سائبر کرائم: خواتین نشانے پر

انٹر نیٹ خصوصاً سوشل میڈیا کی بدولت یہ دنیا ایک گلوبل وِلیج بن چکی ہے۔ لوگ دور بیٹھے عزیز و اقارب سے بات چیت کیلئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرتے ہیں

مگر ان میں سے زیادہ تر محفوظ نہیں۔35 فی صد پاکستانی انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں جن میں ایک بڑی تعداد خواتین کی ہے۔ اتنے زیادہ صارفین ہونے کی وجہ سے پاکستان میں سائبر کرائم بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں،

خاص طور پر خواتین کو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کے واقعات تشویشناک ہیں۔ ایف آئی اے سائبر ونگ کے مطابق گزشتہ کچھ عرصے سے نازیبا تصاویر اور وڈیوز کے ذریعے خواتین کی بلیک میلنگ میں اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے تین ماہ میں ایف آئی اے سائبر ونگ میں رپورٹ ہونے والے 70فیصد کیس ایسے ہیں جن میں خواتین بلیک میل ہو رہی ہیں۔ ملک بھر سے ایسے اعدادو شمار سامنے آ رہے ہیں


جن میں پڑھی لکھی خواتین کچھ کم ظرف پڑھے لکھے مردوں کے ہاتھوں اِس لیے بلیک میل ہوتی ہیں کہ وہ اِن خواتین کو اپنے جال میں پھانس کر ان کی تصاویر حاصل کر لیتے ہیں۔ زیادہ تر خواتین یہ غلطی کرنے کے بعد بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتی ہیں کیونکہ اُنہیں اپنے گھر والوں اور معاشرے سے اچھے برتائو کی امید نہیں ہوتی جس سے اِن بلیک میلروں کے ناپاک عزائم کو مزید تقویت ملتی ہے جبکہ کچھ خواتین اپنی عزت بچانے کی خاطر خودکشی جیسا انتہائی اقدام تک کر گزرتی ہیں۔

نہ صرف عام شہری بلکہ کئی نامور شخصیات بھی ایسی بلیک میلنگ کا شکار ہو چکی ہیں۔ خواتین کو چاہئے کہ سوشل ویب سائٹس پر کسی شخص کو اپنی تصاویر بھیجنے سے احتراز کریں اور اگر وہ اِس غلطی کا ارتکاب کر ہی بیٹھی ہوں تو بلیک میل ہونے کے بجائے سائبر کرائم ونگ میں اپنی شکایت درج کروائیں تاکہ بلیک میلر قانون کے مطابق سزا پائے اور اس مکروہ سلسلے کی روک تھام ہوسکے۔
jang-editorial