سندھ حکومت انتظامی معاملات میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے: مراد سعید

وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کا کہنا ہے کہ فرزند زرداری اور سندھ حکومت سے چند سوالات کرنا چاہتا ہوں، سندھ حکومت انتظامی معاملات میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔

مراد سعید کا کہنا تھا کہ سندھ کے ایک وزیر نے کہا کہ ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو راشن پہنچا دیا، دوسرے نے کہا 3 لاکھ، تیسرے نے کہا ساڑھے 5 لاکھ لوگوں کو راشن دیا۔ کسی کو معلوم نہیں راشن کے نام پر کروڑوں روپے کہاں گئےوفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ 550 ارب صحت پر لگتے تو کیا لاڑکانہ میں بچے کتے کے کاٹے سے مرتے، ہم کہتے ہیں لاڑکانہ اور سندھ کتوں کی زد میں ہیں تو آپ گالیاں دیتے ہیں، صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے آپ کو جواب دینا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر کی جان بچانے کے لیے وینٹی لیٹر کیوں نہیں دیا گیا، سندھ کے اسکولوں میں بچوں کے بجائے کتے اور گدھے کھڑے ہیں۔ نہ اسکول میں سہولتیں اور نہ اسپتال میں انتظامات، 550 ارب کہاں خرچ کردیے؟

مراد سعید کا کہنا تھا کہ آپ کہتے ہیں کہ مجھ سے سوال پوچھنے کی ہمت کون کرے گا، بلاول کے والد نے بھی کہا تھا نیب کون ہوتا ہے جو مجھ سے سوال کرے، کیا آپ خود کو فرعون سمجھتے ہیں یا سندھ کو اپنی جاگیر سمجھ رکھا ہے؟

انہوں نے کہا کہ کراچی جیسے شہر کو کچرے کا ڈھیر بنا دیا پھر کہتے ہیں مجھ سے سوال نہ کریں، ہم آپ کے غلام نہیں یا سندھ کابینہ میں نہیں جو آپ سے سوال نہ کریں۔ تھر کے بچوں کی اموات کے ذمہ دار آپ ہیں اس کا جواب دینا ہوگا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ لوگوں کو دھمکانے کی ایک ہی وجہ ہے پیسہ سندھ کی ترقی پر نہیں لگا، سندھ کی ترقی پر لگنے والا سارا پیسہ زرداری کے فیک اکاؤنٹ میں چلا گیا، سندھ میں راشن کا پیسہ غائب، گندم اور آٹا غائب، اسکولز میں فرنیچر غائب، اسپتالوں سے وینٹی لیٹرز غائب ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ عوام سے کہتا ہوں 128 صفحات کی جے آئی ٹی رپورٹ پڑھ لیں، سب کو پتہ چل جائے گا مراد علی شاہ زرداری کی کرپشن کا سہولت کار کیسے بنا

Courtesy ary news