دل شاد ہوا، آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں

فیض صاحب کا مصرعہ ہے، ”چاند کو گل کریں تو ہم جانیں“ اسی مصرعے پہ اسامہ صدیق صاحب نے ایک اعلی درجے کا ناول لکھ مارا۔ چونکہ ناول انگریزی بلکہ شدھ انگریزی میں ہے تو اس کا نام ”snuffing out the moon“ ہے۔

ناول موصول ہوا تو لاک ڈاؤن چل رہا تھا۔ فرصت کے رات دن میں اس سے اچھا مشغلہ کیا ہو گا کہ دھریکوں کی کاسنی کلیوں کی چھاوں میں ایک دلچسپ ناول لے کے وقت کاٹا جائے۔

سو ہم نے بھی یہ وقت یوں ہی کاٹا۔ ناول کے پڑھے سے دل شاد ہوا، آنکھیں ٹھنڈی ہوئیں اور دل کو کمال سکون ملا کہ آج بھی کچھ لکھنے والے ایسے ہیں جو اپنا چین سکون تج کے خیالات کے انہیں خار زاروں میں بھٹک رہے ہیں جن میں ہم نے جوتے گھسے اور تلوے جلائے۔

ناول بنیادی طور پر ”فرام والگا ٹو گنگا“ اور ”آگ کا دریا“ کی تیکنیک پہ لکھا گیا ہے۔ کئی ادوار کی کہانیاں ہیں، وادی سندھ کا میدان ہے اور کئی کردار جو الگ الگ ہیں مگر کہیں نہ کہیں آپس میں مربوط ہو جاتے ہیں۔

ادوار الگ ہونے اور کردار بکثرت اور متنوع ہونے کے باوجود، ناول کا مرکزی پلاٹ الگ سے نظر آتا ہے جو انسان کی ازلی بھوک، لالچ اور قدرتی وسائل کو شیر مادر سمجھ کر ڈکارنے کی سفلہ فطرت کے گرد بنا گیا ہے۔

ہر دور کے کردار بہت محنت سے تراشے گئے ہیں۔ لباس، بول چال، روایات اور کرداروں کا رویہ اپنے اپنے ادوار کے حساب سے ایسا کسا ہوا ہے کہ کہیں جھول نہیں کھاتا۔

منظر نگاری اور جزئیات نگاری، دو ایسی صفات ہیں جو ناول نگار کو عام نثر نگار سے ممیز کرتی ہیں۔ اسامہ صدیق کو یہ صفات، قدرت نے جی بھر کے بخشی ہیں اور انہوں نے بھی ان کے استعمال میں ذرا خست نہیں برتی۔

درختوں کا بیان ہو، جگنوؤں کے جھلر کی کیفیت ہو، ڈریگن فلائی کے پروں میں بچھی مہین رگوں کا ذکر ہو، ٹلہ جوگیاں کے شجر وحجر کی تفضیلات ہوں، قلعہ رہتاس کا قصہ ہو، موئن جو دڑو کی صحنچیوں، گلیوں، تالابوں اور خواب گاہوں کا فسانہ ہو، قلعہ لاہور کے باغات کی کہانی ہو یا شہر لاہور کی پر پیچ گلیوں کے اندھے کونوں اور پراسرار موڑوں کی داستان ہو، کسی بھی جگہ مصنف کا ہاتھ نہیں چوکتا اور وہ اپنی روانی میں ننھی ننھی منی ایچرز بنا تا قاری کو اپنے ساتھ چلاتا، ایک دور سے دوسرے دور میں، بڑی سہولت سے داخل ہو جاتا ہے۔

پاکستان سے لکھے گئے انگریزی ناولوں میں یہ ناول، الگ ہی ذائقہ لے کر آیا۔ پڑھتے ہوئے کہیں بھی اوپرے ہونے کا شبہہ نہیں ہوتا کچھ ایسا ہی لطف، ولیم ڈل رمپل کی کتابوں سے بھی کشید کیا جاتا ہے۔ مگر اسامہ صدیق کے ہاں، فلسفے اور تاریخ کو قند میں لپیٹ کر پیش کرنے کی بجائے، فنتاسی اور تخلیق پہ زور زیادہ ہے۔

شنید ہے کہ ناول کا اردو ترجمہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک اچھی خبر ہے۔ اردو قارئین کے لئے بھی یہ ناول یکساں دلچسپی کا باعث ہو گا۔ ”سنفنگ آؤٹ دی مون“ پنگوئین نے شائع کیا ہے۔ صفحات چار سو ستائیس ہیں۔ آن لائن بھی منگائی جا سکتی ہے تو منگوائیے، پڑھیے اور منظر نگاری کا لطف اٹھائیے۔
Amna-Mufti