2024ءتک پاکستان کی معیشت نہیں سنبھل پائے گی

ایک طرف کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ خود احتیاطی اقدامات کریں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی اس لئے کی گئی ہے کہ لوگ بھوک سے نہ مریں یعنی حکومت نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کرتے ہوئے وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ لوگ بھوک سے نہ مریں۔ اپنی دانست میں حکومت نے بھوک کی موت سے لوگوں کو بچانے کے لئے یہ اقدام کیا ہے۔ اگر اب لوگ کورونا سے مرتے ہیں تو یہ ان کا اپنا قصور ہو گا۔

پاکستان کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے کیا کوئی اس بات کی ضمانت دے سکتا ہے کہ لوگ بھوک سے نہیں مریں گے۔ کورونا سے جو اموات ہوں گی، ہم ان پر بات ہی نہیں کریں گے کیونکہ کچھ حلقوں کو اس معاملے پر بات کرنا پسند نہیں۔ ہم انہی کے بیانیے کو دہراتے ہیں کہ لوگ اب بھوک سے نہیں مریں گے۔ پہلے تو بھوک والی موت کی وضاحت ہونی چاہئے۔ بھوک والی موت صرف وہ نہیں ہوتی کہ انسان کو خوراک نہ ملے اور وہ مر جائے بھوک والی موت وہ ہوتی ہے، جو غربت اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے زندگیاں کھا جاتی ہے۔ خوراک مل رہی ہے لیکن موزوں نہیں۔ بیماریاں حملے کرتی ہیں لیکن علاج نہیں۔ اگر لوگ غربت اور بےروزگاری سے مر جاتے ہیں تو یہ بھی بھوک والی موت کہلائے گی۔

لاک ڈاؤن سخت ہو یا نرم؟ یہ سوال جتنا کراچی کے لیے اہم ہے، اُتنا ملک کے دیگر شہروں اور قصبوں کے لیے نہیں۔ کراچی میں لاک ڈاؤن ختم کرنے کے لیے زیادہ دباؤ ہے حالانکہ دباؤ ڈالنے والوں کو بھی پتا ہے کہ کراچی میں کورونا کے کیسز سب سے زیادہ ہیں اور اُن میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بعض حلقوں نے لاک ڈاؤن کے معاملے پر سیاست کا رنگ چڑھا دیا ہے اور پھر کراچی کارڈ استعمال کیا جار ہا ہے۔ اُن کا کہنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کراچی کی معیشت کو جان بوجھ کر تباہ کر رہی ہے۔ کراچی دشمنی کی جا رہی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ اِن حلقوں کی اس سیاسی رائے سے ہٹ کر اصل حقیقت کا کوئی ذکر نہیں کرتا کہ کراچی پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے۔ اگر یہ ریونیو نہ آیا تو ’’معاملات‘‘ کیسے چلیں گے؟ یہی معاملات چلانے کیلئے 18ویں آئینی ترمیم میں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کی باتیں بھی کی جا رہی ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر صرف کورونا کی اموات کے خوف سے بند کر دیا جائے اور ریونیو یعنی مالیاتی وسائل سے خزانہ محروم رہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہاڑی دار اور غریب لوگوں کا درد کیوں محسوس کیا جا رہا ہے؟ ہم ان باتوں میں بھی نہیں الجھتے اور اس بیانیہ پر یقین کر لیتے ہیں کہ لوگوں کو بھوک کی موت سے بچانے کے لئے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ سوال پھر وہی ہے کہ کیا لوگ ایسی موت سے بچ جائیں گے۔

جب چین کے شہر ووہان میں کورونا نہیں پھیلا تھا، تب ہماری معیشت نیچے کی طرف غوطہ لگا چکی تھی۔ معاشی سست روی خوفناک حدوں کو چھو رہی تھی۔ بیروزگاری اور غربت میں اضافے کا گراف تیزی سے اوپر اٹھ رہا تھا۔ کورونا نے پاکستان آکر اس معاشی بحران کی کالک اپنے منہ پر مل لی۔ دو ماہ کے لاک ڈاؤن اور ’’اکنامک سلو ڈاؤن‘‘ نے اس بحران کو اس منطقی انجام تک پہنچا دیا، جو شاید چھ ماہ یا ایک سال میں پہنچتا۔ کورونا سے پہلے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی تنزلی کے بارے میں جو پیش گوئیاں کر رہے تھے، کم و بیش اسی طرح کی پیش گوئی کورونا کے بعد کی صورتحال میں ایک برطانوی ادارے ’’اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ‘‘ نے اگلے روز اپنی ایک رپورٹ میں کی ہے۔ کورونا سے پہلے بھی یہ کہا جا رہا تھا کہ 2024ءتک پاکستان کی معیشت نہیں سنبھل پائے گی اور اب کورونا کے معاشی اثرات کو شامل کرکے بھی یہی بات کی جا رہی ہے۔ کورونا کے عالمی معیشت پر اثرات کا ہماری کمزور معیشت پر دباؤ بڑھ جائے گا۔ کورونا کے لاک ڈاؤن کے دوران پاکستان میں جو لوگ ایک ساتھ بیروزگار ہوئے، صرف وہی بیروزگار نہیں ہیں۔ بیرونِ ملک 80لاکھ پاکستانی بھی متاثر ہوئے ہیں، جو پاکستان کو زرِمبادلہ بھیجتے تھے۔ پاکستان کی برآمدات سے جو زرِمبادلہ آنا تھا، وہ بھی نہیں آئیگا۔ کورونا کی وبا اگر ختم بھی ہو جائے تو تب بھی پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو گا ، جو معاشی بحران سے سب سے آخر میں نکل پائینگے۔ اس کی وجہ کورونا سے پہلے والا معاشی بحران ہے۔

اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے جو اعداد و شمار دیے ہیں، وہ کورونا سے پہلے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کی توثیق کر رہے ہیں۔ صرف کورونا کے وقتی اثرات کا ان میں اضافہ ہے۔ 2024ءتک کی پیش گوئیاں مایوس کن ہیں۔ ایسے حالات میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوگ بھوک سے نہیں مریں گے۔ عالمی سامراج کی حاشیہ بردار اور طفیلی معیشت ایسے حالات میں لوگوں کو نہیں بچا سکتی اکنامک انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ کی یہ پیش گوئی انتہائی تشویش ناک ہے کہ معاشی بحران کے ساتھ ساتھ پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوگا۔ کورونا سے لوگ مرتے ہیں تو یہ ان کا اپنا قصور ہو گا لیکن بھوک سے وہ نہ مریں، اس کے لئے صرف لاک ڈاؤن میں نرمی کا اقدام کافی نہیں ہے۔ سیاستدانوں کو مل کر بہت اہم فیصلے کرنا ہوں گے اور غریبوں کو روٹی اور روزی دینے کے لئے زیادہ وسائل مختص کرنا ہوں گے۔ معاملات چلانے والی معیشت کو بچانے سے زیادہ غریبوں کو بچانا اب ضروری ہو گیا ہے۔ فیصلہ کن مرحلہ آگیا ہے
Nafees-Siddiqi-Jang