وزیر اعظم ہائوس پر ’’قبضہ‘‘ کرنے کی تیاری

29اور30اگست 2014کی درمیانی شب تحریک انصاف اور تحریک انصاف کے کارکن وزیر اعظم ہائوس پر ’’قبضہ‘‘ کرنے کی تیاری

کر رہے تھے۔ وزیر اعظم ہائوس کا ’’ مکین ‘‘جاتی امرا جا چکا تھا جبکہ وزیر اعظم ہائوس میں صرف پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور ملٹری سیکرٹری موجود تھے۔ اس دوران وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان وزیر اعظم ہائوس پہنچ گئے۔ انہوں نے ان سے وزیر اعظم ہائوس کی سکیورٹی کے بارے میں استفسار کیا تو وہ مطمئن نہ ہوئے انہیں صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وزیر اعظم ہائوس سے چلے جانے کا مشورہ دیا لیکن ’’چکری کا راجپوت ‘‘ وزیر اعظم ہائوس سے چلے جانے پر آمادہ نہ ہوا وہ وہاں سے سیدھے شاہراہ دستور پر اس مقام پر جا کھڑے ہو گئے جہاں پولیس نفری وزیر اعظم ہائوس کی جانب جانے والے راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی تھی ۔پولیس کے جوانوں نے اپنے درمیان وزیر داخلہ کو دیکھ کر جوش جذبات میں ’’چوہدری نثار علی خان زندہ باد ‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دئیے‘

اس وقت کے ایس ایس پی آپریشن محمد علی نیکو کار نے تو دھرنے کے شرکاء کیخلاف کارروائی کیلئے تحریری احکامات جاری کرنے کا انوکھا تقاضا کر دیا۔ اس حکم عدولی پر محمد علی نیکو کار کو برطرفی کی سزا دی گئی اس وقت کے آئی جی پولیس بھی کسی کارروائی کے تیار نہیں تھے وہ بھی رخصت پر چلے گئے انکی جگہ طاہر عالم کو آئی جی لگایا گیا۔ چوہدری نثار علی خان اور عمران خان ایچی سن کالج میں زمانہ طالب علمی ہم جماعت تھے ۔ان کی عمران خان سے میاں نواز شریف سے بھی پرانی دوستی ہے لیکن سیاست دونوں کی الگ الگ رہی وہ عمران خان کو برملا یہ بات کہا کرتے تھے کہ میں نے نواز شریف کے ساتھ34،35سال گذار دئیے ان کے ساتھ ایک دن بھی نہیں گذار سکتا۔


انہوں نے دھرنا سے دو اڑھائی ماہ قبل بنی گالہ میں میاں نواز شریف کو عمران خان کی ’’قیام گاہ ‘‘ پر لے گئے‘ دونوں نے جس طرح ایک دوسرے سے تعلقات کی تجدید کی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ آئندہ سیاست میں خوشگوار دور کا آغاز ہونے والا ہے لیکن دو اڑھائی ماہ بعد ہی عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد پر چڑھائی کا اعلان کرکے چوہدری نثار علی خان کی کوششوں پر پانی پھیر دیا چوہدری نثار علی خان اور عمران خان کے درمیان دیرینہ تعلقات کار قائم تو تھے ہی دونوں کے درمیان اسلام آباد کے اطالوی ریستوران میں ’’اتفاقیہ‘‘ ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں جنہیں دونوں خود ہی لیک بھی کر دیا کرتے تھے میاں نواز شریف چوہدری نثار علی خان اور عمران خان کے درمیان دوستی میں کبھی حائل نہیں ہوئے لیکن چوہدری نثار علی خان عمران خان پر ذاتی نوعیت کے حملے کرنے کیلئے کبھی تیار نہیں ہوئے یہی وجہ ہے مسلم لیگ (ن) کے اندر چوہدری نثار علی خان کی مخالف لابی میاں نواز شریف کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتی رہتی کہ وہ عمران خان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور آپ کی جگہ لینا چاہتے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان میاں نواز شریف کو اپنا قائد تو تسلیم کرتے تھے لیکن ان کی زیادہ دوستی میاں شہباز شریف کے ساتھ تھی میاں نواز شریف سے کوئی بات منوانی ہو تو دونوں مل کر انکے پاس جاتے اور انہیں ’’ڈھیر‘‘ کر لیتے رواں ہفتہ مسلم لیگ(ن) کے نائب صدر میاں جاوید لطیف نے 2014ء میں تحریک انصاف کے دھرنے میں چوہدری نثار علی خان پر ’’ سہولت کار‘‘ کا کردار اد کرنے کا الزام عائد کر کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے ۔

جب عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے 2014ء میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا تو یہ چوہدری نثار علی خان ہی تھے جنہوں نے میاں شہباز شریف کو مشورہ دیا کہ ان کے جلوس کو لاہور سے باہر جانے نہ دیا ئے لیکن میاں شہبا ز شریف سانحہ ماڈل ٹائون دہرانا نہیں چاہتے تھے ان کا موقف تھا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی وجہ سے پہلے ہی پولیس کے حوصلے پست ہو چکے ہیں اس لئے انہوں نے طاقت کے استعمال کی مخالفت کی دلچسپ امر ہے کہ چوہدری نثار علی خان نے لانگ مارچ کے شرکاء کو جی ٹی روڈ پر روکنے کی تجویز دی اس کیلئے انہوں نے کچھ پلوں کی نشاندہی بھی کی لیکن انکی بات نہیں مانی گئی۔ میں نے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کا ’’مارچ اور دھرنا‘‘ کور کیا ہے چوہدری نثار علی خان کو کئی سال سے کور کر رہا ہوں اس لئے اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں ہونے والے اجلاسوں کی اندرونی کہانیاں سے بخوبی آگاہ ہوں۔ میاں نواز شریف مارچ کے شرکاء کو ڈھیل دینے پر تلے ہوئے تھے‘ انہیں اس وقت اپوزیشن کے کچھ رہنمائوں نے بھی یقین دہانی کرا رکھی تھی کہ دھرنا دینے والے کچھ دنوں کے بعد خود بخود واپس چلے جائیںگے لیکن چوہدری نثار علی خان بار بار میاں نواز شریف کو مارچ کے شرکاء کے ’’ریڈ زون ‘‘ میں داخل ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے خبر دار کر رہے تھے میاں نواز شریف کی زیر صدارت فیصلہ کیا گیا کہ جلوس کے شرکاء کو ’’ریڈ زون‘‘ کی طرف نہیں بڑھنے دیا جائے گا غالباً18یا 19اگست 20214ء کو مارچ کے شرکا ء ریڈ زون کی طرف بڑھنے لگے تو چوہدری نثار علی خان نے پولیس کو کارروائی کا حکم دیا لیکن وزیر اعظم ہائوس سے پولیس کو کارروائی نہ کرنے کا براہ راست حکم جاری کر دیا گیا۔ اس طرح مارچ کے شرکاء کسی مزاحمت کے بغیر ریڈ زون میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے اسی رات وزیر اعظم ہائوس میں ہونیوالے5،6رہنمائوں کے اجلاس میں چوہدری نثار علی خان نے مارچ کے شرکا ء کو ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر میاں نواز شریف سے شدید احتجاج کیا اور واک آئوٹ کر دیا لیکن میاں صاحب نے یہ کہہ کر کہ خون خرابے سے بچنے کیلئے اجازت دی گئی ہے‘ انکے احتجاج کونظر انداز کر دیا۔ 29اور30اگست 2014ء کو مارچ کے شرکاء کو آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے استعمال سے روکنے پر ہر میٹنگ میں چوہدری نثار علی خان کی تعریف کی جاتی تھی جب عمران خان نے پہلی بار ملکی سیاست میں ’’لاک ڈائون ‘‘ کا لفظ متعارف کرایا تو2نومبر2016ء کو یہ چوہدری نثار علی خان ہی تھے جنہوں نے خیبر پختونخوا سے آنے والے قافلوں کو روکنے کی کارروائی کی قیادت کرنے کیلئے پنجاب ہائوس اسلام آباد سے روانہ ہونے لگے تو پولیس افسران کی ’’ غیرت‘‘ جاگ اٹھی اور گولی چلائے بغیر 8،10ہزار افراد کے ’’سیاسی لشکر ‘‘کو پتھرگڑھ پر روک دیا۔عمران خان کو بنی گالہ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا ۔ عمران خان نے ایک موقع پر پی ٹی آئی کے کاکنوں کی ٹھکائی کرنے پر چوہدری نثار علی خان سے شدید ناراضی کا اظہار بھی کیا۔ دھرنا روکنے پر میاں نواز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں چوہدری نثار علی خان کی جس طرح تعریف وتوصیف کی وہ ریکارڈ کا حصہ ہے میں نے اڈیالہ جیل راولپنڈی میں میاں نواز شریف سے ملاقات کے دوران استفسار کیا کہ کہ’’ انکے اور چوہدری نثار علی خان کے درمیان اختلافات کی اصل وجہ کیا ہے‘‘ تو انہوں نے یہ کہہ کر کہ اس معاملہ پر پھر کبھی بات کروں گا اصل وجہ بتانے سے گریز کیا چوہدری نثار علی خان بھی کوئی بات بتانے گریزاں ہیں بس اتنا کہتے ہیں میں اپنے سینے کے راز کسی کو بتا نہیں سکتا بہرحال کسی مناسب وقت پر میاں نواز شریف اور چوہدری نثار علی خان کے اختلافات پر قلم اٹھائوں گا
m-nawaz-raza-nawaiwaqt