ٹورانٹو میں ایک ہفتہ

میں نے اپنے پچھلے مضمون ”وبا کے دوران ٹورانٹو میں سوشل سروس ورکر کا ایک دن“ میں اس بات کا ارادہ کیا تھا کہ اب یہ ڈائری لکھتی رہوں گی۔ اس مضمون میں میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ ”میری جاب کو ہارم (ضرر) ریڈکشن کیس مینیجر کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جو کہ ایک ٹرانزیشنل ہاؤسنگ کے پروگرام سے وابستہ ہے۔ میرا کام ان لوگوں کو ایک سال کے لیے ایک کمرا مہیا کرنا ہے جو کہ بہت دنوں سے سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں اور ذہنی صحت اور نشے کی عادت سے جوجھ رہے ہیں۔“

مگر مصروفیت کی بنا پر بہت دنوں سے میں اس ارادے پر عمل نہیں کر پائی۔ مگر چونکہ آج جمعے کا دن ہے۔ اور میری جاب بھی شام میں ہے تو آرام کرنے کے بعد بھی مجھ کو اتنا ٹائم مل گیا ہے کہ آپ لوگوں کو بتا سکوں کہ آج کل میرے کام پر کیا ہو رہا ہے۔

پچھلا ایک ہفتہ کام پر کافی بحران میں گزرا ہے۔ وہ جس بات کا ڈر تھا وہ ہوگئی۔ پیر کو جب میں کام پر پہنچی تو پتہ چلا کہ ہمارے ایک کلائنٹ کا کووڈ 19 ٹیسٹ پوزیٹو آیا ہے۔ ان کو کووڈ کی علامات کے ساتھ اتوار کو ہسپتال بھیجا گیا تھا۔ اور پیر کی صبح جب مینجمنٹ کام پر پہنچی تو وہ ان تمام علامات کے ساتھ جن میں پسینے میں شرابور بخار، سانس لینے میں دشواری اور بہتے ہوئے ناک اور منہ شامل تھے، وہ اپنے کمرے میں پھر سے موجود تھے۔ پتہ چلا ٹیسٹ کروانے کے بعد وہ ہسپتال میں کسی کو بتائے بغیر گھر چلے آئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اتنی بری حالت میں تم واپس کیوں آگئے؟ کیا واپس جانا چاہتے ہیں؟ کہنے لگے جاؤں گا مگر ایمبولنس میں جاؤں گا۔ ان کے اسپتال جانے کے بعد ہم کو وہاں سے اطلاع آئی کہ ان کا رزلٹ پوزیٹو ہے۔

بلڈنگ میں بحرانی حالات کو اور چار چاند لگ گئے۔ چیزیں ڈی۔ سینیٹائز کی جانے لگیں۔ اس بات پر تحقیق ہونے لگی کہ ان سے پچھلے تین چار دن میں کون کون ملا۔ جس میں بھی شامل تھی کیوں کہ جمعے کو میں نے ناصرف ان کو ناشتہ پہنچایا تھا بلکہ ان کو دو چار فون کالز کرنے میں مدد بھی کی تھی۔ مجھ سے پوچھا گیا

کیا آپ اس وقت ماسک پہنے ہوئے تھیں؟
میں نے کہا جی!
کیا آپ نے پندرہ منٹ سے زیادہ بغیر ماسک کے ان کے ساتھ وقت گزارا تھا؟
نہیں!
اچھا کیا جب وہ فون استعمال کرچکے تھے تو کیا آپ نے فون کو ڈی سینیٹائز کیا تھا؟
جی کیا تھا!

اچھا تو آپ کو جب تک کوئی علامات ظاہر نہ ہوں ٹیسٹ کی ضرورت نہیں۔ میری اپنی انگزایٹی کا لیول تھوڑا سا کم ہوگیا۔ مگر احتیاط اور خوف کا لیول میں اضافہ ہوگیا۔ دو دوسرے ورکرز نے فیصلہ کیا کہ وہ پھر بھی اپنا ٹیسٹ کروائیں گے چونکہ وہ اپنے گھر پر کم مدافعت رکھنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

ایک اور خاتون کلائنٹ جنہوں نے پوزیٹو آنے والے مرد کلائنٹ کے ساتھ ہفتے کا سارا دن گزارا تھا (چونکہ وہ پڑوسی ہیں اور ساتھ نشہ کرتے ہیں ) سے کہا گیا کہ وہ اپنا ٹیسٹ کروائیں انہوں نے شروع میں حسب معمول اور حسب توقع ٹیسٹ کروانے سے انکار کردیا۔ ان کو پروگرام اور گھر سے بے دخل ہونے کی دھمکی دینی پڑی کہ وہ اور لوگوں کی سیفٹی کمپرومائز کر رہی ہیں۔ تو انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹیسٹ کروانے کے لیے ہسپتال جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ٹیسٹ کروا کر واپس آئیں تو ان سے کہا گیا کہ وہ رزلٹ آنے تک اپنے کمرے میں رہیں اور باہر نہ نکلیں۔ انہوں نے کہا ایسا ممکن نہیں مجھے اپنا نشہ لینے باہر جانا ہی جانا ہے۔

ان کے کافی ہاتھ پیر جوڑے گئے مگر وہ ہر دو تین گھنٹے بعد کمرے سے باہر نکلنے کی کوشش کرتیں۔ پوری شام ان کے دروازے پر نظر رکھی گئی۔ اگلے دن یعنی منگل کو مینجمنٹ کوشش کررہی تھی کہ کسی طرح ان کے لیے سیف سپلائی کا انتظام ہوجائے جس پر کینیڈا کے ایک اور صوبے برٹش کولمبیا نے مارچ کے مہینے سے ہی عمل کرنا شروع کردیا تھا۔ جس میں ڈاکٹرز کی پرسکرابڈ سپلائی (نشہ) فراہم کی جاتی ہے۔ تو ان کو اپنا کمرہ نہ چھوڑنا پڑے۔

ابھی وہ انتظامات ابتدائی مرحلے تک ہی پہنچنے پائے تھے کہ ہسپتال سے خبر آئی کہ ان کا رزلٹ نیگیٹو آیا ہے۔ جس سے ہرطرف ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی۔ کیونکہ اگر ان کا رزلٹ پازیٹو آجاتا تو پھر کتنے اور لوگوں کا ٹیسٹ کروانا پڑتا اور ہماری بلڈنگ بریک آؤٹ کی طرف رواں دواں ہوجاتی۔ مگر اس کے ساتھ ہی ان کے لیے سیف سپلائی پر کام روک دیا گیا کیونکہ وہ اب سیف سپلائی کے لیے مستحق (eligible) نہیں تھیں۔

مگر یہ اطمینان صرف چند گھنٹے کے لیے اس وقت تک قائم رہ سکا جب تک کہ پبلک ہیلتھ کا وہ خط موصول نہیں ہو گیا جس کے مطابق ان کو ابھی بھی دو ہفتے کی سیلف آئسولیشن کی ہدایت دی گئی ہے کیونکہ انہوں نے ایک کووڈ 19 کے ساتھ بغیر ماسک کے 15 منٹ سے زیادہ گزارے تھے۔ انہوں نے احتجاجاً کہا مگر میرا رزلٹ تو نیگٹو ہے۔ کافی بحث کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ آج رات تو کمرے میں گزار لیں گی مگر کل صبح ان کو نشہ چاہیے ہی چاہیے۔ ساری رات پھر سٹاف کی ان کے دروازے پر نظر رکھے گزر گئی۔

بدھ کی صبح کا آغاز ایک اور خبر سے ہوا وہ یہ کہ وہ صاحب جن کو کووڈ پازیٹو تھا وہ ہماری ایک مینیجر کو جاب پر آتے ہوئے سڑک پر بہت بری حالت میں ملے وہ اسپتال سے شاید خود بھاگ لئے تھے یا ان کو کہا گیا کہ وہ گھر جا کر سیلف اسلویٹ ہوجائیں۔ ہماری پیاری مینیجر ان کو دوسرے ہسپتال پہچانے گئیں۔ انہوں نے بتایا ایمرجنسی پر نرس جو کہ پورے احتیاط والے لباس میں اوپر سے نیچے تک محفوظ تھیں وہ ہماری مینیجر سے ہمارے کلائنٹ کا ماسک ٹھیک کرنے کو کہہ رہی تھیں جب کہ ہماری مینیجر اس وقت کام پر آتے ہوئی صرف ایک ماسک پہنے ہوئے تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ ہسپتال خود ایک زبردست بریک آؤٹ سے گزر رہا تھا اور گزر رہا ہے۔ جہاں 80 کے قریب مریض اور ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کووڈ پوزیٹو کے شکار ہیں۔ خیر ہماری مینیجر ان کو ہسپتال میں چھوڑ کر کام پر واپس آگئیں۔

اسی دن کووڈ نیگیٹو کلائنٹ کے لیے جب سیف سپلائی کا انتظام کرنے کا پھر کوششیں کی جا رہی تھیں تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ 2 ہفتے کے لیے کہیں اور جا کر رہ لیں گئی اور اس کے بعد اپنے گھر واپس آئیں گی۔ جانے سے پہلے ان ان ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی بھی وجہ سے ان کو واپس آنا پڑا تو وہ فون کریں گی کہ ان کے لیے کچھ اور انتظام کیا جائے۔

اسی دن میرے ایک اور کلائنٹ کا جیل سے فون آیا کہ وہ 4 ماہ بعد رہا ہو کر ایک آدھ ہفتے میں واپس آرہے ہیں۔ کیا ان کا کمرہ اب تک ان کے لیے موجود ہے؟ میں نے ان سے کہا جی بالکل آپ آئیے۔ مگر پہلے آپ بتائے کہ آپ محفوظ ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہمارا بہت خیال رکھا جا رہا ہے ہم سب کے ٹیسٹ ہوئے تھے سوائے ایک کے سب نیگیٹو تھے۔ پوزیٹو والے کو بالکل علیحدہ رکھا گیا ہے۔ ہم سب بھی الگ الگ رہتے ہیں صرف تھوڑی دیر کے لیے باہر آتے ہیں۔ میں نے ان سے کہا بس پھر ٹھیک آپ آنے سے پہلے فون کر لیجیے گا اور یہاں کی خبر لے لیجیے گا کیوں کہ یہاں روز حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔

کل جمعرات کو پھر خبر ملی کہ کووڈ پازیٹو والے صاحب اب دوسرے اسپتال سے بھی صبح 5 بجے بغیر بتائے غائب ہیں۔ اسپتال سوشل ورکرز اور پولیس سارا دن ان کو ڈھونڈ تی رہی۔ واللہ عالم بعد میں کیا ہوا آج جاؤں تو پتہ چلے گا۔

اگر آپ میں سے کچھ لوگ سوچ رہے ہیں کہ میرے یہ لکھنے کا کیا مقصد ہے تو ایک تو آپ کو یہ بتانا ہے کہ سسٹم ناکام اور ناکافی ثابت ہو رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کو ہسپتال میں ہی سیف سپلائی فراہم نہیں کرنی چاہیے؟ دوسرا مجھے لگ رہا ہے پچھلے تین مہینے سے تو صرف تیاریاں ہو رہیں تھیں وبا نے تو اب ٹورنٹو میں اپنی شکل دکھانی شروع کی ہے۔ تیسرا ان غریب لوگوں کو اگر ہم مرنے کے لیے سڑکوں پر چھوڑ دیں گیں تو اس وبا کو سب کے گھروں تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ اور پھر آپ سوچیں گے کہ کاش ہم پہلے ہی ان کے گھروں تک ان کا نشہ سیف سپلائی کی صورت میں پہنچا دیتے۔
Zehra-naqvi-