مشھور منی چینجر شہباز شریف کے خلاف نیب میں وعدہ معاف گواہ بن گیا ۔کس کس نے شہباز شریف کو بڑی بڑی رقم دی؟

قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے خلاف قومی احتساب بیورو کی جاری تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے میاں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے حوالے سے قومی احتساب بیورو کو وعدہ معاف گواہوں کی جانب سے انتہائی چونکا دینے والی اہم معلومات مل گئی ہے وعدہ معاف گواہوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے تازہ ترین اضافہ ایک مشہور منی چینجر کا ہے

جس نے تمام تفصیلات اگل دی ہیں اور بتایا ہے کہ کس طرح شہباز شریف اور ان کے خاندان کے لوگوں نے پاکستان اور برطانیہ میں رقم کو وائٹ کیا ۔
پاکستان کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار رؤف کلاسرہ نے اس حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ نیب نے شہباز شریف کی پیشی کے دوران چار اہم معاملات پر انتہائی چونکا دینے والے سوال جواب ہوئے شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ انہوں نے 2005 اور 2006 کے دوران لندن میں یہ پراپرٹی خریدی تھی اس کے پیسے کہاں سے آئے تھے ۔
اس پر شہباز شریف نے تین نام بتائے جن میں سے دو نام میں آپ کے سامنے لارہا ہوں تیسرا نام کاغذات سامنے آنے کے بعد لوں۔ گا۔ شہباز شریف نے بتایا کہ 70 فیصد پیسے میں نے قرضہ لیا تھا اور 30 فیصد پیسے میرے اپنے تھے جو قرضہ لیا اس میں اسحاق ڈار کی بہو اسماء جو نواز شریف کے صاحبزادی ہیں ان سے پیسے لیے تھے اسی طرح ایک اجمل آسی صاحب ہیں ان سے پیسے لیے تھے اور تیسری شخصیت وزیراعظم عمران خان کے ایک دوست ہیں جنہوں نے پراپرٹی لندن میں خریدنے میں مدد دی ۔وہ عمران خان کے دوست ہیں بزنس مین ہیں لندن میں پاکستانیوں کی مدد کرتے ہیں لوکل اس نے کہا کہ اب یہ بات تو سامنے آگئی ہے کہ پاکستانی بزنس مین دونوں طرف کھیل رہے ہیں وہ عمران خان کو بھی خوش رکھتے ہیں اور شریفوں کو بھی پیسے دیتے ہیں جو زیرو آ جاتے ہیں ان کو سرسوں ٹکراتے ہیں وہ شاپنگ کر آتے ہیں تو خیال رکھتے ہیں اور اگر کسی کو جائیداد خریدی ہے تو اس کے لئے بھی پیسے دیتے ہیں ۔نیک کے بعد اب ان تمام لوگوں کے نام اور تفصیلات آچکی ہیں ۔
پھر شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ آپ کی اہلیہ نثر شہباز کے اثاثے ایک پہلے تو زیرو تھے اب سال 2018 میں ان کے اثاثے 25 کروڑ روپے ہوگئے ہیں یہ پیسے کہاں سے آئے تو شہباز شریف نے کہا کہ میری اہلیہ اس کا جواب خود دے گی آپ ان سے پوچھیں تو نیب حکام نے کہا کہ ہم نے بھلا چکے ہیں وہ تو آتی نہیں ہیں ۔اس پر روف کلاسرا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ کوئی عام خاندان ہوتا تو کیسے ممکن تھا کہ نیب لائے اور خاتون وہاں نہ جائے ۔لیکن یہ شہباز شریف کی اہلیہ ہیں اس لیے نیا بلاتا ہے اور یہ نہیں جاتی اور نئے کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔رؤف کلاسرا نے بتایا کہ انھیں 20 کروڑ روپے میں سے ماڈل ٹاؤن میں گھر کوئی گیا ایک مری میں اپارٹمنٹ خریدنے گیا اور دیوی نادانی جو ان کی دوسری اہلیہ ہیں ان کے لئے ایک گھر اسلام آباد میں خریدا گیا ۔
رؤف کلاسرا کے مطابق حبا شریف سے ایک اور سوال پوچھا گیا کہ دو صاحبان ہیں ایک کا نام نثار گل ہے اور دوسرے کا علی خان ۔کیا آپ ان دونوں کو جانتے ہیں شہباز شریف نے لازمی لازار کیا جس پر نئے حکام نے کہا کہ کمال ہے یہ دونوں صاحبان وزیراعلی ہاؤس میں اہم عہدے پر تھے اور آپ ان سے لاعلمی کا اظہار کر رہے ہیں اس پر شہباز شریف نے کہا کہ میرے علم میں نہیں ہے ۔رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ پتہ یہ چلا ہے کہ یہ دونوں صاحبان شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کے دوست ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کاروبار کرتے ہیں ان دونوں صاحبان کے نام پر کمپنی بنائی ہوئی تھی اور 18 لاکھ روپے کہ معاملات پر دستخط کوئی اور کرتا رہا ۔چیکوں پر جو دستخط ہوتے تھے وہ شریف خاندان کے جی ایم کرتے تھے ۔یہ کمپنی ڈیکلیئر نہیں کی گئی تھی اس حوالے سے پوچھتا شہباز شریف نے قسم کھا کر کہا کہ میرے علم میں اس کے کوئی معاملہ نہیں ہے پھر شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ جب وراثت کے حوالے سے جائیداد تقسیم ہوئی تو آپ کے حصے میں آیا تو انھوں نے بتایا کہ مجھے ایک شوگر ملی تھی اس پر ان سے پوچھا گیا کہ آپ نے ایک شوگرمل سے 14 کمپنیاں بنا لیں۔ اس پر شہباز شریف نے کہا کہ میرے بیٹے سلمان شھباز سارہ بزنس دیکھتے ہیں اس طرح کے سوالات آپ کون سے پوچھیں ۔لوکل اس نے اپنے تبصرے میں کہا کہ اب سلمان شہباز اپنے بیوی بچوں کے ساتھ لندن میں بیٹھے ہیں نئے نے بلاتا ہے وہ آتے نہیں ہیں ۔
رؤف کلاسرا نے مزید کہا کہ جو رقم وائٹ کی گئی اس کے بارے میں نیب کو ایک وعدہ معاف گواہ مل گیا ہے برطانیہ سے منی چینجر ہیں آفتاب ۔اس نے تمام تفصیلات بتا دی ہیں کہ کن لوگوں کے نام پر پیسے بھیجے جاتے تھے اور ٹرانسفر ہوتے تھے ۔مجسٹریٹ کے سامنے باقاعدہ اس شخص نے بیان دے دیا ہے
رؤف کلاسرا نے اپنے تبصرے میں کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ سلمان سے بازرگانی لانے سے پہلے جب نیب کے سامنے پیش ہوئے تھے تو انہوں نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ مشتاق چینی والے سے قرضہ لے کر انہوں نے بزنس کیا تھا ۔
مشتاق چینی والا بھی نیب کے پاس وعدہ معاف گواہ بن چکا ہے اور سرمان شہباز لندن بھاگ گئے ہوئے ہیں رؤف کلاسرہ کے مطابق نیب کے پاس چار وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں جنہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان دے دیا ہے اور بہت تھوس ریکارڈ سے باہر شریف اور ان کے خاندان کے لوگوں کے خلاف نیب کے پاس موجود ہے ایک اور معاملے کی تحقیقات بھی ہو رہی ہے سلمان شہباز نے کہا تھا کہ انہوں نے چوہدری منیر کی کمپنی سے قرضہ لیا وہیں چودھری منیر جو مریم نواز کے سمدھی ہیں اور جن کی کمپنی کو اسلام آباد ایئرپورٹ کے ٹھیکے ملے تھے ۔
رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے آپ کی پیشی کے موقع پر کافی مایوس نظر آئے اور کئی سوالوں کے جواب نہیں دے سکے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیں بھی یہ لگ رہا ہے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ سے ڈھیل نہ ہوسکی تو پھر ان کے اور ان کے خاندان کے لیے مشکلات پیدا ہوجائیگی ۔
لیکن وہ کلاسرہ کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح شریف خاندان اس مرتبہ بھی ڈیل کرنے کے قریب آچکا ہے اور اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کے معاملے پر شریف خاندان اپنے تمام مقدمات اور الزامات سے خود کو بچا لے گا ۔

یہ تمام الزامات مقدمات اور سب باتیں صرف ایک ترمیم کی مار ہیں صرف ایک ووٹ کی مار ہیں یہ ہے ہمارا پیارا پاکستان ۔