سعودی ڈاکٹر نے انسانی ہمدردی کی مثال قائم کردی

جدہ کے کنگ فہد اسپتال میں کام کرنے والے ایک سعودی ڈاکٹر نے مثال قائم کرتے ہوئے اپنے مریض کو دوا دینے کے لیے 240 کلو میٹر کا سفر کیا۔

مذکورہ نوجوان جدہ سے 240 کلو میٹر دور اللیث کمشنری کے دیہی علاقے غمیقہ میں ایک حادثے کا شکار ہو کر معذور ہوگیا تھا۔

چند دن پہلے نوجوان نے اپنے معالج سے فون پر رابطہ کر کے بتایا کہ اس کی ادویات ختم ہونے والی ہیں اور وہ کرفیو کی وجہ سے اسپتال آ کر دوا نہیں لے سکتا، اگر آن لائن سسٹم کے تحت یا کوریئر کمپنیوں کے ذریعے اسے دوا ارسال کردی جائے تو بہت اچھا ہوجائے گا۔

ڈاکٹر نے آن لائن سسٹم کے ذریعہ دوا لکھنے کی کوشش کی مگر معلوم ہوا کہ نوجوان کا آن لائن سسٹم ابشر میں اکاؤنٹ نہیں ہے، ڈاکٹر نے دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہوئے کوریئر کمپنیوں سے رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ دوا پہنچانے میں کئی دن لگ سکتے ہیں۔

اب ڈاکٹر کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ خود 240 کلو میٹر کا سفر کر کے خود غمیقہ جائے اور وہاں پہنچ کر دوا مریض کو فراہم کر دے چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

مریض کا کہنا ہے کہ ایک دن اچانک مجھے میرے ڈاکٹر کا فون آگیا اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں غمیقہ میں ہوں، مجھے اپنے گھر کا لوکیشن بھیج دیں۔

نوجوان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے محض دوا پہنچانے کے لیے اتنا بڑا سفر کر کے خود کو تکلیف میں ڈالا حالانکہ یہ ان کے فرائض میں نہیں تھا، میرے پاس ڈاکٹر کے شکریہ کے لیے الفاظ نہیں، میں کس طرح ان کے احسان کا بدلہ چکاؤں گا۔

اس نے کہا کہ یہ ڈاکٹر کی انسانیت نوازی ہے کہ انہوں نے محض ایک مریض کے لیے اتنی زحمت اٹھائی۔

Courtesy Ary Urdu