دشمن ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے اور ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں

مقبوضہ کشمیر میں ریاض نائیکو بھارتی فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ وادی کو ظالم بھارتی فوج کے تسلط سے آزاد کروانے کے لیے یہ پہلی شہادت ہے نہ آخری۔ یہ سلسلہ نجانے کب ختم ہو گا اور کب جنت نظیر کشمیر میں بسنے والوں کو آزاد فضاؤں میں سانس لینا نصیب ہو گا۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے بہادر قومیں قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتی آئی ہیں

اور دنیا کی تاریخ میں سب سے زیادہ انسان آزادی حاصل کرنے کے لیے لڑتے لڑتے دنیا سے گئے ہیں۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی بھی تاریخ کا حصہ ہے ایک متنازع علاقہ جہاں اقوام متحدہ بھی بے بس ہے اور عالمی امن کے نام نہاد دعویداروں کی آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ بھارتی فوج طاقت اور اسلحے کے زور پر کشمیری نوجوانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، معصوم بچوں پر تشدد ہو رہا ہے، خواتین کی عصمت دری کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔ یقیناً پانچ اگست دوہزار انیس سے جاری لاک ڈاؤن، کرفیو اور کشمیر کی حیثیت میں تبدیلی کے بعد بھارتی حکومت نے کشمیریوں کی زندگی میں سختی کو اگلے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو چن چن کر آزادی کی کوششوں کی سزا دی جا رہی ہے۔

ریاض نائیکو کی شہادت نے تکلیف پہنچائی لیکن اس کی تدفین کی خبر شہادت سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔ بھارتی فوج نے شہداء کے جسد خاکی ورثاء کے حوالے کرنے کے بجائے خود ہی تدفین کا سلسلہ شروع کیا ہے یہ فیصلہ حریت پسندوں کے جنازوں میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شرکت کے خوف سے کیا گیا ہے۔ امت پر کیا وقت آ گیا ہے کہ کفار نے ایک طرف مسلم علاقوں پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے تو دوسری طرف شہداء کے ورثاء کو ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی بھی اجازت نہیں ہے، دوست احباب اپنے پیارے کا آخری دیدار بھی نہیں کر سکتے ظالموں نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ بڑے بڑے جنازوں کو دیکھ کر کہیں تحریک آزادی میں شدت نہ آئے، نوجوان متاثر ہو کر آزادی کی جنگ کا حصہ نہ بننے لگیں۔ کیا دنیا میں امن قائم کرنے اور لوگوں کو تہذیب سکھانے والوں کو یہ ظلم نظر نہیں آ رہا کہ مسلمانوں کو اپنے پیاروں کے جنازوں کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یہ موجودہ دور کے ہٹلر بھارت میں ہندوتوا کو فروغ دینے والے ہمارے ہمسائے دشمن ملک بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کے دور میں ہو رہا ہے۔ دنیا سوئی ہوئی ہے اور نریندرا مودی تیزی سے آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کی زندگیوں سے کھیلتا جا رہا ہے۔ کشمیر ہر غیر جانبدار رہنے والے ماہرین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر میں نوجوانوں کے پاس ہتھیار اٹھانے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا جب انہیں اظہارِ رائے کی آزادی نہیں دی جاتی ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر وہ بندوق کا راستہ اختیار کرتے ہیں قابض بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کرتے ہیں اور اپنی زمین کو ظالموں سے آزاد کروانے کی کوششوں میں موت کو خوشی سے گلے لگاتے ہیں۔

کشمیریوں پر بھارت کا ظلم دہائیوں سے جاری ہے لیکن نئی پالیسی میں شہداء کے ورثاء کو نماز جنازہ سے دور رکھنا پتھر کے دور کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ہماری تاریخ تو قطعاً ایسی نہیں ہے کہ مسلمانوں کو شہید کیا جا رہا ہو، شہداء کی بیحرمتی کی جا رہی ہو اور جنازوں کی بھی اجازت نہ ہو اور دنیا بھر کے مسلمان خاموش رہیں۔ کسی کو بڑی سرمایہ کاری کا نقصان نظر آ رہا ہو، کسی کو تجارتی سرگرمیاں بند ہونے کا خوف کھا رہا ہو اور کوئی کسی کے ناراض ہونے کے خوف سے خاموش ہے۔

ایک طرف ہم پاکستان ٹیلی ویڑن پر غازی ارطغرل دیکھ رہے ہیں وہاں تو مسلمانوں کے دشمنوں کو ناکے چنے چبوائے جا رہے ہیں۔ وہاں تو شاندار روایات نظر آتی ہیں، شہداء تو بہت دور کی بات ہے وہ تو اپنے فوجیوں کے اغواء کا بھی بدلہ بھی لیتے ہیں، وہ مجاہدین جنہوں نے صلیبیوں کو ناکوں چنے چبوائے، منگولوں کو شکست فاش دی انہوں نے تو مسلمانوں کی حفاظت کا ایک الگ ہی منظر پیش کیا تھا۔ آج جب ہم ان کے کارناموں اور جنگوں پر مبنی ڈرامہ سیریل دیکھ رہے ہیں تو کتنی شرمندگی محسوس ہو رہی ہے کہ وہ تعداد میں کم ہیں، ہتھیاروں میں کم ہیں، وسائل میں کم ہیں لیکن جذبہ ایمانی میں اپنے سے کئی گنا بڑے دشمنوں سے ٹکرا رہے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کو پہنچائی جانے والی تکالیف کا بدلہ لیتے ہیں، دشمنوں کو ان کے گھروں میں گھس کر مارتے ہیں اور آج ہم کیا دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر میں شہید ہونے والوں کے ورثا کو ان کی نمازہ جنازہ پڑھنے کے بھی اجازت نہیں ہے۔ یااللہ ہم پر رحم کر دے ہم اپنے ان جوانوں کو کیا جواب دیں گے۔ ہر طرف ظلم برپا ہے اور مسلم امہ خاموش ہے۔ یہ سب بڑے بڑے رہنما اپنی طاقت کا حساب کیسے دیں گے، کسی کے پاس کہنے کو کچھ ہو گا۔

دشمن ہمارے گھروں تک پہنچ چکا ہے اور ہم ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں مسلم امہ اب بھی متحد نہ ہوئی تو ان کے ازلی دشمن ایک ایک کر کے سب پر حملہ آور ہوں گے دشمن متحد بھی ہو گا، دشمن بے رحم بھی ہو گا، دشمن ظالم بھی ہو گا وہ کسی کو نہیں چھوڑے گا ہم کب تک ٹکڑوں میں تقسیم اپنے پیاروں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے۔

دشمن ہمیں نشانہ بنا رہا ہے بلوچستان میں دہشت گردوں کی آمدورفت روکنے کیلئے ایف سی کی پٹرولنگ کرنے والی گاڑی کو آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا ہے واقعہ میں ایک افسر اور پانچ جوان شہید ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی فورسز کی یہ گاڑی ضلع کیچ میں پاک ایران سرحد سے چودہ کلومیٹر کے فاصلے پر بلیدہ نامی علاقے سے معمول کا گشت کر کے واپس آ رہی تھی کہ اسے آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا۔ اس گشت کا مقصد مکران کے اس انتہائی دشوار گزار علاقے میں دہشت گردوں کی آمد و رفت کے ممکنہ راستوں کی نگرانی کرنا تھا۔ میجر ندیم عباس بھٹی، حافظ ا?باد، نائیک جمشید، میانوالی، لانس نائیک تیمور، تونسہ شریف، لانس نائیک خضر حیات، اٹک، سپاہی ساجد، مردان، اور سپاہی ندیم، تونسہ شریف نے جام شہادت نوش کیا۔ شہید ہونے والے میجر ندیم عباس کا تعلق گائوں برج دارا سے ہے۔ میجر ندیم پی ٹی آئی کے ایم این اے شوکت علی بھٹی کے کزن اور سابق وفاقی وزیر لیاقت عباس کے بھتیجے تھے۔ میجر ندیم عباس نے چودہ اپریل 2007ء کو کمیشن حاصل کیا۔ وہ 126ونگ مکران میں تعینات تھے۔ وطن کے محافظ ارض پاک کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیے جا رہے ہیں۔ دشمن حملے کر رہا ہے، دشمن نشانہ بنا رہا ہے، ہمیں یہ سمجھ جانا چاہیے کہ یہ جنگ مذہب کی بنیاد پر ہے۔ آج پاکستان کا وجود انہی قوتوں کو کھٹک رہا ہے جو کئی سو سال پہلے غازی ارطغرل کے مد مقابل تھیں ہمیں اتحاد کے ساتھ ان قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے۔ ہمیں ان دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانا ہے اور اگر کوئی اپنی حدیں عبور کرتا ہے تو پھر اسے ایسے سبق سکھانا ہے کہ نسلیں یاد رکھیں۔ یہ وطن ہمیں کسی نے تحفے میں نہیں دیا اس وطن کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے بزرگوں نے بیپناہ قربانیاں دی ہیں۔ چند روز قبل وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی دنیا کی توجہ بھارتی انتہا پسندی کی طرف دلائی تھی۔ وزیراعظم بار بار دنیا کو خبردار کرتے ہوئے اپنا فرض نبھا رہے ہیں لیکن کب تک تحمل کی یہ پالیسی کام آ سکتی ہے وزیراعظم جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اور دشمن نے سرحد عبور کی تو پھر دنیا اس کے نتائج بھگتے گی۔ افواج پاکستان وطن کے چپے چپے کی حفاظت کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے وقت آنے پر دشمن کو کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ پاکستان زندہ باد
M-AKRAM-CHAUDHARY-NAWAIWAQT