لاک ڈاون میں نرمی کا انحصار تاجروں اور خریداروں کے ایس او پیز پر عمل پیرا ہونے پر منحصر ہے

لاک ڈاون میں نرمی کا انحصار تاجروں اور خریداروں کے ایس او پیز پر عمل پیرا ہونے پر منحصر ہے،سید ناصر حسین شاہ،وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ
عوام کی جانوں سے بڑھ کر حکومت سندھ کو کچھ عزیز نہیں،سید ناصر حسین شاہ
کراچی ( 11 مئی 2020)

وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ حکومت اور تاجروں کے درمیان کاروباری اوقات میں نرمی کے حوالے سمجھوتہ خوش آئند ہے، تاجر صبح 6تاشام 5بجے کاروبار کے دوران ایس او پیز پر سختی سے عمل کریں۔ ناصر حسین شاہ کے مطابق حکو مت سندھ نے عوام کے وسیع تر مفاد اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق وفاق حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد لاک ڈاون میں نرمی کا فیصلہ کیا ہے، جس میں اضافے یا کمی کا فیصلہ عوام اور تاجروں کے لاک ڈاون پر پابندی سے مشروط ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ خریداری کے لئے بازارجانے والے افراد حکومتی ہدایات پر مکمل ذمہ داری کے ساتھ عملد در آمد کریں اور ایس او پیز کے تحت حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں کیونکہ کارونا کے خلاف احتیاط ہی سب سے موثر ہتھیار ہے۔ ناصر حسین شاہ کے مطابق لاک ڈاون میں نرمی کا انحصار تاجروں اور خریداروں پر ہے، لہذا جتنا زیادہ ایس او پیز پر عمل ہوگا اتنا عرصے لاک ڈاون میں نرمی برقرار رہے گی۔وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے عوام سے اپیل کی کہ عوام اور تاجر حضرات سیف ڈیز میں لاک ڈاون پر سختی سے عمل کریں اورجمعہ، ہفتہ اور اتوار کو کاروباری حضرات اپنے گھروں میں رہیں،۔وزیر اطلاعات و بلدیات نے عوام کو بھی سیف ڈیز کے دوران گھروں میں رہنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ طبی ماہرین کے مطابق کارونا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے ایس او پیز پر پابندی لازمی ہے اور سندھ حکومت کی ایس او پیز عوام کی جانوں کی حفاظت اور کارونا کے پھیلاو کو روکنے کے لئے ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے امیدظاہر کی ہے تاجر نہ صرف خود کوبلکہ اپنے کسٹمرز کو بھی ایس او پیز کا پابند بنائیں گے کیونکہ تاجروں اور لوگوں کی مشکلات کے پیش نظر لاک ڈاون میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا۔وزیر اطلاعات و بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ لوگ ازخود احتیاطی تدابیر پر صدق دل سے عمل کریں کیونکہ عوام کی جانوں سے زیادہ عزیز اور مقدم کوئی دوسری چیز نہیں ہوسکتی اور لاک ڈاون حکومت سندھ کی عادت نہیں بلکہ سراسرمجبوری ہے، جس میں کامیابی عوام کے تعاون کے بنا ہرگز ممکن نہیں۔