا کو ہلاک کرنے میں مدد دیتے ہیں مگر وائرس کے خلاف کارآمد نہیں ہوتے ہیں۔ محققین اینٹی وائرل دوائیوں کے لئے تحقیق کر رہے ہیں جو وائرل پروٹین کو خراب کر سکتے ہیں اور انفیکشن کو روک سکتے ہیں۔

امریکی مرکز برائے انسداد امراض نے کہا ہے کہ سر اور جسم میں درد، خراب گلہ، سردی سے کپکپی، خوشبو اور ذائقہ محسوس نہ کرنا بھی کورونا کی علامات ہوسکتی ہیں۔ اس سے پہلے صرف بخار، کھانسی اور سانس میں تکلیف کو ہی کورونا کی علامات سمجھا جاتا تھا۔
صابن وائرس کو ختم کرنے میں انتہائی کارآمد ثابت ہوتا ہے اور کورونا وائرس سے بچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں، چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں، بیمار لوگوں سے فاصلہ رکھیں اور بار بار استعمال ہونے والی جگہوں کو باقاعدگی سے صاف کریں

Courtesy Hum news