محمود پاریکھ ۔ایڈورٹائزنگ اور میڈیا انڈسٹری کا ایک بہت بڑا نام

محمود پاریکھ ۔ایڈورٹائزنگ اور میڈیا انڈسٹری کا ایک بہت بڑا نام ہے ۔آپ چیف ایگزیکٹیو ہیں ایم سی ایم ایڈورٹائزنگ گروپ اینڈ انٹرنیشنل ایڈورٹائزنگ ایسوسی ایشن ۔

گزشتہ دنوں انہوں نے او پی ٹی وی گلوبل کے ایک پروگرام ہم سب کا پاکستان میں میزبان ثوبیہ علی کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ایڈورٹاءزنگ اینڈ میڈیا انڈسٹری کی موجودہ صورتحال اور درپیش چیلنجوں کے حوالے سے گفتگو کی جسے قارئین کی دلچسپی کے لئے یہاں پیش کیا جا رہا ہے ۔
ایڈورٹائزنگ اینڈ میڈیا انڈسٹری کے حوالے سے اپنے سفر اور کیرئیر کے آغاز کے حوالے سے سوال پر انہوں نے بتایا

کہ انیس سو ساٹھ میں ایک چھوٹی ایڈورٹائزنگ ایجنسی سے بطور انٹرنی اپنے کام سیکھنے کا آغاز کیا اور 1970 میں میں نے اپنی ایڈورٹائزنگ ایجنسی بنائی اور اللہ کا شکر ہے 1970سے میں اپنی ۔ایڈورٹائزنگ ایجنسی ایم سی ایم ایڈورٹائزنگ گروپ کا سربراہ ہو ں۔ اس دوران جدوجہد کرکے مختلف منازل طے کرتے ہوئے ہم آج یہاں تک پہنچے ہیں ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اشتہاری ایجنسیوں اور میڈیا ہاؤسز کے مابین تعلقات کو مضبوط کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ایڈورٹائزنگ کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ مارکیٹنگ کا کام بھی ہم نے شروع کیا یہ ایک نیا آئیڈیا تھا دنیا میں یہ پاپولر آئیڈیا تھا پاکستان میں ہم نے ایڈورٹائزنگ بزنس کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹ مارکیٹنگ بزنس شروع کیا اس کے بہت اچھے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور اچھی کمپنیاں کلائنٹس ہمارے ساتھ آ گئے لوکل اورنیشنل برانڈ ہمارے ساتھ مل گئے ہماری ٹیم نے ان کی ٹیم کے ساتھ مل کر کام کیا جس کے اچھے نتائج آئے اور کامیابی کی مختلف منازل طے کرتے چلے گئے ۔دوران گفتگو انہوں نے کہا کہ اشتہاری ایجنسیاں بھی نظام کو شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔

ایک سوال پر محمود پاریکھ نے بتایا کہ اشتہاری ایجنسیوں کی کارکردگی ملکی معیشت کی عکاس ہوتی ہے اگر ملک کی معیشت اچھا کام کر رہی ہے تو مختلف ادارے کمپنیاں ایڈورٹائزنگ کرتی ہیں انہیں ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ ان کے لیے اچھے مارکیٹنگ پلان تیار کرتی ہیں ملکی معیشت ترقی کرتی ہے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں ایڈورٹائزنگ ایجنسی ایک بہت مضبوط اور بہت وسیع شعبہ ہے اس میں کام کرنے اور آگے بڑھنے کے وسیع مواقع ہیں ہمارے نوجوان بھرپور آئیڈیاز رکھتے ہیں اور انہیں اس شعبے میں آگے بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا ہماری موجودہ حکومت سے ہمیں پوری توقع ہے کہ وہ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کے شعبے کو بھرپور توجہ دی گئی تاکہ اس شعبے کو ترقی حاصل ہو اور یہاں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو ں یہ حکومت ویسے بھی نوکریاں دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور ایڈورٹائزنگ اینڈ میڈیا انڈسٹری میں نوکریوں کے بہت مواقع پیدا ہو سکتے ہیں ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ میڈیا انڈسٹری کو چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا ہے مشکل حالات میں بےروزگاری کا خرچہ رہتا ہے اور بعض میڈیا ہاؤسز میں اس طرح کی صورتحال رہی ہے کہ تنخواہیں دیر سے دی گئی بعض میڈیا ہاؤسز بند ہوئے یا وہاں پر ملازمین کو فارغ کیا گیا لیکن جو ملک کی معیشت ترقی کرتی ہے تو مجموعی طور پر صورتحال میں بہتری آتی ہے اور پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں بہت گنجائش ہے میں سمجھتا ہوں کے اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے انڈسٹری کے مسائل اور چیلنجوں کو سمجھے اور اس کے حوالے سے اقدامات کرے ۔

ایک اور سوال پر انہوں نے بتایا کہ جب مشکل وقت آتا ہے تو ملکی معیشت کے ساتھ مشکلات جڑ جاتی ہیں کنزیومر نہیں ملتا ۔پروڈکٹ کی سیل کم ہوتی ہے تو مارکیٹنگ اور اشتہارات کے سائز پر بھی فرق پڑتا ہے جب میڈیا ہاؤسز کا ریونیو کم ہوتا ہے تو ان کے لیے مشکلات بڑھ جاتی ہیں یہ پورے سلسلہ ایک چین کی طرح کام کرتا ہے حکومت اگر توجہ نہیں دے گی تو صورتحال مشکل ہوتی جائے گی حکومت میڈیا ٹیکس لگا رہی ہے جس کو کاروباری ادارے اور کنزیومر دونوں برداشت نہیں کر پا رہے ضرورت اس بات کی ہے کہ کم توازن پالیسی دی جائے بھیجا پولیسی اور ٹیکسز نہیں ہونے چاہیے اس وقت لوگوں کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے کہ آپ ٹیکس چوری کرتے ہیں آپ لوگوں کو لوٹتے ہیں اس طرح لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے یہ چیزیں کاروبار کے لئے اچھی نہیں ہیں حکومت کو چاہیے کہ بزنس فرینڈلی پالیسی اختیار کرے اس وقت سیاسی نعرے بازی اور پوائنٹ اسکورنگ ہورہی ہے جس کے کاروبار پر منفی اثرات پڑتے ہیں زیادہ ٹیکس لگانے کی وجہ سے ریونیو اور آمدن کم ہوجاتی ہے اس کا اثر میڈیا انڈسٹری پر پڑتا ہے گرو تھ رک جاتی ہے مارکیٹ میں اس وقت ڈیپریشن ہے ۔اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں کوشش کی جارہی ہے نئی میڈیا پالیسی بنائی جائے حکومت کو موجودہ میڈیا پالیسی سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اسے مارکیٹ فرینڈلی بنایا جاسکے