لوگوں سے لمبے عرصے تک روزگار نہیں چھینا جاسکتا : اسدعمر

اسد عمر نےپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے عبادت کے پہلو سے ماہ رمضان اچھا گزر رہا ہوگا، این سی سی میں قومی فیصلہ ہوا جو اچھی بات ہے۔ خوشی ہے قومی فیصلے مشاورت سے ہو رہے ہیں ۔ بڑے فیصلے ہو چکے ہیں اب عملدرآمد کامرحلہ ہے جو کہ صوبوں کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کیسز اوراموات میں اضافہ ہورہا ہے لیکن لمبے عرصے تک لوگوں سے روزگار نہیں چھینا جا سکتا، مکمل ملک بند کرنے کے بجائے مخصوص علاقوں پر فوکس ہوگا، ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جس سےزندگی اک پہیہ بھی چل سکے اور کورونا پر بھی قابو پا سکیں ۔سب ادارے ملکر اس مربوط نظام میں کام کر رہے ہیں ، کوشش کر رہے ہیں جتنی اس وبا سے حفاظت کی جا سکتی ہے کی جائے۔
وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ ملک بھر میں کل ساڑھے13ہزار ٹیسٹ ہوئے ہیں، آج پاکستان میں 70 لیب میں ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت موجود ہے، ٹیسٹنگ کٹس میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیاہے اوراب ہمیں دیکھنا ہے وہ کونسا علاقہ ہے جہاں زیادہ کیسز ہو رہے ہیں ،تمام پاکستان کو بند کرنے کی بجائے ان علاقوں کو بند کیا جائے ، کراچی میں زیادہ کیسز نظر آرہے ہیں ،لاڑکانہ اور کوئٹہ میں بھی کیسز رپورٹ ہورہے ہیں ، کے پی میں 177 ایسے علاقے ہیں جہاں سمارٹ لاک ڈاؤن کیا ہے۔
اسد عمر کا مزیدکہنا تھا کہ ملتان،لاہور سے اوپر جی ٹی روڈ کی بیلٹ میں کیسز زیادہ ہیں ، لاہور میں ٹھوکر کے پاس جوہر ٹاؤن ، پی آئی اے ہاؤسنگ سوسائٹی کا علاقہ میں کیسز زیادہ ہیں ، اس سلسلے میں کمانڈ اینڈ آپریشنل سینٹر مزید کام کر رہا ہے ،شہر میں انتظامیہ کی ٹیم جائزہ لے گی کہ کتنی گلیوں کو بند کرنا یا یونین کونسل کو جہاں کیسز زیادہ ہیں ،پنجاب میں 359 ایسے علاقے ہیں جہاں لاک ڈاؤن کیا ہے ۔
اسد عمر نے کہا کہ کورونا سے متعلق صحت کے ڈیٹا کے لئے ایک پورٹل بن چکا ہے ۔ایپ سے شہری معلوم کرسکیں گے کہ انہیں کس ہسپتال جانا ہے ،ہسپتالوں میں بستروں کی کمی نہیں ہے، ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی تکلیف کا وزیراعظم کو احساس ہے ، سب لوگ مل کر انفرادی کوششوں سے کورونا کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں

Courtesy GNN Urdu