پنجاب: ہوم آئیسو لیشن کیلئے قواعد و ضوابط جاری

صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہوم آئیسولیشن کمیٹی کے اراکین کو نامزد کرے گا اور اس کا سربراہ اسسٹنٹ کمشنر ہوگا۔ سیکرٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری صحت نے ایس او پیز کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔

کمیٹی میں محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار شامل ہوں گے۔ شہری اور دیہی یونین کونسل کی سطح پر سب کمیٹیاں بھی تشکیل دی جائیں گی۔ کمیٹی ہوم آئیسولیشن کیلئے گھروں کے سائز اور اہلخانہ کی تعداد کی جانچ کے بعد اجازت دے گی۔ جس مریض میں کورونا کی ہلکی علامات ہوں گی وہی ہوم قرنطینہ کا اہل ہوگا۔

کورونا وائرس کے باعث اگر مریض کی حالت خراب ہو تو اسے ہوم قرنطینہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجازت سے پہلے کورونا مریض اور دیگر اہلخانہ کی تعلیم ، کورونا کے بارے میں عام آگہی، ہوم آئیسولیشن کی بنیادی ضروریات کے بارے علم کو بھی پرکھا جائے گا۔

فیاض الحسن چوہان نے بتایا کہ ہوم آئیسولیشن میں مریض روزانہ اپنی صحت کے متعلق اپڈیٹس محکمہ صحت کو بھجوانے کا پابند ہوگا اور محکمہ صحت کی ہدایت کے مطابق مریض طے کردہ طریقہ کار کے تحت اپنے ٹیسٹ بھی کرواتا رہے گا۔

کورونا کو مریض کو ہوم آئیسولیشن کے دوران ہر دس دن بعد اپنا ٹیسٹ کروانا ہوگا اور دو بار ٹیسٹ رپورٹ منفی آنے پر ہی مریض ہوم آئیسولیشن ختم کرسکے گا۔

دو بار منفی ٹیسٹ کرانے میں درمیانی مدت چوبیس گھنٹے ہونی چاہیے، ہوم آئیسولیشن کے دوران اگر دوسری بار بھی کورونا ٹیسٹ مثبت آئے تو دوبارہ ٹیسٹ اگلے پانچ دن بعد کروانا ہوگا۔

وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ ٹیسٹ کیلئے محکمہ صحت کا عملہ گھر سے سیمپل لے گا اور مریض کو حکومت سے منظور شدہ پرائیویٹ لیبارٹری سے بھی ٹیسٹ کرانے کی اجازت ہوگی۔

جن علاقوں میں ٹیسٹنگ سہولت میسر نہیں وہاں مریض کورونا کی علامات ختم ہونے کے بعد بھی مزید دو ہفتے کیلئے خود کو آئیسولیٹ رکھے گا۔

Courtesy hum news