معیشت پر کورونا لاک ڈائون کا اثر آنے والے پانچ سال تک رہے گا

ماہر معاشی امور امین ہاشوانی نےکہا کہ


معیشت پر کورونا لاک ڈائون کا اثر آنے والے پانچ سال تک رہے گا ہمیں اس حوالے سے ایکسپورٹ میں کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے، سینئر تجزیہ کار بے نظیر شاہ نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کے ٹوٹل کیسز کا 25 فیصد لاہور میں ہے اس لحاظ سے لاہور عالمی وبا کا ایک سینٹر بن گیا ہے،ایم ایس سروسز اسپتال کراچی ڈاکٹر سید فرحت عباس نے کہا کہ کورونا کے3 فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ماہر امراض خون ڈاکٹر طاہر شمسی نے کہا کہ پیسوامیونائزیشن کا طریقہ علاج کے حوالے سے تمام ڈاکٹرز بہتر نتائج کے لئے پر امید ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پلازما لگانے کی صورت میں کتنے فیصد لوگوں میں وینٹی لیٹر تک جانے کی ضرورت کم ہوجائے گی اور وائرس کس حد تک ختم ہوجائے گا ۔ اس کے نتائج دنیا بھر میں حوصلہ افزا نظر آرہے ہیں تو انشاء اللہ پاکستان میں بھی حوصلہ افزا نظر آئیں گے ۔ تاہم کورونا سے صحت یاب افراد میں پلازمہ عطیہ کرنے کا رجحان نظر نہیں آرہا ہے انہوں نے کورونا سے صحت یاب ہونے والوں سے درخواست کی کہ وہ ہیلپ لائن نمبر 6390 0333297 پر رابطہ کرکے پلازما عطیہ کرنے کے حوالے سے معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ایم ایس سروسز اسپتال کراچی ڈاکٹر سید فرحت عباس نے کہا کہ کورونا بیماری میں شرح اموات 22.3 فیصد ہے تاہم اگر سب کے ٹیسٹ ہوجائیں تو پھر بھی شرح تناسب ایک فیصد آئے گی انہوں نے کہا کہ عوام کو اس بیماری کے حوالے سے خوف زدہ ہونے یا گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس میں 80 فیصد تو ایسے لوگ ہیں جن میں کچھ علامات داخل بھی نہیں ہوتیں اور یہ وائرس ان سے ختم ہوجاتا ہے ۔ 20 فیصد میں سے 16فیصد ایسے ہوتے ہیں جن میں ان کی بھرپور علامات آتی ہیں جن کی اسپتال میں اس حوالے سے

آکسیجن اور ادویات فراہم کرکے طبی سہولتیں فراہم کردی جاتی ہیں جبکہ 3 فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے۔ ماہر معاشی امور امین ہاشوانی نےکہا کہ معیشت پر کورونا لاک ڈائون کا اثر آنے والے پانچ سال تک رہے گا ہمیں اس حوالے سے ایکسپورٹ میں کمی کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ شارٹ ٹرم ہے تو ایسا نہیں ہے ہم سب کو اس حوالے سے مل کر تیاری کرنا ہوگی