فسادات میں مسلمان لڑکی پیچھے رہ جاتی ہے تو محلے کا ایک——

یہ فلم 50کی دہائی میں ریلیز ہوئی جب پاکستان کو معرض وجود میں آئے چند ہی برس بیتے تھے اور لوگوں کے زخموں سے ابھی لہو رسنا بند نہیں ہوا تھا۔ میں نے یہ فلم 60کی دہائی میں دیکھی جب سکول کی ابتدائی جماعتوں میں تھا۔ تبھی یہ بھی معلوم ہوا کہ فلم بلاک بسٹر تھی جسے ہندوستان میں بھی بے تحاشا پذیرائی ملی۔

اس فلم نے کم سنی میں بھی مجھے جکڑ لیا تھا اور اس کے چند مناظر آج تک مجھے بری طرح ہانٹ کرتے ہیں۔ کبھی ان مناظر کا خیال آ جائے تو ان کی اذیت سے بچنے کی شعوری کوشش کرتا ہوں۔ محاورتاً نہیں حقیقتاً سر جھٹکتا اور خود کو کسی اور طرف متوجہ، مصروف کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس شہکار فلم کا نام تھا ’’کرتار سنگھ‘‘ جسے اک خوبصورت شاعر اور جینئس سیف الدین الدین مرحوم نے ’’پروڈیوس‘‘ ہی نہیں ’’تخلیق‘‘ بھی کیا تھا۔ سیف صاحب کی ’’کرتار سنگھ‘‘ میں ٹائٹل رول علاء الدین نے امر کر دیا۔ سدہیر صاحب ہیرو، مسرت نذیر ہیروئین تھیں۔ ظریف مرحوم نے ’’حکیم جی‘‘ کا کردار زندہ کر دیا تھا۔


اس پنجابی فلم کے تمام گیت ہی لازوال ہیں۔ وہ چند مناظر جو آج بھی لہو نچوڑ لیتے ہیں، ان میں سے ایک تھا کہ فسادات میں مسلمان لڑکی پیچھے رہ جاتی ہے تو محلے کا ایک بزرگ سکھ جرنیل سنگھ اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اک شام اس کا اوباش بیٹا جو کرتار سنگھ (ولن) کا دوست ہوتا اور اس لڑکی کے بھائی عمر دین کا دشمن ہوتا ہے ’’کرتارے‘‘ کے اکسانے پر نشے میں دھت اس لڑکی کے ساتھ دست درازی کی کوشش کرتا ہے تو باپ یعنی جرنیل سنگھ اپنے سگے بیٹے پر بندوق تان لیتا ہے۔ بیٹا ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہے تو سرتا پا غیظ و غضب جرنیل سنگھ گرجتے ہوئے کہتا ہے…’’تجھے باعزت طریقے سے مردوں کی طرح جینا نہیں آیا تو مردوں کی طرح مرنا ہی سیکھ لے‘‘۔ اور گولیاں مار کے سگے بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار کے ’’بیٹی‘‘ کے سر پر دوپٹہ ڈال کر بیٹے کی لاش پر رونے بیٹھ جاتا ہے اور بعد ازاں جب اسی مسلمان بیٹی کو پاکستان بھیجنے کے لئے فوجیوں کے حوالے کرتا ہے تو کہتا ہے…’’میری اس بیٹی کو دھیان سے اس کے بھائی کے پاس پہنچاتے ہوئے یاد رکھنا یہ بیٹی مجھے بیٹے کے بھائو پڑی ہے‘‘۔یہی نہیں بلکہ اس لڑکی کے بھائی عمر دین کے نام ایک رقعہ بھی لکھتا ہے کہ ’’جو داغ اس بچی کے ماتھے پر لگ سکتا تھا وہ لگنے سے پہلے میں نے اسے اپنے بیٹے کے خون سے دھو دیا تھا‘‘قارئین!اتنے برس بعد یہ سب لکھتے ہوئے بھی مرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ میں نے تو جملوں کا اردو ترجمہ کرکے شاید کچھ بے انصافی کردی ہو۔ فلم سی ڈی وغیرہ کی شکل میں موجود ہے، خود دیکھ لیں اور اگر آنسو نہ رکیں تو مجھےدوش نہ دیں۔ ہو سکے تو بچوں، جوانوں کو بھی دکھائیں تاکہ انہیں اندازہ ہوکہ اس ملک کو معرض وجود میں لانے کے لئے کتنے وجود برباد کرنا پڑے۔اس سب کو تمہید سمجھیں۔ اس فلم کا جو منظر مجھے سب سے زیادہ بے چین کرتا ہے،

ابھی باقی ہے اور دراصل یہی منظر میرے آج کے کالم کا موضوع ہے۔عزتیں، اثاثے، گھر بار، پُرکھوں کی قبریں ہار کر لٹے پٹے، تھکے ہارے زخموں سے چور ’’پاکستانیوں‘‘ کا بھوکا ننگا نیم مردہ سا قافلہ جب پاک و ہند بارڈر پر پہنچ کر پاکستان کی حدود میں داخل ہوتا ہے، لوگ سجدہ میں گر جاتے ہیں تو قافلہ میں شامل اک درویش کی آواز اوور لیپ کرتی ہے۔’’اج مک گئی اے غماں والی شام‘‘’’تینوں ساڈا پہلا سلام‘‘اپنی دھرتی کو پہلا خون آلود پُرجوش سلام پیش کرنے والے ان لوگوں کے غموں کی شام واقعی ’’مک‘‘ گئی یعنی ختم ہوگئی یا ان کی پانچویں، چھٹی، ساتویں نسل تک یہ بھیانک شام مستقل ان کا تعاقب کر رہی ہے؟ میرا سوال بہت سادہ ہے اور مجھے جواب بھی سادہ ہی چاہیے جو ہر قسم کی موشگافیوں اور چرب زبانیوں سے پاک ہو۔ سوال اس ’’اقلیت‘‘ کے حوالہ سے ہرگز نہیں جنہیں وہ ’’غماں والی شام‘‘ راس آئی اور بہت ہی راس آئی۔ میرا سوال اس بھاری اکثریت کے حوالے سے ہے جو آج بھی زخم در زخم سر تا پا سوال ہے۔ ہر وہ شخص جس کا پورا وجود ’’ دست ِ سوال‘‘ میں تبدیل ہو چکا، وہی میرا موضوع ہے۔’’دست ِ سوال‘‘ سے بھی کچھ آگے نکل کر سوچتا ہوں کہ ’’سوال‘‘ کیا ہے؟ بہتّر سال بعد بھی سوال کیا ہے؟ کوئی چاند سورج یا سونا چاندی مانگ رہے ہیں؟ نہیں– سوال ہے چند دنوں کے لئے راشن کے ایک چھوٹے سے تھیلے کا– سوال ہے چند ہفتوں کے لئے چند ہزار روپوں کا کہ پیٹ کی آگ بجھا سکیں۔ اتنے عشروں بعد بھی اس قابل نہ ہو سکے کہ اس لٹے ہوئے قافلے والوں کی نسلیں چند ہفتے ہی گھر پہ بیٹھ کر روکھی سوکھی کھا سکیں۔یہ ہے ہماری اصل کل کمائی حضور! تف ہے ایسی اشرافیہ پر جسے اپنے ہی عرق ندامت میں ڈوب مرنا چاہیے لیکن نہیں، کیونکہ یہ ڈوب مرنے کے لئے بھی دریائے ٹیمز، دریائے سین یا دریائے ہڈسن کا انتخاب کریں گے اور زوال کا کمال دیکھو کہ سوشل میڈیا پر یہ بحث جاری ہے کہ وزیراعظم اور اس کی کابینہ پاور سیکٹر کے ملزمان کو کٹہرے میں لا سکے گی یا نہیں؟ہائے یہ غماں والی شام جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔
Hassan-Nisar-Jang