پاکستان کا نیوز چینل غلط ماڈل کے اوپر کھڑا ہوا ہے ۔24 گھنٹے اشتہارات پر انحصار کر رہا ہے ۔

پاکستان کا نیوز چینل غلط ماڈل کے اوپر کھڑا ہوا ہے ۔24 گھنٹے اشتہارات پر انحصار کر رہا ہے ۔پاکستان کے نیوز چینل کی بنیادیں صریحا غلط ہیں یہ بزنس ماڈل ہے ہی نہیں ۔

ان خیالات کا اظہار مشہور ٹی وی اینکر کالم نویس آفتاب اقبال نے ایک پروگرام میں کیا ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا نیوز چینل ۔۔ غلط ماڈل کے اوپر کھڑا ہے یہ بزنس ماڈل نہیں ہے ۔یہ صرف اور صرف اشتہار پر انحصار کرتا ہے ۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ ماڈل کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا جس دن یہ کیبل آپریٹر سے پیسے لینا شروع کرے گا ۔کیبل آپریٹر خود عوام سے کماتا ہے اور ٹی وی چینل سے بھی پیسے لیتا ہے پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا چنانچہ اس ماڈل کو تبدیل ہونے کی ضرورت ہے یہ واحد ملک ہے جو 24 گھنٹے صرف اشتہارات پر نیوز چینل چلا رہا ہے لہذا اس کا بزنس ماڈل ٹھیک نہیں ہے اسے تبدیل ہونا چاہیے ۔
دوسری اہم بات یہ ہے جو لوگوں کو بری بھی لگے گی کہ ہمارے نیوز چینل سبسڈی لیتے ہیں یعنی خود نہیں کماتے

بلکہ ریاست سے رعایت لیتے ہیں انہوں نے انڈیا کے نیوز چینل ماڈل کی مثال دی اور کہا کے تقریبا ہم ادھر چلے گئے تھے حکمرانوں کے پاس اتنا کچھ تھا چھپانے کے لیے اور میڈیا ان کی ہر آواز پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوگیا کہ جناب آپ جتنا کہیں گے اتنا ایکسپوز کریں گے اگر ایک آدھ بات زیادہ ہو جائے تو معافی ۔لیکن یہ دیکھ لیں کہ پھر ہم کیسے سروائیو کریں گے حلات بڑے مشکل ہیں ۔حالات مشکل ہے تو پھر کیا کریں حکومت نے اشتہارات کا سیلاب لگا دیا دھڑادھڑ مال مفت دل بے رحم گزشتہ حکومتوں نے ایسی ایسی اشتہاری مہم چلائیں کے سب کے سب میڈیا جھولی میں آ گرے میڈیا موجک کرتا رہا میڈیا نے پھر اپنے اینکرز کو بھی پالا ہم جیسے اینکرز کو بھی اچھے پیسے ملے جو کل تک بمشکل گزارا کرتے تھے میں جب انکل بنا حالات بہت بہتر ہوچکے تھے ورنہ میں تو ڈاکومنٹری کا بزنس کرتا تھا ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں نیوز میڈیا پاکستان میں مجھے بہت زیادہ ترقی کرتا نظر نہیں آرہا لیکن میڈیا کو اوقات میں رہنا چاہیے اپنی خواہشات کو کنٹرول میں رکھیں جب میں کالم لکھتا تھا تو میں صرف کالم کی آمدنی پر انحصار نہیں کرتا تھا ساتھ کچھ گزر بھی کرتا تھا یہ بات سمجھ نہیں کہ جنرل اس کے پاس زیادہ پیسے نہیں ہوتے میڈیا مالکان کے پاس پیسے ہوتے ہیں میڈیا ورکر کے پاس زیادہ پیسے نہیں ہوتے پاکستان میں چونکہ زرداری صاحب نواز شریف مشرف صاحب اور چوہدریوں نے خزانے کے منہ کھول دیئے تھے بہت فیاضی کا مظاہرہ کیا گیا لیکن فائدہ صرف میڈیا مالکان اور اینکرز کو ہوا نیچے زیادہ ورکرز کو فائدہ نہیں ہوا وہ تو معمولی تنخواہ پر کام کرتے رہے انہوں نے کہا کہ میڈیا مالکان بڑے بڑے اینکرز کو اپنے پاس رکھ لیتے ہیں اور حکمرانوں کو ان کے دانت دکھا کر ڈراتے ہیں کہ اگر ہمارا ساتھ نہ دیا تو یہ تم پر چھوڑ دیں گے ۔میڈیا کا سہارا لینے والے بزنس مینوں نے کچھ نہ کچھ ایسا کیا ہوتا ہے جسے وہ چھپانا چاہتے ہیں اور حکمرانوں کو کہتے ہیں کہ خبردار ادھر مت دیکھو ورنہ میں اپنے نیوز چینل کے ذریعے تمہارا بینڈ بجا دوں گا